ضلع چکوال میں پی ٹی آ ئی کی شاندارکامیابی ن لیگی قائدین کے آ پس میں اختلافات سے ہوئی ،سیاسی حلقے

ضلع چکوال میں پی ٹی آ ئی کی شاندارکامیابی ن لیگی قائدین کے آ پس میں اختلافات سے ہوئی ،سیاسی حلقے

چکوال( شفیق ملک )حالیہ انتخابات کے بعد ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ دلچسپ ہوگیا ہے گزشتہ 33سال سے مسلم لیگ ن نے ضلع چکوال پر جس سیاسی حکمرانی کی دھاک بٹھا رکھی تھی اس کا خاتمہ ہوا۔ 25جولائی کے انتخابات سے قبل جون 2013 کے بعد جب پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی ۔چکوال میں مسلم لیگ ن کا جو قلعہ زمین بوس ہوا ہے اس میں عمران خان اور پی ٹی آئی کا کوئی بڑا کردار نہیں بلکہ یہ مسلم لیگ ن کے اپنے پارلیمنٹرینز کے اندر پیدا ہونے والے وہ اختلافات ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کو غیر متوقع طو ر پرضلع کی دو قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔31اکتوبر 2015 کے بلدیاتی انتخابات جو کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے تھے پاکستان تحریک انصاف ان میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دیکھا سکی تھی جبکہ سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس 71یونین کونسلوں میں سے اپنے 22چیئرمین کامیاب کرانے میں کامیاب ہوئے ، واضح رہے کہ یہ کامیابی سردار غلام عباس نے مسلم لیگ ن کے حکومت کے ہوتے ہوئے حاصل کی تھی۔ جس کے بعد مسلم لیگ ن نے 71چیئرمینوں میں سے چالیس کی حمایت حاصل کرلی اور پھر سب سے بڑا معرکہ مسلم لیگ ن نے یہ مارا کہ ضلع کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے الیکشن شروع ہونے سے قبل ہی سردار غلام عبا س کو مسلم لیگ ن میں شامل کرلیا اس طرح ضلع کونسل چکوال کے91رکنی ایوان میں مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادی گروپوں کی تعداد83 تک پہنچ گئی۔ میونسپل کمیٹی تلہ گنگ میں مقابلہ ملک سلیم اقبال اور سردار ذوالفقار دلہہ کے درمیان تھا اور دونوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر نے میونسپل کمیٹی تلہ گنگ میں اکثریت حاصل کرلی۔ تلہ گنگ کی 23یونین کونسلوں میں بھی مقابلہ سردار ذوالفقار دلہہ اور مسلم لیگ ن کے درمیان تھا جس کا فائدہ مسلم لیگ ق نے اٹھایا، جولائی2018کا انتخابی معرکہ شروع ہونے سے قبل اپریل کے آخر میں سردار غلام عباس نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور اس بات کا سو فیصد امکان تھا کہ وہ ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستیں واضح اکثریت سے جیتنے کی پوزیشن پر تھے مگر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے جو سپریم کورٹ تک مسترد ہی رہے اور پھر ضلع چکوال کی تاریخ کا سب سے غیر معمولی انقلاب برپا ہوا اور سردار ذوالفقار علی خان پی پی23میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ واپس کرکے سردار غلام عباس کی جگہ پی ٹی آئی کے حلقہ64کے امیدوار بن گئے اوربھاری اکثریت سے کامیاب بھی ہوگئے۔ سردار ذوالفقار دلہہ کو2013سے2018تک سردار غلام عباس کا سب سے بڑا مخالف گردانا جاتا تھا ۔ حالات کی ستم ظریفی کے نہ چاہتے ہوئے بھی سردار غلام عباس اور سردار ذوالفقار دلہہ اس وقت پی ٹی آئی میںہیں اور سردار ذوالفقار دلہہ NA64میں اپنا مضبوط دھڑا قائم کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کے علاوہ سردار غلام عباس کے بھی کچھ چیئرمینوں کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں جس سے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات یقینی طور پر حلقہ این اے64میں سردار غلام عباس بمقابلہ سردار ذوالفقار دلہہ جبکہ تلہ گنگ میں یہ مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے درمیان لڑے جائیں گے۔تحصیل تلہ گنگ میں پی ٹی آئی کا کردار حالیہ انتخابات کی طرح خاموش تماشائی کا ہی ہو گا۔