بلدیاتی نظام ختم حالت نہ بدلی۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

بلدیاتی نظام ختم حالت نہ بدلی۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

بلدیاتی نظام ختم تو ہو گیا مگر اپنے پیچھے کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ تلہ گنگ کی میونسپل کمیٹی اپنے سارے اقتدار میں فنڈز کی کمی اورصوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کا گلہ کرتی رہی جو کسی حد تک درست بھی تھا ۔ مگر تحصیل لاوہ کے حالات بہت دلچسپ رہے۔ جب سے لاوہ تحصیل بنی اس وقت سے ہی حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس علاقے کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ مگر اصل ظلم اس وقت ہوا جب بلدیاتی نظام میں ملنے والے فنڈز استعمال نہ ہو سکے۔ جس کی کئی سیاسی وجوہ ہو سکتی ہیں مگر قائدین نے اپنے سیاسی اختلافات کو علاقے کی ترقی پر اہمیت دی اور وسائل استعمال نہ ہو سکے۔ بلدیاتی نظام کے خاتمے تک اس تحصیل کے پاس تقریبا سات کروڑ روپے سے زائد جمع ہو چکے تھے جن کو اگر استعمال کیا جاتا تو لاوہ شہر میں ایک بڑی تبدیلی آچکی ہو تی۔ مگر صد افسوس ایسا نہ ہو سکا اور اب ان فنڈز کو صاحب بہادروں کی ٹیم استعمال کرتی ہے یا صرف اس پیسے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے سرکاری خزانے میں ہی رکھے رکھتی ہے اس کا فیصلہ تو آنیوالے وقت میں ہی ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ مقامی قیادت نے اس کثیر رقم کو علاقے کی ترقی میں کیوں صرف نہ کیا۔ لاوہ شاید پورے پنجاب کی واحد تحصیل ہو گی جس کے فنڈز استعمال نہ ہوئے ہونگے ورنہ باقی تحصیلوں میں تو فنڈز کی کمی کا رونا ہی رویا جاتا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ مقامی قائدین کو کئی انتظامی معاملات میں مشکلات رہی ہوں مگر اگر مل بیٹھ جاتے تو شاید علاقہ کا زیادہ فائدہ ہوتا۔ تلہ گنگ کی بات کریں تو شروع میں ن لیگ کی حکومت ہو نے کی وجہ سے حکومت کو مشکلات کا سامنا رہا مگر آخری آٹھ مہینوں میں تو صوبائی حکومت ق لیگ کے اتحادیوں کی تھی مگر حالات جوں کے توں رہے۔ ابھی بھی پنجاب بنک سے لیکر مندیال چوک کے قریب تک کھلا نالہ کئی سوالات پوچھ رہا ہے اور حادثوں کا منتظر ہے۔ مندیال چوک کے قریب گلی سریال سے جعفریہ چوک تک کا نالہ بھی بوجہ صفائی کھولا گیا تھا مگر ابھی تک کھلا ہی پڑا ہے ۔ جس سے بھی خطرات جنم لے رہے ہیں۔ جناح پارک کی تزئین و آرائش بھی ابھی ایڈمنسٹریٹر صاحب کروا رہے ہیں۔ سڑک کے کناروں پر موجود ریت مٹی بھی ابھی اٹھوائی جارہی ہے۔ آنیوالے بلدیاتی انتخابات میں ق لیگ اور ان کے اتحادیوں کو کئی سخت سوالات کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹرزپر بھی بہت بھاری ذمہ داری آچکی ہے انہوں نے نہ صرف عوام کے مسائل حل کرنے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ نئے بلدیاتی نظام کی تیاری بھی ان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین