اک شام شعراءکے ساتھ۔۔۔تحریر :نمرہ ملک

اک شام شعراءکے ساتھ۔۔۔تحریر :نمرہ ملک

عالمی ادب اکادمی کلر کہار کے زیر اہتمام گرینڈ امپیرئیل ہوٹل کلر کہار میں کل پاکستان مشاعرہ ہوا جس میں نامور شعراءنے شرکت کی۔نو نومبر کو ہونے والا یہ مشاعرہ اس لحاظ سے بھی کامیاب تھا کہ اس میں علاقائی سطح کے علاوہ قومی سطح کے بہت سے نامور شعراءنے شرکت کی۔معروف شاعر شہزاد نیر اس مشاعرے کے مہمان خصوصی تھے۔دس نومبر کی شام پریس فورم میڈیا گروپ کے حوالے سے اس لیے اہم ہو گئی کہ شہزاد نیر اپنے رفقاءکے ہمراہ تلہ گنگ آفس تشریف لائے۔ان کے ہمراہ معروف شاعر عتیق چشتی اور تنویر طاہر کیانی بھی تھے۔پریس فورم میڈیا گروپ میں راقمہ کے علاوہ تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے صد راور میرے اولین استاد جناب مختیار احمد فاروقی ،ہاشمی خانوادے کے چشم و چراغ علمی شخصیت اور میرے استاد محترم کاشف عمران شاہ ہاشمی،معروف بزنس مین ،تجزیہ نگار اورتلخ قلمکار عمران سرور جبی اور کالم نگار اور علمی و ادبی شخصیت اورممتاز عالم دیوبند حاجی خلیل الر©حمن نے ان کا استقبال کیا۔پنجابی کے معروف شاعر ڈاکٹر محمد بن اکبر بھی اس موقع پہ موجود تھے۔شہزاد نیر نے اس موقع پہ سیر حاصل گفتگو کی اور شاعری کے بارے میں قیمتی خیالات سے نوازا۔
سرزمین تلہ گنگ بہت زرخیز اور علمی و ادبی حوالے سے مشہور مٹی کی خاصیت رکھتی ہے۔مہمانوں نے تلہ گنگ کی اس خصوصیت پہ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔شہزاد نیر نے ضلع چکوال کی باقی خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور علم و ادب سے خصوصی دلچسپی کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے غور کیا ہے کہ چکوال میں علم کا اک بے بہا خزانہ بہہ رہا ہے۔میں نے ایک شاعر کی کل شاعری سنی جس نے کمال لفظوں کے ساتھ ساتھ وسیع تخیل کا استعمال کیا۔شعراءکی اکژیت کے لیے صاحب کتاب ہونا ہی شاعری کی معراج بن گیا ہے جب کہ اہل ادب لوگ کتاب چھپواتے ہوئے شرماتے ہیں۔انہوں نے اک معروف شاعر کی شاعری کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری اس قدر کمال رکھتی ہے کہ دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے مگر ابھی تک وہ اپنی کتاب نہیں لائے کیونکہ وہ خود کو ابھی اس قابل نہیں سمجھتے۔
عتیق چشتی اس موقع پہ کہنے لگے کہ اس میں شک نہیں کہ سالوں سے میدان ادب میں کامیابیاں سمیٹنے والے احباب خود کو صاحب کتاب نہیں کہلاتے کیونکہ ان کے خیال میں ابھی ان کی قابلیت اتنی نہیں ہے مگر کئی ایسے لوگ ہیں جن کے لیے صاحب کتاب ہونا ہی صاحب فن کہلانے کی سند ہے۔عتیق چشتی باکمال شاعر ہیں۔ہر موضوع پہ ان کے پاس معلومات کا ایک خزانہ ہے۔کاشف عمران شاہ ہاشمی کے بارے میں بھی یہ مشہور ہے کہ وہ ہر موضوع پہ بلا جھجھک بولتے اور علمی خزانوں کا منہ کھولتے چلے جاتے ہیں۔عتیق چشتی اور کاشف عمران شاہ ہاشمی کے درمیان ہونے والی گفتگو نے محفل کو چار چاند لگا دئیے۔ہاشمی صاحب نے اپنی گفتگو میں شعراءکرام کو تلہ گنگ کے شہدائ،غازیوں اور اہل علم کی کاوشوں کے بارے میں بتایا۔مختیار احمد فاروقی نے مہمانوں کو تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کی غرض و غائیت کے بارے میں بتایا۔انہوں نے سوسائٹی کی طویل جدوجہد کا زکر کرتے ہوئے بتایا کہ معروف علمی وادبی تنظیم تلہ گنگ آرٹس سوسائٹی کے کریڈٹ پہ کئی نمایاں کارنامے ہیں ۔بلا شبہ اس پلیٹ فارم سے کئی مسائل ہائی لائٹ ہوئے،کئی نوجوانوں نے اس فورم سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اب زندگی کے شعبوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔وڈیرہ شاہی کے خلاف نبرد آزما معروف لکھاری،تجزیہ نگار عمران سرور کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ شاعر بھی ہیں،لوگوں کی اکثریت ان کے تجزیوں اور وڈیرہ شاہی کے خلاف کھلے عام جنگ کی وجہ سے انہیں صرف اک تلخ قلم کار کے طور پہ ہی جانتی ہے۔انہوں نے اپنے علاقے کے مسائل کے بارے میں تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔”دیوان حماسہ“ پہ حاجی خلیل اور عتیق چشتی کی علمیانہ گفتگو نے محفل کو گرما دیا،ساتھ ہی ہمیں اپنی کم علمی کا شدت سے احساس ہوا۔ہمیں اس وقت خیال آیا کہ علم واقعی مومن کی گمشدہ میراث ہے اورکائینات کے اسرار واقعی عقل انسانی کے آگے ہیچ ہیں۔
شعراءکرام نے اپنا اپنا کلام سنایا اور خوب داد سمیٹی۔شہزاد نیر جو اس محفل کے روح رواں تھے،نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”چاک سے اترے وجود“ کے کئی اشعار سنائے اور خوب خوب داد وصول کی۔ان کی اک غزل جو ان کی وجہ شہرت بن چکی ہے ،ان سے فرمائش کر کے سنی گئی۔آپ بھی پڑھئیے اور سر دھنیے۔
تو بنا کے پھر سے بگاڑدے،مجھے چاک سے نہ اتارنا
رہوں کوزہ گر ترے سامنے،مجھے چاک سے نہ اتارنا

تری ”چوب چاک“ کی گردشیں مرے آب و گل میں اتر گئیں
مرے پاﺅں ڈوری سے کاٹ کے مجھے چاک سے نہ اتارنا

تری انگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کف کوزہ گر !مری مان لے ،مجھے چاک سے نہ اتارنا

مجھے گوندھنے میں جو گم ہوئے ترے ہاتھ،ان کا بدل کہاں
کبھی دست غیر کے واسطے ،مجھے چاک سے نہ اتارنا

ترا گیلا ہاتھ جو ہٹ گیا ،مرے بھیگے بھیگے وجود سے
مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے،مجھے چاک سے نہ اتارنا
اور ان اشعار نے تو میلہ لوٹ لیا۔۔
گر جائیں زمیں پر تو سنبھالے نہیں جاتے
بازار میں دکھ در د اچھالے نہیں جاتے
جنگل کے یہ پودے ہیں انہیں چھوڑ دے نیر!
غم آپ جواں ہوتے ہیں ،پالے نہیں جاتے
تنویر طاہر کیانی ترنم سے غزل پڑھنے والے شاعر ہیں۔ان کی شاعری ان کے گلے کے لوچ سے مل کر دو آتشہ ہو جاتی ہے ۔پوٹھوہاری کے یہ شاعر جب جب شعر سناتے ہیں ،یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچے گھڑے اور چکنی مٹی کے کوزے لیے پھرتے ہیں،جیسے جیسے وہ شعر سناتے جاتے ہیں ،ویسے ویسے ترنم ان کے گلے سے سر بن کر پنجاب کی مٹی کو پکاتا محسوس ہوتا ہے۔ہماری پرزور فرمائش پہ انہوں نے چند اشعار اپنے مخصوص لہجے میں سنائے۔آپ بھی سر دھنیے!
میں عشقے نی سولی تے چڑھ کے باہیا ہجرے دا چولہ
تے ڈھکیاں اتے بہہ کے شریکاں پایا رولا
شریکاں پایا رولا۔۔۔
توں لندن گڈیاں چ پھرسیں،میں عشقے دے باڑے چ مرساں
جدائیاں ڈاہڈیاں نے سنگییا!تے دل ماڑا روئے تو پولا
شریکاں پایا رولا
کسے نال ہس کے نہ بولیں،میکی کنڈیاں چ نہ رولیں
او دنیا ترکھی بڑی آ،دلے نا توں ایں بھولا
شریکاں پایا رولا
عتیق چشتی کا مدبرانہ انداز بھی ملاحظہ ہو
کسی نے زر تو کسی نے سکوں کشید کیا
ہم اہل عشق نے سوز دروں کشید کیا
جب اپنے آپ میں جھانکا تو اس کا بھید ملا
کمال ہے کہ دروں سے بروں کشید کیا
ہم اہل دل ہیں ،ہمیں آزری نہیں آتی
سخن تراشا نہیں،جوں کا توں کشید کیا
یہ علم شعر عمل کا خراج مانگتا ہے
کشید کر کے بتاﺅ کہ یوں کشید کیا

شعراءکے ساتھ جمی یہ ادبی محفل رات گئے تک جاری رہی،مہمانوں نے سفر نہ کرنا ہوتا تو شائد صبح تک رہتی کہ اس ادبی و علمی بیٹھک سے اٹھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔پریس فورم کی دیرینہ روایت کے تحت راقمہ اور عمران سرور جبی نے شہزاد نیر کو کتابوں کا سیٹ پیش کیا۔حاجی خلیل،مختیار احمد فاروقی ،کاشف ہاشمی نے مہمانوں کو تحائف پیش کیے۔ہم نے اپنے انٹرنیشنل میگزین ”روابط“ کی کاپیاں مہمانوں کو پیش کیں۔شہزاد نیر کا انٹرویو بھی اسی شمارے میں آیا تھا۔وہ میگزین دیکھ کے بہت مسرور ہوئے۔شہزاد نیر نے اپنی تین کتابوں کا سیٹ ”برفاب“،چاک سے اترے وجود،اور خوابشار“ ہمیں پیش کیں۔انہوں نے پریس فورم کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نمرہ ملک جیسی خاتون کا اس علاقے میں دلیرانہ صحافت اور قلمی سفر بہت خوش آئیند ہے۔جہاں مردوں کے معاشرے میں خواتین گھر سے نکلتے بھی ڈر جاتی ہیں وہاں تلہ گنگ ،ضلع چکوال جیسے پسماندہ علاقے میں اک خاتون کا بیک وقت ادب کی مختلف اصناف سے منسلک ہونا اور ورکنگ صحافی ہونا علاقے کے لیے واقعی اعزاز ہے جس پہ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔شعراءکرام کے پرزور اصرار پہ ہم نے بھی اپنا کلام سنایا۔آپ بھی پڑھیے اور یقین جانیے کہ یہ نظم اس مردانہ اور حاسد معاشرے میں اک لڑکی کی جدو جہد کی مکمل کہانی ہے۔
(یہ نظم ہماری کتاب ”کہیں تھل میں سسی روتی ہے “ میں شامل ہے)
مجھے اور کہیں لے چل اے دل!
یہاں ہر دام خون کی ہولی ہے
یہ جو انسانوں کی دیوالی ہے
اس رت کو نگلنے والی ہے
اور فرض بھی بس سوالی ہے

مجھے اور کہیں لے چل اے دل!
میرا جی یہاں پہ نہیں لگتا
یہاں خون آشام درندے ہیں
یہاں سوگ بچھا ہے دیواروں پہ
اور زخمی دل کے پرندے ہیں

مجھے اور کہیں لے چل اے دل!
یہاں وحشت آگ لگاتی ہے
میرے دل کو سوگ بناتی ہے
یہ پنچائیت میرے حق والی
مجھے موت کا حکم سناتی ہے

مجھے اور کہیں لے چل اے دل!
جہاں ہاتھ میرے آزاد بھی ہوں
اور جینا نہ اتنا مہنگا ہو
جہاں کوئی نہی مجھ پہ حق جتائے
جہاں عمر کا سودا نہ سستا ہو

مجھے اور کہیں لے چل اے دل!
مجھے اور کہیں لے چل اے دل!