فرزند تلہ گنگ کی کاوشیں، وزیر صحت کا دورہ اور تلہ گنگ کا مستقبل ۔۔۔تحریر :محبوب حسین جراح

فرزند تلہ گنگ کی کاوشیں، وزیر صحت کا دورہ اور تلہ گنگ کا مستقبل ۔۔۔تحریر :محبوب حسین جراح

طویل ترین غیر حاضری کے بعد قارئین محترم حاضر خدمت ہوا غیر حاضری کی وجہ کئی دوست احباب نے پوچھی وجہ کوئی خاص نہیں تھی ملک سیاسی اور سیاستدانوں کے رویئے کی وجہ سے بہتر یہی سمجھا کہ ابھی کالم لکھنا بے سود ہے کیونکہ کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی رہنماءکے بارے میں تجزیہ کریں تو وہ جماعت یا سیاسی رہنماءاگلے دن کسی اور کے زلف اسیر نظر آتے ہیں یہی اہم وجہ تھی جس کی وجہ سے کیالکھوں اور کیانہ لکھوں عوامی مسائل پر لکھو ں تو ایک پارٹی یا شخصیت خوش جبکہ دوسری پارٹی یاشخصیت ناراض اور اوپر سے ان کے چاہنے والوں کی تیرو ترکش طعنے لفافہ صحافی بکاو مال اور پتہ نہیں کیا کیا لقابات دے دیئے جاتے ہیں اور جب نہ کچھ لکھیں تو بھی صحافی کو کوسا جاتاہے کہ اب ان کا منہ بند ہو گیا ان کے قلم کو زنگ لگ گیا ہے اب ان کے قلم خاموش کیوں ہے اب صحافی یا قلم نگار جائے تو جائے کہاں ؟ اس دور میں صحافت کرنا انتہائی مشکل ہوگیا صحافی کو اپنی عزت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ معذرت چاہتاہوں اصل موضوع سے ہٹ کر بات لمبی ہوگئی لیکن کیا کروں میں اپنی صحافی برادری کے دکھڑے کس کس کو سناوں ؟ قارئین محترم قومی الیکشن سے پہلے ملک میںجس طرح کا ماحول تھا نواز شریف کی حکومت تھی بس ایک نظام چل رہا تھا لیکن حکومتی پالیسیوں سے مایوس ہوکر عوام نے آخرکار عمران خان کو اپنا مسیحا مان کر انہیں ملک کے سب سے بڑے اور اہم عہدے پر بیٹھا دیا وزیر اعظم عمران خان نے 100دن مانگے کہ ہم ان 100دنوں میں عوام کو ریلیف دیں گے لیکن ان 100دنوں میں تو ریلیف نہ مل سکا لیکن پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مترادف یہ امید ابھی قائم و دائم ہے کہ انشاءاللہ وزیراعظم عمران خان اس ملک کو بحرانوں سے نکال لیں گے ۔ گیس کی کمی اور بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے ماضی کی حکومت کی یاد تازہ کردیتی ہے جس نے جیسے تیسے سردیوں میں عوام کو گیس اور بجلی جیسی سہولت میں کمی نہیں آنے دی لیکن ناجانے کیوں پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک بنیادی مسائل پرقابوپانے کیوں ناکام ہے میں اگر تلہ گنگ کی بات کروں تو اس وقت جو تلہ گنگ کے حالات ہیں آج تک ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی ۔ سردیوں میں فرزند تلہ گنگ گیس کے پریشر پر خصوصی توجہ دیتے تھے بلکہ خود اس کام کی نگرانی کرتے تھے لیکن اب جبکہ وہ اقتدار میں ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ماضی کے برعکس ابھی تک وہ اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکے اور رہی سہی کسر بجلی کی لوڈشیڈنگ نے پوری کردی کاروباری طبقہ سخت مایوسی کا شکار ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔فرزند تلہ گنگ صوبائی وزیرحافظ عمار یاسر ماضی کے اقتدار پھر طویل اپوزیشن دور میں تلہ گنگ اور لاوہ کے لئے گراں قدر خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اب وہ اسی کشمکش میں یقیناہوں گے کہ کس طرح اپنی دھرتی کو مسائل سے نکال سکیں اسی سلسلے میں ان کی دعوت پر صوبائی وزیر یاسمین راشدہ نے تلہ گنگ سٹی ہسپتال اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ کیا جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی میں اس دن سٹی ہسپتال میں ہی تھا میرے ایک دوست کو تکلیف ہو گئی تھی جس کو دیکھنے میںبھی سٹی ہسپتال تھا ابھی میں ہسپتال سے باہر ہی نکل رہا تھا کہ دیکھاکہ پروٹوکول گاڑیوں کا جھرمٹ ہسپتال میں داخل ہوا ابھی سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس وقت رات کے اندھیرے میںکون سی شخصیت آگئی ہے دیکھاتو صوبائی وزرا حافظ عمار یاسر کے ساتھ یاسمین راشدہ بھی گاڑی سے نکل رہی تھیں بڑی حیرانگی ہوئی کہ یہ کیا ان کے دورے کا کسی کو علم ہی نہیں ہے ۔ اسکے بارے میں معلومات لیں تو بتایا گیا کہ صوبائی وزیر صحت کو دونوں ہسپتال کے حقیقی مسائل دیکھانا تھاجس کے لئے دورہ کو انتہائی خفیہ رکھا گیا لیکن دن بھر کی مصروفیت کی وجہ سے صوبائی وزیرصحت شام کا ٹائم نکال سکیں۔ اس موقع فرزند تلہ گنگ حافظ عمار یاسرنے سٹی ہسپتال اور ٹی ایچ کیو ہسپتال کا مکمل وزٹ کروایا ایم ایس سٹی ہسپتال ڈاکٹر عبدالرزاق نے سٹی ہسپتال میں عملے کی کمی اور دیگر مسائل پر بھرپور بریفننگ دی جس پر صوبائی وزیر یاسمین راشدہ نے فوراًان مسائل پر احکامات جاری کئے بعدازاں دونوں وزراءنے ٹی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا اوروہاں کے مسائل جانے اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر طاہر زمان نے بھی صوبائی وزیر صحت یاسمین راشدہ کو بریف کیا اور مسائل سے آگاہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر یاسمین راشدہ نے کہا کہ ان دونوں ہسپتال کے مسائل کا مجھے حافظ عمار یاسر نے باخوبی آگاہ کیا ہوا ہے یہی وجہ ہے ان کے کہنے پر میں نے آج یہاں دورہ کیا ہے اور انشاءاللہ تلہ گنگ کی عوام جلد بہتر صحت کی سہولیات سے مستفید ہوں گے ۔صوبائی وزیر فرزند تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کی علاقے سے محبت کی بات کی جائے تو انہوں نے مشرف دور میں بھی بڑے اہم پراجیکٹ مکمل کروائے ہیں جس میں سٹی ہسپتال کا قیام ، تلہ گنگ شہر کو گیس کی فراہمی،ڈیمز،میانوالی تلہ گنگ ،چکوال ، راولپنڈی روڈ کا کاکارپٹ کروانا وغیرہ سمیت دیگر بڑے پراجیکٹ دیئے اس کے بعد اپوزیشن میںہونے کے باوجود انہوں نے تلہ گنگ کی عوام کی خدمت کرتے رہے اور کر رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک ملاقات میں انہوں نے بتایاکہ سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ابھی ہم مسائل میں گھرے ہوئے ہیں فنڈز کی کمی ہے آمدہ بجٹ کے بعد انشاءاللہ فنڈز ملیں گے جس پر یہ حکومت عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گیاانہوں نے بتایا کہ تلہ گنگ میں گیس کے پریشر کی کمی کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک سب سے اہم مسئلہ ٹمن سے آنی والی گیس پائپ لائن آبادی کے لحاظ سے کم قطر والی ہے اور دوسرا مسئلہ پریشروال جو تلہ گنگ سے 65 کلو میٹر لگا ہواہے جس کی وجہ سے گیس کے پریشر میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے لئے میری اور ایم این اے چوہدری سالک حسین کی ایم ڈی گیس سے ملاقات ہو چکی ہے جن میں ان سے اس مسئلے کے لئے مستقل بنیادوں پر حل کے لئے تجاویز ددی جس پر گرمیوں میں اہم پیش رفت ہوگی انہوں نے بتایاکہ ق لیگ کا اس وقت تلہ گنگ صحت اور تعلیم پر زیادہ فوکس ہے جس کے لئے ہم کام کررہے ہیں باقی دیگر مسائل جن میں رہ جانے والوں علاقوں میں گیس ،بجلی اور روڈز کے منصوبے ہماری نگاہ میں ہیں انشاءاللہ ان پر بھی فنڈز کی فراہمی کے ساتھ کام شروع ہوجائے گاجس کے لئے ابھی عوام کو تھوڑا صبر کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ماضی کی حکومت نے ریکارڈ قرضے لئے ہوئے ہیں وزیر اعظم عمران خان کا یہی مقصد ہے کہ پہلے ہم قرضوں کو کسی حد تک کم کرلیں پھر عوام کے مسائل پر بھرپور توجہ دی جائے گی ۔فرزند تلہ گنگ صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر کی مخلصانہ کاوشوں کو دیکھیں تو یقیناً وہ روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر نظر آتے ہیں ان کے دل میں عوام کی خدمت کا جذبہ بھی خوب بھرا ہوا ہے وہ تھانہ کچہری کی سیاست سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہتے ہیں ان کا کہنا کہ تھانہ کچہری کی سیاست سے ہم عوام کے اجتماعی مسائل حل نہیں کرسکیں اس لئے وہ بار بار عوام سے اپیل بھی کرتے ہیں کہ خدارا میرے پاس علاقے کے اجتماعی مسائل لے کر آئیں کسی کے ساتھ کسی وڈیرے ،سردار نے کوئی ظلم کیا کسی کی جگہ پر قبضہ ہوا ہے یا ظلم و ستم ہوا ہے وہ مسائل لے کر آسکتے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل کے لئے تھانہ میں مت درخواستیں دو۔ حافظ عمار یاسر کی سیاست کی ایک بڑی اہم بات یہ دیکھنے میں کہ چاپلوس، ڈھولچی ،مفاد پرست ٹولے کی اجاراداری ختم ہوگئی ہے جس وقت فرزند تلہ گنگ اقتدار کی مسند پر بیٹھے تو یہ ٹولہ ان کے اردگرد جمع ہو گیا جس کی وجہ سے یہ تاثر ملا کہ اب فرزند تلہ گنگ کو اقتدار مل گیا اب یہ بھی واہ واہ ،ہٹو بچو کی صدا پر مست ہو جائیں گے لیکن ایسے ٹولے کے ارمان ارمان ہی رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صوبائی وزیر کے بھائی حاجی طلحہ زبیر اور حاجی عمر حبیب نے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مفاد پرست ٹولے کی دال نہیں گل سکی ۔ایم این اے ،ایم پی اے سیکرٹریٹ کے انچارج حاجی عمر حبیب پر بہت زیادہ پریشر ہے عوام الناس غیر ضروری کالیں کرکے ان کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں جیسے ایک کالر نے انہیں کہا کہ میں نے گیزر لیا ہے مہربانی کرکے دکاندار کو بولیں کہ مجھے پیسوں میں رعایت کرے یہ حالت ہے جب عوام اجتماعی کاموں کے بجائے ذاتی کاموں میں بے جا الجھائے گی تو عوامی کام کیسے ہوں گے۔ ایم این اے چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کے مسائل کے حل کے لئے تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں امید ہے وہ ماضی کی طرح تلہ گنگ اور لاوہ کی عوام کے لئے کوئی بڑا پیکیج لےکرآئیں گے۔