کانفرنس کے لئے چھ کنال اراضی خرید لی گئی ،ہزاروں افراد شریک ہوں گے، مولانا عبید الر حمن

کانفرنس کے لئے چھ کنال اراضی خرید لی گئی ،ہزاروں افراد شریک ہوں گے، مولانا عبید الر حمن

تلہ گنگ (ارشد کو ٹگلہ سے) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ”قادیانیوں“ کے علاقہ پچنند میں ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سترہ فروری کو ہو گی جس کی تیاریاں و انتظامات زور وشور سے جاری ہیں۔کانفرنس ضلع چکوال کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے علماءخطاب اور علاقہ سے ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔پچنند میں ایک سو کے قریب قادیانی موجود ہیں،درجنوں قادیانی اسلام قبول کر چکے ہیں،کانفرنس کے لئے چھ کنال اراضی خرید لی گئی ہے۔ پانچ قادیانیوں کے ووٹ تاحال بھی مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں موجود ہیں وہ نکالے جائیں۔تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی کے لئے کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔ان خیالا ت کا اظہار تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے روح رواں مولانا عبید الر حمن ،ملک طارق ایڈووکیٹ ،مولانا زبیر احمد ،ملک مسعود ایڈووکیٹ نے قاضی ہاﺅس پر میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔رہنماﺅں نے کہا کہ 97سال ختم نبوت پر کام نہ ہو سکا جس سے موضع پچنند میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان نکاح بھی ہو ئے 26مئی 2011میں پہلی تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جسمیں ہزاروں افراد نے شرکت کی ،منظور ومبارک وغیر ہ خاندان کا قادینوں کیساتھ گہرا رشتہ بن گیا تھا اور مبارک کا ایک قادیانی بشارت کا جنازہ پڑھنے کے بعد اسکے عزیز واقارب شدید غم وغصہ میں آ گئے جس کے بعد پورے خاندان نے بھرپور ایمانی جذبے کیساتھ قادیانیوں سے لا تعلقی کا اعلان کیا۔ مولانا عبید الر حمن کا مزید کہنا تھا کہ ختم نبوت کی بیداری سے موضع مرادوند کے ایک قادیانی خاندان سے تعلق رکھنے والی چار بہنوں نے اسلام قبول کر کے مسلمان خاندانوں میں شادیاں کر لیں اور انکی پانچویں بڑی بہن نے بھی قادیانیت پر لعنت بھیج کر خود ہی ختم نبوت کے حلف نامے پر دستخط کر دئیے۔محمد خان روسی اور اسکے خاندان کے پانچ افراد قادیانیت کے فارم فل کر چکے تھے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اراکین کی کوششوں سے انکو دوبارہ ایمان لانے کی توفیق نصیب ہو ئی۔تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے روح رواں کا مزید کہنا تھا کہ قادنیوں کے انچارج کے بیٹے وٹر نری ڈاکٹر پرویز اقبال نے مسلمان لڑکی سے شادی کر لی اور احاطہ عدالت میں اپنا اسلامک سر ٹیفکیٹ شو کر کے قادیا نیوں سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا ،قادیانیت کے فروغ کیلئے آ سٹر یلیا سے گرانٹ کے ذریعے پچنند نئی عبا تگاہ کا منصوبہ بنایا گیا ،18اپریل 2011کو پہلی بار قادیانیوں کیساتھ مقامی افراد اور علما ءکرام کے وفد نے مذاکرات کئے ،نئی قادیانی عبادتگاہ کی تعمیر بذریعہ سول جج رکوا دی گئی۔تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے روح رواں مولانا عبید الر حمن کا مزید کہنا تھا کہ 1962میں بننے والی قادیانیوں کی پرانی عبادتگاہ چار مینارو محراب اور اسلامی نام کی تختی نصب کی گئی جسکو پچیس اکتوبر 2011کو گرانے کا دعوی سول جج کی عدالت میں کیا گیا اورقادیانیوں نے سول کورٹ کے فیصلہ کیخلاف سیشن کورٹ میں اپیل کی جو بالا آ خر چار سال کی طویل جدوجہد کے بعد عدالتی فیصلہ کی بنیاد پر انتظامیہ نے مینار و محراب گرا دئیے ،انکی عباد تگاہ کے ٹیلی فون اور بجلی کے بلوں کے اڈریس پر مسجد لکھا ہوا جسکو بذریعہ لیگل عدالتی نوٹس کے بعد لفظ مسجد ختم کرادیا گیا۔انہو ں نے مزید کہا کہ مرادوند اور ڈھوک سوکی داخلی پچنند کے دو گورنمنٹ گرلز سکولوں کے گیٹ پر قاضی عیاض الدین احمد قادیانی کے تعارف کی شیٹیں نصب کی گئیں جنکو محکمہ تعلیم نے ہٹا دیا ،23قادنیوں کے ووٹ مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں درج تھے جنہیں 2017کے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے نو ٹس کبعد خارج کر دیا گیا۔ پانچ قادیانی کے ووٹ تاحال بھی مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں موجود ہیں انکے اعتراضات دو بارہ جمع کروائیں جائیں گے۔مولانا عبید الر حمن کا مزید کہنا تھا کہ ترحدہ چوک کا نام ضلع چیئر مین ملک طارق اسلم ڈھلی نے ختم نبوت چوک کانام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور چھٹی کانفرنس کے بعد مسما ة آ سیہ بی بی ،مسماة غلام سکینہ اور مسما ة زنیب بی بی نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے اور تحفظ ختم نبوت کانفرنس کیلئے ہر سال ہمیں جگہ کی مشکلات کا سامنا تھا اب ختم نبوت کے ذمہ داروں نے مو ضع پچنند میں 6کنال اراضی خرید لی جہاں اب کانفرنس کیلئے پنڈال تیار کروا یا جا ئےگا۔