ٹریفک مسائل عروج پر۔۔۔تحریر:شفاعت ملک

ٹریفک مسائل عروج پر۔۔۔تحریر:شفاعت ملک

شہر میں ٹریفک کے مسائل آئے دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ جن کی وجوہات تو کئی ہیں مگر ان میں سے ایک بڑی وجہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی بھی ہے۔ جس کا پورا ہونا موجودہ حالات میں مشکل نظر آتا ہے۔ اب ان حالات میں اپنی مدد آپ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ جیسے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور طلبا کی مدد حاصل کر کے رضا کاروں کی خدمات حاصل کی جائیں ۔ جن کی ٹریفک پولیس سے ضروری تربیت کروا کر مصروف گھنٹوں میں ڈیوٹیاں لگائی جائیں جو ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح صفائی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے بھی یہ کام ٹھیکہ پر دیا جا سکتا ہے جس کا عندیہ حکومت پنجاب کی طرف سے بھی سے دیا گیا ہے۔ اگر اس مد میں میونسپل کمیٹی ہر گھر پر کوئی ٹیکس عائد کر نا چاہے تو بھی کر سکتی ہے وگرنہ دوسری صورت میں مخیر خضرات بھی اس کام میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لئے ہم حکومت کی طرف دیکھتے ہیں اور اکثر اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرپاتے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ حکومتی وسائل اتنے نہیں ہوتے جتنے ہم سمجھ رہے ہو تے ہیں۔ ہمیں بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالنے کی عادت اپنانی ہو گی۔ صفائی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ہم ایک کام اور بھی کر سکتے ہیں اور وہ ہے پلاسٹک بیگز کا کم سے کم استعمال۔ آہستہ آہستہ ہم پوری طرح بھی پلاسٹگ بیگز سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ میں ایک عرصہ سے پلاسٹگ بیگز کے نقصانات پر کالم تحریر کر رہا ہوں۔ اور اس حوالے سے آگاہی دینے کی بھی کوششوں میں ہوں۔ ان بیگز کے متبادل کے طور پر ہمیں کپڑے کے بنے تھیلے استعمال کر نے کی عادت اپنانی ہو گی اور حکومتی سطع پر پلاسٹک بیگز پر پابابندی جیسے اقدات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ پانی کے استعمال میں بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور میونسپل کمیٹی کے پانی کے بلز بروقت ادا کر نا بھی اتنا ہی ضروری ہے جیسے ہم بجلی ، گیس اور فون کے بلز بروقت ادا کرتے ہیں۔ جب ہم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر نے کی کوشش کریں گے تب ہی ہم حکومتی اداروں کی کارکردگی پر انگلی اٹھاسکیں گے۔ کھیلوں کی سہولیات اور کھیلوں کے مقابلے ایک زمانے میں تلہ گنگ کی پہچان تھے۔ مگر آبادی بڑھنے کے ساتھ جہاں پر کھیلوں کی سہولیات ناکافی ہو گئی ہیں وہاں کھیلوں کے مقابلے بھی نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ہاکی، کرکٹ اور فٹ بال کے قومی سطع کے ٹورنامنٹس منعقد کروائے جاتے تھے مگر وسائل کی کمی اور حکومتی عدم دلچسپی کی بدولت ایسے ایونٹس ختم ہو چکے ہیں۔ اس مسئلے پر بھی ہمارے موجودہ ایم این اے صاحب کو خصوصی دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین۔