تبدیلی سرکار خاموش ۔۔عوامی مسائل کب حل ہوں گے۔تحریر : شفاعت ملک

تبدیلی سرکار خاموش ۔۔عوامی مسائل کب حل ہوں گے۔تحریر : شفاعت ملک

ملک میں تبدیلی کا شور تو بہت ہے مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آتا۔تلہ گنگ میں تبدیلی کا نعرہ پی ٹی آئی سے پہلے ق لیگ نے پچھلے بلدیاتی انتخابات میں خوب زوروں سے لگایا اور ان کی جیت میں جہاں ن لیگ کے اندرونی اختلافات کا ہاتھ تھا وہاں تبدیلی کے نعرے نے بھی اپنا خوب کردار ادا کیا ۔ بلدیاتی ادارے ختم بھی ہو گئے مگر ہمیں ابھی تک وہ تبدیلی نظر نہ آئی ۔ شہر جیسا تھا ویسا ہی ہے ۔صفائی کے معاملات ہوں، سیوریج ہو، صاف پانی کی فراہمی ہو،ٹوٹی پھوٹی گلیاں اور سڑکیں ہوں، پارک کی خراب حالت ہو ، سب ویسا ہی ہے ۔سٹریٹ لائٹس نہ پہلے جلتی تھیں اور نہ اب۔صفائی کے عملہ کی اکابرین کے ڈیروں پر ڈیوٹیوںکی کہانیاں پہلے بھی تھیں اور اب بھی ہیں۔ تبدیل ہوئے تو شاید صرف چہرے۔ اب کی بار سیاسی زعما شاید کسی اور نعرے کے ساتھ آئیں گے اور ہم پھر سے فتح ہو جائیں گے۔ جیتیں گے وہ ہی ، ہم ہاریں گے۔ تاریخ تو کچھ ایسی ہی ہے۔ خیر اچھے کی امید رکھنی چاہیئے اور میں ہمیشہ سے ہی کہتا آیا ہوں کہ اب وقت ہے اپنے آپ کو بدلنے کا، اپنی ترجیحات مقرر کرنے کا ،اچھے نمائندوں کو موقع دینے کا، اپنی ذمہ داریاں ادا کر نے کا۔ اگر ہمیں اپنے حقوق صحیح سے نہیں مل رہے تو ہمیں اپنے فرائض تو صحیح سے ادا کر کے دیکھنا چاہیئے ۔فرق تو تب ہی پڑے گا حقیقی تبدیلی تو تب ہی آئے گی۔ مجھے ذاتی طورپر کسی بھی سیاسی رہنما کی نیت پر شک نہیںکہ وہ جان بوجھ کر علاقے کی بھلائی نہیں چاہتا اور وہ ایسا کر بھی نہیں سکتے کیو نکہ انہوں نے پھر عوام کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کو عوام میں اچھے نام سے نہ پکارا جائے ۔ ہاں مگر درباریوں کی پسند نا پسند ضرور آڑے آتی ہے جس سے مسائل بنتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ سیاسی رہنماﺅں کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے اور ان کو تمام مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔ مگر ایسا اب نہیں ہو پا رہا اور شاید اس کی وجہ قائدین کے عوام سے براہ راست رابطہ کی کمی ہے ۔ اور درباری اپنے من پسند لوگوں کو ہی قائدین تک رسائی دیتے ہیں۔ اب اس سارے مسئلے میں درباریوں کا ہی سارا قصور نہیں ہے قائدین کو بھی ادراک ہو نا چاہیئے جو کہ بد قسمتی سے نہیں ہے۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین