کوئی ہے جو قدرت کے شاہکاروںکو بچائے۔۔۔تحریر :شفیق ملک

کوئی ہے جو قدرت کے شاہکاروںکو بچائے۔۔۔تحریر :شفیق ملک

یہ آج سے لگ بھگ آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے مشرفانہ دور کی اختتامی گھڑیاں شروع ہو چکی تھیں،ہمیں ضلعی انفارمیشن آفس سے اطلاع دی گئی کہ دو روز بعد علی محمد اولکھ صاحب جو اس وقت صوبائی وزیر خوراک یا زراعت تھے چکوال آ رہے ہیںاور اب کی بار ان کی آمد ایک انتہائی نیک مقصد کے لیے ہے جو کہ یہ ہے کہ وزیر موصوف کچھ ایسے قیمتی ترین پرندوں کو آزاد کریں گے جو چند اسمگلر یہاں سے پکڑ کر بیرون ملک لے جانے کی کوشش میں تھے مگرقسمت کی خرابی یا ائر پورٹ سیکورٹی فورسز کی پھرتی کہ مال جہاز پر لوڈ ہونے سے پہلے ہی نظر میں آگیا ،لوگ پکڑے گئے اور مال جو کہ عمدہ نسل کے عقاب تھے محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیے گئے،محکمہ وائلڈ لائف نے ان شاہینوں کو جو چٹانوں اور میدانوں میں پرواز کرنے کے عادی تھے کمال مہات سے 2/2کے لکڑی کے بکسوں میں بند کر دیا اور سامنے والی طرف ہوا کے لیے جالی لگا دی،لگ بھگ ڈیڑ ھ دو سال یہ شاہین ان ڈبوں میں بکری بنے اپنی قسمت کو کوستے رہے کہ کیا ہی بہتر ہوتا کہ اسمگل ہی ہو جاتے اس قفس سے تو جان بچی رہتی،کافی عرصے بعد جب ©:ضابطے :کی کاروائی مکمل ہوئی تو کسی خدا ترس افسر کو ان کا خیال آگیا کہ ان کو کیوں نہ آزاد کر دیا جائے،اس کے لیے پھر الگ سے ایک ضابطہ بنایا گیا کہ پرندے کہیں پھر ائر پورٹ والی سائیڈ پر نہ نکل جائیں لہٰذا انہیں کہیں دور چھوڑا جائے اس کے لیے باقاعدہ ایک پروگرام بنا جس کی ایک الگ داستان ہے،مقررہ دن وقت مقررہ پر ہم انفارمیشن آفس والوں کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے کچھ دوست ان کی گاڑی میں سوار ہو گئے اور کچھ میرے ساتھ میری گاڑی میں بیٹھ گئے اور نامعلوم منزل کی طرف سفر شروع ہو گیا چکوال سے کلر کہار اور ادھر سے موٹر وے اور پھر للہ انٹرچینج سے نکل کر پنڈ دانخان خان کی جانب چلنا شروع ہو گئے، راستے میں ایک چوک آیا جو غالباً ٹوبھہ یا سروبہ چوک تھا وہاں سے گاڑیاں دائیں ہاتھ پر ہو لیںاور پھر سفر شروع ہو گیا دیڑھ دو گھنٹے چلنے کے بعد ایک جگہ گھنے جنگل میں ٹینٹ قناتیں لگا کر وزیر موصوف کی آمد اور پرندوں کی اڑان کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھاہمیں بڑی حیرانی ہوئی کہ پرندے کوئی جانور تو نہیں کہ انہیں یوں گھنے جنگل میں چھوڑا جا رہا ہے ان پرندوں اور خصوصاً شاہین کو جدھر اور جہاں چاہیں چھوڑ دیں وہ آن واحد میں کہیں سے کہیں نکل جائے گا،مگر اس سب کی بھی وجہ تھی ،کچھ دیر بعد وزیر موصوف معروف اداکارہ جن کا نام غالباً فریال گوہر تھا کے ہمراہ آن پہنچے مختصر سا پروگرام ہواا ور میرے سمیت چند مزید لوگوںکو چمڑے کا ایک ایک گلوز یعنی دستانہ دیا گیا کہ عقاب کے پنجوں سے ہاتھ زخمی نہ ہو جائیں ایک وزیر صاحب نے اپنے ہاتھ پر چڑھا لیا،لکڑی کے بکس جو غالبا بارہ یا پندرہ تھے ایک ایک کھول کر ایک ایک پرندہ ہمیں دیا گیا کہ ان کو فضا میں چھوڑنا ہے باقاعدہ فوٹو سیشن ہوا اور پرندے فضا میں چھوڑدیے گئے ،حیرانی کی بات یہ ہوئی کہ سوائے دو تین پرندوں کے تقریباً سار ے ہی پچاس ساٹھ میٹر اوپر جاتے اور پھڑپھڑاتے ہوئے نیچے آ گرتے جس کی وجہ یہ تھی کہ مسلسل چھوٹے ڈبوں میں قید رہنے کی وجہ سے شاہین جیسے