تلہ گنگ مسائل کی آ ماجگاہ۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

تلہ گنگ مسائل کی آ ماجگاہ۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

ٹریفک حادثات کی تعداد میں آئے دن اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر بنیادی وجہ سڑکوں کی خراب صورتحال ہے۔ بین الصوبائی شاہراہ کی خراب صورتحال کے ساتھ ساتھ شہر کی مرکزی شاہراہ چند سالوں سے ایک سابقہ صاحب بہادر کے کارناموں کی بدولت خراب ترین شکل میں موجود ہے۔شہر کی ایک اہم سڑک فاطمہ جناح روڈ کی ابتری کی داستان بہت پرانی ہے۔ پشاور سے کراچی جانے والی تمام بھاری گاڑیاں اس سڑک کو استعمال کرتی آئی ہیں۔ کچھ قصور ناقص تعمیر کا بھی ہے۔ اس سڑک کے دونوں اطراف میں گنجان آبادی موجود ہے اور بھاری گاڑیوں کی آمد رفت کی بدولت ان افراد کی زندگیاں بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر ارباب اختیار کے پاس ہمارے مسائل کے حل کے لئے نہ تو کوئی منصوبہ موجودہے اور نہ وقت۔ اب جبکہ نکہ کہوٹ سے لیکر پرانے بائی پاس تک سڑک تعمیر ہوچکی ہے تو فاطمہ جناح روڈ کو بھاری گاڑیوں کے لئے بلکل بند کر دینا چاہیے تھا مگر صورتحال بلکل مختلف ہے۔ پرانا پنڈی روڈ (مندیال مسجد تا مدنی چوک) اور ہسپتال روڈ کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے۔ عوام یہ نہیں جانتے کہ کون سی سڑک کس محکمے کے تحت ہے۔ عوام صرف یہ جانتی ہے کہ تمام محکمے حکومت کے ماتحت ہیں اور ہمارے ایم این اے ، ایم پی ایز اور افسران حکومت کے نمائندے ہیں۔ اور شاید ان کا بنیادی فرض ہمارے مسائل حل کرنا ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ان لوگوں نے اپنے مسائل تو خوب اچھے سے حل کئے مگر ہمارے لئے وقت اور وسائل کی کمی کا رونا ہی رہ گیا۔ سکولوں، کالجوں اورہسپتالوں میں تمام ضروریات اور سہولتوں کی فراہمی ، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، کھیلوں کے میدانوں کی دستیابی جیسے مسائل ہمیشہ سے توجہ طلب ہیں۔ جس پر آج تک کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ ہاں البتہ نالیوں اور گلیوں کے ٹھیکے خوب دئیے گئے۔ اپنی مرضی کے افسران اور اہلکار ضرور رکھے گئے اور ناپسند افسران اور اہلکاروں کو انتقام کا نشانہ ضرور بنایا گیا۔زمانہ ہوگیا یہ سب چلتا رہا مگر اب شاید اس کاتسلسل مشکل ہو گا۔ عوام میں آگاہی اور شعور میں بہتری آرہی تو امید کیجاسکتی ہے کہ اب اپنے حقوق کے لئے زیادہ آوازیں بلند ہونگیں اور سب سے بڑی بات اپنے حقیقی مسائل سے آگاہی پیدا ہو گی ۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین