عالمی یوم خواتین تحصیل بھر میں نہیں منایا گیا ،پنجاب حکومت توجہ دے۔

عالمی یوم خواتین تحصیل بھر میں نہیں منایا گیا ،پنجاب حکومت توجہ دے۔

تلہ گنگ (سید ارشاد حسین کا ظمی) عالمی یوم خواتین تلہ گنگ شہر اور تحصیل بھر کے دیہاتوں ،اسکولز ، کالجز کسی جگہ پر کوئی تقریب منعقد نہ ہو سکی-تلہ گنگ پریس کلب تلہ گنگ نے ڈی سی او چکوال عبدالستار عسیانی سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی عالمی دن پر ہر تحصیل کے ہیڈ کوارٹر میں کم از کم ایک تقریب لازمی ہو اور اس سلسلے میں محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے افسران کو پابند کیا جائے کہ وہ تقریبات کا انعقاد لازمی کریں اس سے لوگوں میں شعور بیدار ہوتا ہے – آج آٹھ مارچ 2019ءکو 110واں عالمی یوم خواتین منایاجا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں خواتین کے کردار اور حقوق و فرائض سے متعلق ٓاگاہی حاصل کرنا اور فراہم کرنا ہے ۔خواتین کے حقوق کا پہلا عالمی دن 28 فروری 1909ءکو امریکہ میں منایا گیا تھا۔ اس دن کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب امریکہ کے شہر نیو یارک میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین نے طویل اوقات کار اور کم تنخواہوں پر احتجاج کیا ان کا مطالبہ تھا کہ ان کی ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کی جائے اور معقول تنخواہ دی جائے۔ یہ احتجاج جاری رہے لیکن قابل ذکر احتجاج 1908ءمیں کیا گیا جس میں تقریباً پندرہ ہزار خواتین نے مطالبہ کیا کہ عورتوں کو مکمل حقوق دئیے جائیں۔ 1910ءمیں پہلی خواتین کانفرنس کوپن ہیگن میں ہوئی جس میں عورتوں کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا اس کے بعد دوسری خواتین کانفرنس معروف جرمن سوشلسٹ کلیرا ڈینکن نے منعقد کی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے سو سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ 1917ءمیں روس میں سیاسی انقلاب برپا ہوا اور روس نے عالمی یوم خواتین کو تعطیل کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ روس، بلغاریہ بوسنیا، البانیہ، امریکہ، کیوبا، چین، اٹلی، ازبکستان اور مختلف ملکوں میں بھی آٹھ مارچ کوخواتین کے عالمی دن کے طور پرمنایا جانے لگا ۔دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ کو ہر سال خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن مختلف تنظیمیں اور این جی اوز تقریبات اور ریلیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی حالت میں بہتری کے لئے تجاویز دینے کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ موجودہ دور کی بات کی جائے تواب بھی عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہیں مغربی ممالک نے عورتوں کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے عورت اور مرد کو ایک دوسرے مد مقابل لاکھڑا کیا ہے جس سے خاندانی نظام کی اہمیت زیرو کردی گئی ہے جبکہ حقوق دینے کا مقصد مقابلہ کرنا نہیں بلکہ گھراورباہر کی دنیا میں ایک دوسرے کا ساتھ دیناہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت خواتین کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔گزشتہ حکومت نے دورجدید کے تقاضوں کے پیش نظر اور معاشرے میں خواتین کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مثالی اقدامات کئے تھے۔ ان میں تمام سرکاری محکموں میں ملازمت کے لئے خواتین کا 15 فیصد کوٹہ مختص ، سرکاری ملازمتوں کیلئے عمر کی حد میںخواتین کیلئے 3 سال کی رعایت، پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد خواتین کو فنی تربیت کی فراہمی ، پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت 14 ہزار سے زائد دیہی خواتین کو فنی تربیت کی فراہمی جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔پنجاب اےجوکےشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذرےعے خواتےن ڈاکٹرز،انجےنئرزبن کرملک کی تعمےر وترقی مےں اپنا کردارادا کررہی ہےں ۔ خواتےن کے حقوق کے تحفظ اورانہےں بااختےار بنانے کےلئے موثر قانون سازی کی گئی ہے ۔ جس میں 2012میں پنجاب ویمن ایمپاورمنٹ پیکج اور 2014,2016میں پنجاب ویمن ایمپاورمنٹ اینسی ٹےوٹ کے علاوہ خواتےن کے وراثت مےں حق کو ےقےنی بنانے کےلئے بھی موثر اقدامات کئے گئے ۔ جبکہ خواتےن کے خلاف تشددکے خاتمے کے حوالے سے ملتان مےں پہلا داد رسی سنٹرتکمےل کے آخری مراحل مےں ہے ۔حقوق نسواں بل کی منظوری سے بھی خواتین کو ان کے حقوق کی دستیابی یقینی بنادی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے خواتین کی شرح خواندگی بڑھانے میں خاص دلچسپی لی ہے۔ بچیوں میں تعلیم و تربیت بڑھانے کی طرف بھر پور توجہ دی گئی ہے۔ سرکاری اداروں کے بورڈز میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد ہے۔پنجاب میں خاتون محتسب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ قانون سازی اور لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے خواتین کے جائیداد میں وراثتی حق کو یقینی بنایا گیا ہے۔ خواتین کے مسائل کے حل کیلئے ویمن کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔ہمارے ملک کی آبادی 52 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ اگر اس غالب آبادی کو جدید تعلیم و تربیت اور علوم و فنون سے آراستہ کر کے ملکی تعمیر و ترقی میں شامل کیا جائے تو ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ معاشرے میں ترقی خواتین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح قیام پاکستان میں عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا اسی طرح ملکی ترقی کے لئے خواتین کو آگے لانا ہو گا۔مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیّے ہیں ظاہر ہے کہ جب تک گاڑی کے دونوں پہیّے صحیح طور پر کام نہ کریں یہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ کوئی معاشرہ اور قوم اس وقت تک شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتی۔ جب تک مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔داناﺅں کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے بچہ جو کچھ اس درس سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا از حد ضروری ہے۔ مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہوتی ہے مگر عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو خاندان کے نظام کو چلا سکتی ہے اور گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ دراصل عورت ہی گھر کی حکمران ہوتی ہے۔ نپولین کا مشہور قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو ایک بہترین قوم دوں گا۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف گھر کا انتظام خوش اسلوبی کے ساتھ چلا سکتی ہے بلکہ گھر کا حساب کتاب بھی باقاعدگی سے رکھ سکتی ہے اور کفایت شعاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر گھر کی آمدن کو ٹھیک طریقہ سے خرچ کر سکتی ہے۔عورت کی تعلیم کا یہ مقصدنہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت ہی کرے بلکہ تعلیم یافتہ عورت بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہے۔ اچھی تعلیم سے لڑکیوں میں سمجھ بوجھ اور شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کی اس غالب اکثریت کو اچھی تعلیم اور معیاری تربیت سے آراستہ کیا جائے اس ضمن میں آنے والی حکومتوں کو ہر طبقہ کی حواتین کے لئے الگ سے پالیسی بنانا ہو گی اور اس کا عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک کے عام شہریوں کے لئے بھی آج کا دن تجدید عہد کا یوم ہے کہ وہ اپنے اپنے گھر کی سطح پر خواتین بچیوں کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کا مرکز بنائے۔