کم عمر ڈرائیوروں کی بھرمار ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

کم عمر ڈرائیوروں کی بھرمار ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

شہر میں کم عمر ڈرائیورز کی بہتات نے ٹریفک کے معاملات کو سنگین کر دیا ہے۔ حادثات معمول بن چکے ہیں اور انتظامیہ سب ٹھیک ہے کا راگ الاپتی نظر آتی ہے۔ اکثر سکولوں میں بچے موٹر سائیکل پر آتے جاتے ہیں۔ اور ان کے لئے باقاعدہ پارکنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ اب ان حالات میں کس کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کر نے میں اپنا کردار ادا کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ جمعہ والے دن توشہر کے تمام بائی پاس اور متصل روڈ ون ویلنگ کے شوقینوں سے بھرے رہتے ہیں ۔ حادثات کی خبریں بھی اکثر سننے کو ملتی ہیں مگر انتظامیہ کی طرف سے کوئی اقدام دیکھنے کو نہیں ملتے۔ چند پولیس اہلکاران جگہوں پر چند گھنٹوں کے لئے کھڑا کر نے سے حالات میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے۔ شہر میں تجاوزات کی بھرمار دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہاں کوئی حکومتی ادارہ موجود بھی ہے ۔ گزشتہ سے پیوستہ کالم میں خواتین اور بچوں کے پارک کی صورتحال کی بات ہوئی تھی جس پر کئی احباب نے شہر کے واحد پارک کے مسائل کی نشاندہی کا بھی کہاتھا۔ تو جناب جناح پارک پر کئی سالوں سے لاکھوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں مگر اب بھی وہاں چیزں جوں کی توں ہیں۔ میونسپل کمیٹی کے دفتر سے ملحقہ اس پارک کی صورتحال ایک عرصے سے میرے کالموں کا عنوان رہ چکی ہے مگر ارباب اختیار کے لئے شاید ان مسئلوں کے حل کے لئے وقت کی کمی آڑے آتی ہے یا جیسے میں اکثر کہتا ہوں ان کو ان چیزوں کی اہمیت و افادیت کا ادراک ہی نہیں ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہ ایک طرف تو تلہ گنگ میونسپل کمیٹی کے پاس وسائل کی کمی کا رونا ہے تو دوسری طرف میونسپل کمیٹی لاوہ کے فنڈز خرچ ہو نے کے بجائے حکومتی خزانے میں ہی موجود رہتے ہیں۔ اس صورتحال کی طرف بھی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب بھر میں شایدہی ایسی کوئی میونسپل کمیٹی ہو جس کے فنڈز استعمال ہی نہ ہو رہے ہوں۔ ہماری تحصیلوں کے الگ ہی معاملے ہیں ایک طرف فنڈز نہیں اور دوسری طرف استعمال نہیں۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین۔