سولہ ماہ میں تین سو کے لگ بھگ افراد جاں بحق اور پانچ سوسے زائد افراد زخمی ،کئی افراد اعضاءسے بھی محروم ہو گئے۔

سولہ ماہ میں تین سو کے لگ بھگ افراد جاں بحق اور پانچ سوسے زائد افراد زخمی ،کئی افراد اعضاءسے بھی محروم ہو گئے۔

تلہ گنگ (نمائندہ بول تلہ گنگ) میانوالی روڈ انسانی جانوں کی ضیاع کا مرکز بن گیا ،سولہ ماہ میں 300سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور پانچ سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے ،حکومت پنجاب خاموش مسافر سراپا احتجاج ۔بین الصوبائی شاہراہ پر آ ئے روز حادثات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،سول سوسا ئٹی کے نمائندہ افراد نے میانوالی روڈ کو ون وے کرنے کیلئے سمینار کے بھی انعقاد کروائے اور حکومت پنجاب کو اس طرف توجہ دلوائی ۔ پچھلے حکومتوں نے بھی اس بین الصوبائی شاہراہ پر کوئی توجہ نہیں دی اسکو نظر انداز ہی کیا جا تا رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی تاحال میانوالی روڈ کو ون وے کے منصوبے پر کوئی لائحہ عمل پیش نہیں کر سکی اورروڈ کو ون وے کرنے کی خبریں اخباروں میں ہی گردش کر تی نظر آ تی ہیں ۔ 16ماہ میں حادثات میںتقریبا 300افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور 500سے زائد افراد زخمی جن میں سے کئی افراد اعضاءسے بھی محروم ہو گئے ہیں ۔ بین الصوبائی شاہراہ پر ٹریفک پشاور سے لیکر کراچی تک چلتی ہے اور روڈ ون وے نہ ہونےکی وجہ سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ۔اہل علاقہ نے کہا کہ میانوالی روڈ پر حادثات میں کمی لانے کیلئے روڈ کو ون وے کیا جا ئے تا کہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں ۔مسافروں اور اہل علاقہ نے حکومت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ میانوالی روڈ کو ہنگامی بنیادوں پر ون وے کیا جا ئے تا کہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں۔