تھا نہ ٹمن کی حدود میں با اثر افراد کا بچے پر بہیمانہ تشدد ، پولیس بھی ملزمان سے مل گئی۔

تھا نہ ٹمن کی حدود میں با اثر افراد کا بچے پر بہیمانہ تشدد ، پولیس بھی ملزمان سے مل گئی۔

تلہ گنگ (نما ئندہ بول تلہ گنگ )تلہ گنگ کے نواحی علاقے ڈھوک مصاحب تھانہ ٹمن کی حدود میں با اثر افراد بارہ سالہ بچے پر بہیمانہ تشدد کیا، پولیس کو ملزمان کے خلاف درخواست دی گئی تو پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کے گھر آ کر دعوت کھائی اور چل دی، بچے کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ہمیں انصاف دلوایا جائے ، اگر انصاف نہ ملا تو مجبورا انتقامی کاروائی کریں گے.ایک رپورٹ کے مطابق ضلع چکوال کے تھانہ ٹمن کی حدود میں واقع ڈھوک مصاحب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے. محمد طیب خورشید ولد محمد خورشید سکنہ ڈھوک مصاحب اپنے والدین کے ہمراہ خالہ کے گھر افطاری کرنے گیا ہوا تھا ،افطاری کے بعد اسکے والدین جلدی گھر آ گئے اور طیب خورشید رات دس بجے کے قریب گھر جانے کے لئے نکلا کہ ڈھوک مصاحب کے رہائشی ذیشان ولد اشتیاق کے گھر کی طرف چند شرارتی بچے پتھر پھینک رہے تھے ،پتھر پھینکنے والے بچے بھاگ گئے اور ذیشان اور اشتیاق باپ بیٹے نے طیب کو پکڑ لیا اور تھپڑ مارے ، طیب وہاں سے بھاگا تو باپ بیٹے نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بچے کا پیچھا کیا اور اس کے پاوں پر موٹر سائیکل چڑھاتے رہے. ساتھ تھپڑ بھی مارتے رہے ،طیب کے گھر کے قریب ویرانے میں ملزمان نے طیب کو زمین پر گرایا اور بہیمانہ تشدد کیا، شور کی آواز سن کر طیب کا والد باہرخورشید باہر نکلا اور ان سے منت سماجت کی تو وہ موقع سے فرار ہو گئے. طیب کو اس کا والد میال چوکی میں لے کر گیا تا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج کیا جا سکے ،پولیس چوکی والوں نے انہیں ٹمن ہسپتال بھیج دیا جہاں بچے کا باقاعدہ میڈیکل نہیں کیا گیا، یہ بات بچے کے والد خورشید نے ایک ویڈیو پیٍغام میں بتائی ہے،خورشید کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال والوں نے بچے کا علاج بھی نہیں کیا، پولیس میں رپورٹ کروائی گئی لیکن پولیس نے ملزمان کے گھر آ کرچکن کڑاہی کھائی اور چل دئیے، پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا، بچے کے والد جو پاک فوج سے ریٹائرڈ ہیں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف چاہئے، ڈی پی او چکوال، آئی جءپنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب واقعہ کو نوٹس لیں اور بااثر ملزمان کو گرفتار کر لیں ، خورشید نے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ انتقامی کاروائی کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور حکمرانوں پر ہو گی.