پرندے اپنی اڑان بھول گئے تھے ،ہم نے تو گرمی کی وجہ سے جلد واپسی کا ارادہ کیا بعد میں پتہ چلا کہ آدھے سے زیادہ پرندے محکمہ کے اہلکاروں نے دوبارہ اٹھا لیے اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ شاہینوں کو اڑانے کا پروگرام اتنی دور کیوں رکھا گیا ہے کیوں کہ محکمہ وائلڈ لائف کے شاہینوں کو شاید اندازہ ہو گیا تھا کہ قید شاہینوں نے کیا گل کھلانے ہیں اس لیے انہوں نے چیلوں اور کرگس جیسی بہترین حکمت عملی ترتیب دے کر دوبارہ شاہین اپنے قبضے کر لیے،کیوںکہ اس کے بعد ہمیں چکوال کے اس طرف نہ اس طرف بلکہ کسی بھی طرف کسی جنگل میں کبھی کوئی شاہین نظر نہیں آیا شاہین کیا اب تو تیتر ،بٹیر اور مور بھی نایاب ہوتے جا رہے ہیں،چکوال کو ایک طرف قدرت نے جہاں خوبصورت جھیلوں نیلگوں چشموں بلند پہاڑی سلسلوں، لہلاتے کھیتوں، چار خوبصورت ترین موسم دنیا کے بہترین کوالٹی سیمنٹ کے لیے لائم اسٹون،دلکش نظاروں،سونا اگلتی زمینوں،کوئلہ اور نمک سمیت بے پناہ معدنیات سے نوازا ہے وہیں اس کی فضاﺅں اور جنگلوں میں راج کرنے کے لیے تیتر ،بٹیر اور مور جیسے خوبصورت پرندے اور اڑیال جیسے دنیا کے نایاب ترین ہرن بھی اسی علاقے کو عطا کیے ہیں،الغرض سینکڑووں مربع میل پر پھیلے ضلع چکوال کی حدود میں ہر وہ قدرتی حسن موجود ہے جس کی ایک زندہ و بیدارانسان تمنا اور خواہش کر سکتا ہے،چکوال کا کل رقبہ 6609مربع کلومیٹر ہے جس میں سے ایک بہت بڑا بلکہ آدھے سے زیادہ حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے کسی زمانے میں کلر کہار اور چوا ٓسیدن شاہ سے گذرنے والے مسافر حضرات سڑک کنارے بھاگتے رقص کرتے موروںکو دیکھ کر قدرت کی صناعی پر سبحان اللہ کہتے اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے تھے اس کے علاوہ علاقے کے جنگلوں میں پائے جانیوالے دنیا کے نایاب ہرن اڑیال کو بھی قلانچیں بھرتے اوراٹھکیلیاں کرتے دیکھ کر ایک عجیب سرشاری روح تک میں اتر جاتی تھی ،پرانے زمانے میں لوگ نہ صرف ان کی حفاظت کرتے تھے بلکہ ان کا شکار کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا تھا،یہی وجہ تھی کہ چکوال کے جنگلوں میں ان جانوروں اور پرندوں کی بہتات تھی پھر وقت بدلا اور نام نہاد ترقی ہونا شروع ہوئی علاقے میں سیمنٹ فیکٹریاں لگیں جن سے نکلنے والے لوڈ ٹرکوں اور ٹرالرز نے ایک طرف پورے ضلعے کی سڑکوں کا ستیانا س کر دیا، علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے وہیں ماحولیاتی آلودگی اور اجنبی لوگوں کی آمد اور بءہنگم اور غیر قانونی شکار نے جنگلی حیات کو بھی شدید متا ئثر کیا،آج کلر کہار چوآ سیدن شاہ کے علاوہ بشارت اور سالٹ رینج کی وادیوں میں جہاں تیتر بٹیر اور مور نہایت تیزی سے اپنی نسل کے معدوم ہونے کی طرف رواں دواں ہیں وہیں محکمہ وائلڈ لائف کی غفلت اور ملی بھگت سے چکوال میں پایا جانیوالا دنیا بھر کی نایاب نسل کا اڑیال ہرن بھی غیر قانونی اور شوقیہ شکاریوں کی بھینٹ چڑھ کر اپنی نسل کے ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے ، قیمتی پرندوں کے سر محکمہ جنگلات کے اہلکار چڑھ گئے جنھوں نے کروڑوں روپے کی قیمتی لکڑی افغانی پٹھانوں کو کوڑیوں کو بھاﺅ بیچ دی،اگر یہ ظالم لوگ صرف اسی پر اکتفا کر لیتے تو شاید گذارا ہو جاتا مگر یہ اپنا جرم اور گناہ چھپانے کے لیے جنگل سے لکڑی کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ کاٹے گئے درختوں کے نشان مٹ جائیں،آگ لگنے کی وجہ سے نشان تو مٹتے ہیں یا نہیں جنگلی حیات خصوصاً پرندوں کو ان کے ٹھکانوں کی تباہی انڈوں بچوں کاجل جانا اور دھویں سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے زندہ بچ جانے والے پرندے یہ علاقہ چھوڑتے جا رہے ہیںدوسری طرف اڑیال کے معاملے میں وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو چند سال قبل تک اس نایاب نسل کے ہرن کی افادیت اور قیمت کا پتہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ جانور ان کی دست برد سے محفوظ رہا،جب چھوٹے لیول کے اہلکاروں کو پتہ چلا کہ صرف ایک جانور کو شکار کرنے کے لیے شکاری کو 18ہزار ڈالر سرکاری خزانے میں جمع کروانا پڑتے ہیں تو ان کی رال ٹپکنا شروع ہو گئی اور انہوں نے یہ سودا باہر باہر ہی طے کرنے کی ٹھان لی یوں جس شخص کو ایک ہرن کے لیے بیس سے پچیس لاکھ روپے جمع کروانا پڑتے تھے وہاں یہ کام وائلڈ لائف کے اہلکاروں سے ملکر ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے میں ہونے لگا ،اب صورتحال یہ ہے کہ چکوال کے جنگلوں کلر کہار،آڑہ، بشارت ،چوا ٓسیدن شاہ،کرولی ،سالٹ رینج اور ڈلوال کے پہاڑی علاقوں میں پایا جانیوالا یہ نایاب جانور غیر قانونی شکار اور محکمہ وائلڈ لائف کے کچھ راشی اہلکاروں کی ملی بھگت سے بہت تیزی سے ختم ہو رہاہے، دوسری طرف حکومت اس کی افزائش اور تحفظ کے لیے مقامی افراد کو ہر سال کروڑوں روپے کی سبسڈی دیتی ہے جو سی بی اوز بنا کر ان جانوروں کے تحفظ کے نام پرہر سال حکومت پاکستان سے دو کروڑ روپے تک کی بھاری رقم وصول کرتے ہیں،اس وقت چکوال ضلع میں تین سی بی اوز کام کر رہی ہیں جو مقامی لوگ چلا رہے ہیں اور اڑیال کے تحفظ کی ذمہ داری محکمہ وائلڈ لائف کے علاوہ انہی کے ذمہ ہے تاہم یہ امر اپنی جگہ بہت ہی تشویشناک اور قابل افسوس ہے کہ یہ سی بی اوز مالکان غیر قانونی شکاریوں سے لا کھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر خود انہیںشکار کاموقع فراہم کرتے ہیں، اڑیال کے شکار کی قانونی فیس اٹھارہ ہزار ڈالر یعنی لگ بھگ 22لاکھ روپے گورنمنٹ کے خزانے میں شکار سے پہلے جمع کروانا پڑتی ہے اور یہی رقم بعد ازاں ان کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی سی بی از کے مالکان کو سبسڈی کی شکل میں دی جاتی ہے،باہر ممالک سے آنے والے افراد شکار سے قبل رقم قومی خزانے میں جمع کراتے ہیں مگر مقامی افراد 22لاکھ کی بجائے پچاس ساٹھ ہزار سی بی اوز کے مالکان اور دس سے 15ہزار محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں کو دیکر ایک وقت میں ایک کی بجائے کئی جانور شکار کر لیتے ہیں اور پھر اس کا گوشت لاکھوں روپے میں فروخت کرتے ہیں، اگر کوئی شخص پیسے دیے بنا شکار کرے اور پکڑا جائے تو اکثر اوقات محکمہ کے اہلکار محض شکار کیے گئے اڑیال کے گوشت پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں جو بہت ہی مہنگا بکتا ہے اور افسران کو تحفتاً پیش کیا جاتا ہے جبکہ بعض اوقات ایسے لوگوں کو موقع پر معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، حکومت پنجاب ،وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ سمیت کوئی ہے جو ان معصوم جانوروں اور پرندوں کے بے دریغ قتل عام کا نوٹس لے اور ان کی تیزی سے معدوم ہوتی نسل کو سہار ا دے ۔