تلہ گنگ مسائل کی دلدل میں ۔۔۔نما ئندے غائب۔تحریر : شفاعت ملک

تلہ گنگ مسائل کی دلدل میں ۔۔۔نما ئندے غائب۔تحریر : شفاعت ملک

تلہ گنگ میں بڑھتی ہو ئی آبادی سے مسائل میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ منصبوبہ بندی کا نہ ہونا اور متعلقہ اداروںکے کام نہ کرنے کی عادت سے حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں۔ نئی آبادیاں بن رہی ہیںنقشے دھڑادھڑ منظور کئے جارہے ہیں۔ان جگہوں پر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کیسے کی جائے گی۔گلیوں نالیوں کی تعمیر کیسے ہو گی۔ سیوریج کا کیا بندوبست ہو گا ۔اس طرف کوئی دھیان نہیں ہے۔ بس تعمیرات کی اجازت دے دیجاتی ہے۔ کاروباری جگہوں پر دکانوں، اونچی عمارتوں اور پلازوں کی تعمیرات بھی عروج پر ہیں ان عمارتوں میں حفاظتی اقدامات کیسے ہونگے اس طرف بھی توجہ نہ ہو نے کے برابر ہے۔ بہتر زندگی اور سہولتوں کی تلاش میں لوگ قریب ترین شہروں یا قصبوںکا رخ کرتے ہیں مگر اس صورتحال میں مناسب منصبو بہ بندی کی بدولت حالات بہتر بنائے جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاںفیصلہ سازوں کو ابھی اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ آنیوالے کچھ سالوں میں حالات کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس وقت اگر حکمت عملی بنا لی جائے تو حالات کو قابو کرنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا مگر دیر کر نے سے شاید حالات قابو نہ کئے جا سکیں۔ امن و امان کی صورتحال ہو ، صفائی کے معاملات ہوں یا ٹریفک کے مسائل ہوں ان سب کی ایک بڑی وجہ منصوبہ بندی کا نہ ہو نا ہے ۔ میں کئی دفعہ تحریر کر چکا ہوں کہ تلہ گنگ جیسی چھوٹی جگہ میں حالات کو ذرا سے دلچسپی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ مگر اتنی دیر نہ کی جائے کہ ایسا ممکن نہ رہے۔سڑک کے دونوں اطراف میں موٹر سائیکلوں اور کاروں کی پارکنگ کی بدولت ٹریفک بند رہتی ہے مگر اب جب لوگوں کے پاس پارکنگ کا کوئی ذریعہ نہ ہو گا تو کیا کریں گے۔ مقامی حکومتوں نے اس مسلئے کے حل کے لئے کبھی کوئی منصبوبہ بندی کی نہ ہی کبھی ایسا اراداہ ظاہرکیا۔ اب جب موٹر سائیکل اور کاریں سڑک کے اطراف میں کھڑے ہو نگے تو ٹریفک کیسے روانی سے چلے گی ۔ سڑک کے کنارے بنے بنک بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان بنکس کی اپنی ذاتی عمارت ہو نی چاہیئے جہاں پر پارکنگ کی سہولت موجودہو۔ ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی نہیں کر نی چا ہیئے ۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین