آئیں گے غسال کابل سے کفن جاپان سے۔۔۔تحریر : شفیق ملک

آئیں گے غسال کابل سے کفن جاپان سے۔۔۔تحریر : شفیق ملک

کہتے ہیں بعض دفعہ ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں،یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا،بات فقظ گپوں اور دعوں تک ہی رہتی تو شاید کسی نہ کسی طرح کام چل ہی جاتا مگر خدا غارت کرے جارج ایسٹ مین کو جس نے 1885میں کیمرہ ایجاد کر دیا جو ہمارے آج کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ کے رکھ دیتا ہے،،کل تک پٹرول پینتالیس روپے لٹر ،اس پر ستاون روپے کا ظالمانہ ٹیکس نظر آتا تھا مگر آج وہی 109روپے ہے آج نہ وہ ٹیکس نظر آ رہا ہے نہ ہ ظلم،تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ اہل وطن کو لیموں بھی نہ صرف چار سو روپے کلو دستیاب ہیں بلکہ خریداری کے لیے وقت سے پہلے گھر سے نکلنا پڑتا ہے کیوں کہ یہ نادر و نایاب پھل اب لائن میں لگ کر خریدا جا سکتا ہے،وہ ایک ملین درخت جو چائینہ پہنچ کر وزیر اعظم صاحب نے دس ملین کر دیے نجانے کہاں لگائے گئے ہیں اور ان میں شاید کوئی لیموں کا پودا بھی ہے یا نہیں کیوں کہ اگر ایک ملین تو کیا چند لاکھ پودے بھی لیموں کے لگائے جاتے تو نہ صرف یہاں کہ باسیوں کو لائن میں نہ لگنا پڑتا بلکہ ہم لیمن باقی دنیا کو ایکسپورٹ بھی کر رہے ہوتے اور شاید یہ جنس پچاس ساٹھ روپے کلو سے بھی کم میں دستیاب بھی ہوتی،اگر کے پی کے میں ہی لگائے جاتے تو لیموں کا پودا ایک سال بعد پھل دینا شروع کر دیتا ہے محترم خان صاحب نے تو پانچ سال قبل لگوائے تھے،کوئی ایک نعرہ کوئی ایک وعدہ ایسا نہیں جو پورا ہوا ہو یا کم از کم جس کے پورا ہونے کی کوئی امید نظر ا ٓ رہی ہو،کابینہ سے لیکر ٹیکنو کریٹ تک ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ اپنی ٹیم میں موجو د ہے ،ایماندار خان نے کہا تھا کہ جو کام نہیں کرے گا نہیں رہے گا،اب لگ رہا ہے کہ جناب نے یوں کہا تھا کہ جس نے کچھ کرنے کی کوشش کی نہیں رہے گا،یہ الگ بات ہے کہ ہمارا مطلب اس وزارت میں نہیں رہے گا بلکہ کسی دوسری وزارت میں ایڈ جسٹ کر دیا جائے گامہنگائی اور بے روزگاری عوام کو کچا نگلنے کو تیار بیٹھی ہے لوگ جب شکوہ کرتے ہیں تو معاملہ پچھلوں پر ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کی جا تی ہے بندہ پوچھے پچھلے اتنے ہی برے تھے تو جناب نے اپنی کابینہ میں سارے کے سارے وہی پچھلے کیوں شامل کر رکھے ہیں،ڈالر ایک سو پینتالیس پٹرول ایک سو نو،سبزی فروٹ اور دالیں عوام کی استعطاعت سے باہر ،پچاس لاکھ گھر گم شدہ،ایک کروڑ نوکری خواب اوپر سے بھاشن کہ ذرا صبر کرو،کڑا وقت جلد گذر جائے گا لوگ ضرور صبر کرتے اگر کم از کم سمت ہی درست ہو گئی ہوتی ،احتساب کے نام پر انتقام اور اپنوںکو کلین چٹ دینے کی روایت کہیں دم توڑتی نظر آ رہی ہوتی،نئے چہرے نئے عزم کے ساتھ مصروف عمل ہوتے تو شاید عوام انتظار کی کڑوی گولی نگل بھی لیتی مگر آپ نے بھی فردوس اعوانوں،فواد چوہدریوں حفیظ شیخوں اور زبیدہ جلالوں سے ان کا علاج کروانا ہے تو انہی عطار کے لونڈو ں کے سبب ہی تو ان کا یہ حال ہوا تھا اور کہا بھی آپ نے نے خود ہی بار بار تھا،آج وہی لوگ سارے دوبارہ عوام کے سرو ں پر سوا رکر دیے گئے،آپ نے کہا تھا مر جاﺅں گا قرضہ نہیں لوں گا آئی ایم ایف کے پاس گیا تو خود کشی کر لوں گا اور کیا زبردست طریقہ نکالا آپ نے خود کشی سے بچنے کا کہ آی ایم ایف کو ہی ادھر لے آئے واہ جناب داد تو بنتی ہے کہ ایک حاضر سروس ملازم جو آئی ایم ایف کے لیے مصر میں خدمات سر انجام دے رہا تھا استعفیٰ دے کر پاکستان کے سب سے بڑے بنک کا سربراہ بننے چل پڑا ،کیا پورے ملک میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں جو اس عہدے کے قابل ہوتا چلیں آپ کی پارٹی میں نہ سہی بائیس کروڑ لوگوں میں ایک بھی ایسا نہیں ملا جو یہ عہدہ سنبھال لیتا،اور چیئرمین ایف بی آر ایک ایسے شخص کو لگا دیا گیا جو خود ٹیکس نہیں دیتا جو نان فائلر ہے کیا یہ وہ نیا پاکستان تھا جس کی آس اور امید دلائی گئی تھی مینار پاکستان پر ناچ ناچ کر اور لہک لہک کر عمران اسماعیل نے لوگوں کو اس تبدیلی کا بتایا تھا،یقین کریں آج ایک ایوریج عقل کا شخص بھی سمجھ رہا ہے کہ پرانا پاکستان اس نئے پاکستان سے بدرجہا بہتر تھا،عام شخص کی زندگی آ سان تھی ،ہسپتالوں میںدوائیں ملنا شروع ہو گئی تھیں،لوڈشیڈنگ کا جن کنٹرول ہونے کے قریب تھا،بجلی گیس اور دیگر اشیاے ضروریہ لوگوں کی دسترس میں تھیں،مگر نئے پاکستان نے آتے ہی لوگوں کا بینڈ بجا دیا اور اوپر سے عجیب منطق اور ڈھٹائی کا عالم ہے کہ پچھلے چور تھے لوگ یہ بات کیسے مان لیں کہ جب انہیں پٹرول 74روپے مل رہا تھا تب چور حکمران تھے اور آج ایک 109میں مل رہا ہے تو فرشتے حکمران ہیں کیسے چور تھے کہ ڈالر سو سے اوپر نہیں گیا آج ایک سو پینتالیس روپے کا ہے ،حد ہوتی ہے دروغ گوئی کی بھی، صرف چوروں کو ہی کڑ لیتے اور ان سے کچھ برآمد کروا دیتے تو بہت سوں کا بھلا ہو جاتا مگر آپ نے تو ادھر بھی کیٹگریز رکھ لیں کہ جو آپ کے ساتھ مل گیا وہ پاک صاف جو نہ ملا وہ چور اور ڈاکو، بازار میں آئے ہیں تو اپنے سودے کی کوالٹی بتائیں نہ کہ سامنے والے کے مال کی برائیاں وطیرہ بنالیں ،آپ کا مال تب بکے گا جب اس کی کوالٹی گاہک کی ڈیمانڈ کے عین مطابق ہو گی آپ مدمقابل کو ایک سو ایک گالی دے لیں اس کے مال کی جتنی مرضی برائیاں کر لیں جب تک آپ کا سودا گندا اور گھٹیا ہو گا کوئی ایک بھی ادھر کا رخ نہیں کرے گا ،کوالٹی بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور جو لگ آپ در آمد کر رہے ہیں وہ آُ کے مسائل مین اضافہ تو ضرور کریں گے کمی کسی صورت نہیں کر سکیں گے کیوں کہ ان کے مفادات انہی کے ساتھ وابستہ ہیں جو انہیں بھیج رہے ہیں،اور اگر معاملات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب سسٹم ان باہر والوں نے آکر چلانا ہے تو پھر پاکستانیوں کا اللہ ہی حافظ ہے پہلے کی طرح اب بھی،باہر سے بندے منگوانے کی بجائے مقامی لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کیجیئے ،اپوزیشن کو ملک کا دشمن مت سمجھیے وہ بھی آپ کی طرح اس ملککی عوام کے نمائندے ہیں ،مل کر مسائل کا حل تلاش کریں کیوں کہ جس اسپیڈ سے مہنگائی اور بیروز گاری بڑھ رہی ہے اگر بہت جلد اس کاکوئی مناسب حل یا بندوبست نہ کیا گیا تو حالات جس تیزی سے آپ کے خلاف جار ہے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی سے آُ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے ،جلدی کیجیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے،،،اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو،،،