تلہ گنگ کے نوجوان گراﺅنڈ سے محروم ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

تلہ گنگ کے نوجوان گراﺅنڈ سے محروم ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

کھیلوں کی سہولیات کی کمی کارونا تو ایک عرصے سے رویا جا رہا ہے مگر ارباب اختیار کا اس طرف توجہ نہ دینا کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے ہاں ایک وقت میں کرکٹ، ہاکی،فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ہوا کرتے تھے۔ سہولیات اس وقت بھی نہ ہونے کے برابر تھیں مگر نوجوانوں کاکھیل کے میدانوں کی طرف رجحا ن بھی بہت تھا۔ انٹر نیٹ، سوشل میڈیا اور موبائل کے عام ہو نے کی وجہ سے نوجوانوں نے بھی کھیلوں سے دوری اختیا ر کر لی۔ اس صورتحال میں جہاں کھیلوں کے میدان ویران ہوئے وہاںمعاشرے میں کئی برائیوں نے بھی جنم لیا ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں سالانہ کھیلوں کے مقابلے بھی اس گرمجوشی سے منعقد نہیں کروائے جاتے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے بھی کھیلوں کی اہمیت اجاگر کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ بس صرف اپنے کاروبار کی طرف توجہ دی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیلوں کی اہمیت اجاگر کر نے کے ساتھ ساتھ سہولیات بھی فراہم کی جائیں تا کہ نوجوان اس مثبت سرگرمی کی طرف راغب ہوں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اپنی بساط کے مطابق کوششوں کا آغاز کر نا چاہیئے تاکہ ہمارے میدان آباد ہوں اور ہم پھر سے ہر کھیل کے اچھے کھلاڑی پیدا کر سکیں اوراپنے علاقے کا نام روشن کر نے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود کئی اخلاقی برائیوں کے پھیلنے کا راستہ بھی روک سکیں۔ میدانوں کی کمی کامسئلہ تو پورے ملک میں ہی ہے مگر جو موجود ہیں ان کو استعمال کر نے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ مقامی حکومت کو کرکٹ ، ہاکی اور فٹ بال کے پرانے مشہور کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر علاقائی اور قومی سطح کے مقابلے کروانے چاہیئے تا کہ نوجوانوں میں دوبارہ وہ ہی دلچسپی پید ا کی جا سکے۔ مجھے اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ بعض اوقات حکومت کے پاس وسائل کی کمی بھی آڑے آجاتی ہے مگر مخیر حضرات کی مدد سے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ بس ضرورت ہے تو ذر ا دلچسپی لینے کی۔ پہلے بھی مخیر حضرات کی مددکی وجہ سے بہت اچھے ٹورنامنٹس کرائے جاتے تھے جس کی وجہ سے سارا شہر ان سے لطف اندوز بھی ہوتا تھا اور نوجوان کھیلوں کی طرف راغب بھی ہوتے تھے۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین