میونسپل کمیٹی کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔تحریر : شفاعت ملک

میونسپل کمیٹی کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔تحریر : شفاعت ملک

تلہ گنگ کے مسائل کا ذمہ دار اکثر میونسپل کمیٹی کو ٹھہرایا جاتا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔ آگاہی کی کمی کی وجہ سے ایک ہی ادارے پر ملبہ ڈال دیا جاتا ہے۔ شہر کے بڑے مسائل میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام کی نگرانی تو میونسپل کمیٹی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے مگرپانی اور سیوریج کے نظا م بنانا محکمہ پبلک ہیلتھ کا کام ہے ۔ٹیوب ویلز کھدوانا اور اس کو چلانا ، پانی کی ترسیل کے معالات کودیکھنا اور سب اچھا کر کے میونسپل کمیٹی کے حوالے کرنا پبلک ہیلتھ کا کا م ہے۔ پانی کی ٹینکیوں تک ٹیوب ویل کے پانی کو پہنچانا بھی اسی محکمے کا کا م ہے۔ اس وقت بھی 5-6ٹیوب ویلز ایسے ہیں جن پر سالوں پہلے سے کا م جاری ہے اور ابھی تک میونسپل کمیٹی کے حوالے نہیں کئے گئے۔ 2پانی کی ٹینکیاں بھی تعمیر ہو کر منہ چڑا رہی ہیں۔ لاکھوں روپے خر چ کئے جا چکے ہیں مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ اب سیوریج کو ہی لے لیجیے تلہ گنگ چکوال روڈ پرجی پی او سے مویشی ہسپتال تک ، فاطمہ جناح روڈ پر قادر چوک سے جعفریہ چوک تک کی سیوریج سالوں پہلے ڈالی گئی مگر ابھی تک استعمال کے قابل نہیں بلکہ ایک دن بھی اس میں سے نکاسی نہ ہو سکی۔ کروڑوں روپے زمین میں دفن ہو چکے مگرعوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔یہ معاملات سالوں سے چل رہے ہیں مگر آج تک کسی سیاسی رہنمانے ان معاملات کو نہیں اٹھایا اور نہ ہی اس ضمن میںکبھی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔وجہ کچھ بھی ہو ہمیں اتنا پتہ ہے کے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجودعوام کی زندگیوں میں کوئی آسانی نہ آ سکی۔ تلہ گنگ کے بڑے بڑے نام سیاست میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ مگر ان بنیادی مسائل پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ ان مسائل کی وجہ اگر کوئی سرکاری ادارہ ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان سب سیاسی اکابرین کا بھی اتنا ہی قصور ہے جنہوں نے عوا م کے مسائل کے حل میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہ کیا ۔آنیوالے دنوں میں دیگر محکموں کی کارکردگی بھی آپ کے ساتھ شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھوں گا ۔عوامی دباﺅ بھی حکومتی کارکردگی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔پیسہ لگنے کے باوجود ہمارے مسائل کا جوں کا توں ہوناناقص منصبوبہ بندی کا نتیجہ ہو تا ہے جس کا تذکرہ بارہا کر چکا ہوں ۔ اب مویشی ہسپتال کے قریب پبلک ہیلتھ کی وجہ سے سڑک ایک عرصے سے خراب تھی جس پر آج کل کا م ہو رہا ہے ۔ اب اس معاملے میں تاخیر چاہے پبلک ہیلتھ کی ہو یا ہائی وے کی مگر عوا م نے ایک لمبا عرصہ اس مسئلے کو برداشت کیا اور اور اب پتہ نہیں کیوں اس تعمیراتی کام کو بہت آہستگی سے کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مٹی اور گرد نے عوام کی زندگی کو اجیرن کیا ہوا ہے۔ اگر کسی نہ سجھ میں آنیوالی تکنیکی وجہ سے کا م میں تاخیر ہے تو دن میں ایک دو بار پانی کے چھڑکاﺅ سے حالات کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین