نیا بلدیاتی نظام ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نیا بلدیاتی نظام ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نئے بلدیاتی نظام میں 22000پنچائت بننے جارہی ہیں جوکہ موجدہ3281یونین کونسلز کا متبادل ہو نگیں۔ میونسپل کمیٹیاں پہلے کی طرح182ہی ہونگیںاور ٹاﺅن کمیٹیاں 40ہونگیں۔ جبکہ2400نیبرہڈ/محلہ کمیٹیاں ہو نگیں۔ ٹاون کمیٹیوںمیونسپل کمیٹیوں، کارپوریشنز،میٹرو پولیٹینز اور تحصیل کونسلز کے انتخابات جماعتی بنیادوں جبکہ پنجائیت کونسلز کے انتخابات غیر جماعتی اور فری لسٹ بنیادوں پر ہو نگے۔ ضلع کونسلز کی غیر موجودگی کی وجہ سے اختیارات تحصیل سطح پر تقسیم ہو جائیں گے۔ حلقہ بندیاں ہونے کے بعد سیاسی صورتحال واضع ہو پائے گی مگر موجودہ حکومتی اتحاد کو زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ملک سلیم اقبال صاحب، سردار ممتاز ٹمن صاحب اور سردار غلام عباس صاحب کا اتحاد بنتا نظر آتا ہے جو کہ حکومت کے لئے ایک بڑا امتحان ہو سکتا ہے۔یہ اتحاد ضلع بھر کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ان شخصیات کا ضلع بھر میں بلعموم اور تلہ گنگ و لاوہ میں بالخصوص اثر و روسوخ موجود ہے۔ اس اتحا د کے بننے سے ان شخصیات کے سیاسی قد میں اضافے کے ساتھ ساتھ علاقے کی سیاست میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی اور ق لیگ کی مقامی قیادت کے تعلقات بھی مثالی نہیں ہیں مگر قومی قیادت کی خصوصی دلچسپی سے حا لات بہتری کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ان ساری قیاس آرائیوں اور تجزیوں کے باوجود مقابلے سخت ہو نے کے واضع امکانات ہیں۔ ابھی تو صاحب بہادروں کا دور شروع ہو چکا ہے اور دیکھنا ہو گا کہ بیوروکریسی نئے نظام کی تیاریاں کس انداز میں کرتی ہے۔ رمضان بازار کی حد تک تو ضلع کے صاحب بہادروں نے اچھی کارگردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور امید ہے کہ عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہونگیں اور نئے نظام سے پہلے اس کی تیاری اچھے انداز میں ہو پائے گی وگرنہ حالات بگڑ بھی سکتے ہیں۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو نے کی وجہ سے ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ جائیں گی اور ہمیں بھی پڑھے لکھے اور اہل امیدواروں کو آگے لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ تا کہ پڑھی لکھی اور اہل قیادت نئے نظام کو بہتر طریقے سے اور جلد سمجھ سکے اور اپنے اختیارت کو استعما ل کرتے ہوئے ہمارے مسائل حل کرسکے .نئے نظا م کو سمجھنا آسان نہیں ہو گا کیو نکہ درجنوں سرکاری اداروں کو چلانا مشکل عمل ہو گا ۔ ہمارے ہاں قیادت کا فقدان نہیں ہے مگر ہمارے فیصلے اہم ہو نگے۔ میں اکثر کہتا آیا ہوں کہ جیسے ہم سبزی فروٹ یا دیگر چیزوں کی خریداری میں اچھے سے چھان پھٹک کرتے ہیں تو ہمیں اپنی قیادت کے چناﺅ میں بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پڑھے لکھے ، اہل اور دیانتدار لوگوں کو موقع دیا جائے تا کہ ہمارے مسائل حل ہوں ۔
اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین