تلہ گنگ کو مسیحا کی ضرورت۔۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

تلہ گنگ کو مسیحا کی ضرورت۔۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

تلہ گنگ میں توڑ پھوڑ کا عمل اکثر جاری رہتا ہے ۔ کبھی کوئی صاحب بہادر آکر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے کہ تو کبھی حکومتی محکمے اپنی ناقص حکمت عملی اور نااہلیوں کی بدولت شہر میں توڑ پھوڑ کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پبلک ہیلتھ اور ہائی وے جیسے محکمے اپنی ناقص کارکردگیوں کی وجہ سے شہر کی مسائل میں اضافہ کا باعث ہی بنتے نظر آتے ہیں۔ مویشی ہسپتال کے پاس چکوال روڈ پر تقریبا ایک فرلانگ طویل سڑک کو مرمت کر نے کا عمل کئی مہنیوں پر محیط ہو ا۔ جس کی وجہ سے کئی حادثات بھی ہوئے مگر متعلقہ محکمہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ شہر میں کئی جگہوں پر سیوریج کے شدید مسائل کی وجہ سے کئی گلیاں تالاب بنی ہوئی ہیں مگر متعلقہ محکمہ بے فکر ہے۔ ہم لوگ بڑی آسانی سے ہر مسئلہ کا ذمہ دار میونسپل کمیٹی کو ٹھہرا کر دیگر محکموں کی کارکر دگی پر نظر ڈالنا مناسب ہی نہیں سمجھتے۔ اسی وجہ سے یہ محکمے ہمیشہ عوامی تنقید سے محفوظ رہتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے ان کی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو ا۔ سابقہ حکمرانوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شہر میں سٹریٹ لائٹس کا معاملہ ایک عرصے سے لٹک رہا ہے ۔ وہ سٹریٹ لائٹس جو شہرکی مرکزی شاہراہ کوکبھی روشن نہ کر سکی اب اس کو تبدیل کر نے کے لئے کئی قانونی سقم موجود ہیں۔ واٹر میٹرز کی تنصیب ہو یا ٹریفک سگنلزکو لگانے کا مسئلہ ہو۔ جن سے آج تک شہر کے لوگ مستفیظ نہیں ہو سکے۔ مگر من پسند لوگ ضرور نوازے گئے۔ شہر میں پارک ایک ہے کھیلوں کا میدان ایک ہے ، لائبریری ایک بھی نہیں اور آبادی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن من پسند قمیتیں ضرور وصول کی جارہی ہیں۔ سبزی پھلوں کی قیمتیں مندیال چوک سے لیکر صدیق آباد چوک تک ہر چند میٹرز کے بعد مختلف ملیں گی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر ٹھیلے اور دکان والوں نے ریٹ لسٹیں بھی رکھی ہوتی ہیں مگر نرخ ان کے اپنے ہو تے ہیں۔ اگر بحث کی جائے تو جواب آتا ہے کہ یہ لسٹیں غلط بنائی جاتی ہیں اور زیادہ بحث کی صورت میں وہ احباب بد تمیزی پر بھی اتر آتے ہیں۔ انتظامیہ کو اس ضمن میں سنجیدگی سے کام کر نے کی ضرورت ہے کیو نکہ من پسند نرخ عوام کی روز مرہ زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ سابقہ مقامی حکومت جو نعرے لیکر آئی تھی وہ پورے نہ ہو سکے اب دیکھیں نئے نظام میں کیا پھول کھلتے ہیں۔ نیانظام تو مشکل ہی اتنا ہے کہ پہلے 4سال تو شاید اس کو سمجھنے میں گذر جائیں اور اس کے بعد اگر وہ نظام بچ پایا تو کیا پتا کوئی فائدہ عوام کے حصے میں آئے۔ نئے نظام کے حوالے سے حکومتی اداروں میں کچھ ہلچل تو نظر آرہی ہے۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین