کشمیر ،پاکستان کی شہ رگ ایک ادھورا خواب۔۔۔تحریر:تابندہ امجد ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن

کشمیر ،پاکستان کی شہ رگ ایک ادھورا خواب۔۔۔تحریر:تابندہ امجد ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ تسلط 1947کو شروع ہوا جو 71 برس بیت جانے کے بعد بھی جوں کا توں ہے ۔ےہ المےہ اپنے جلو میں مسلمانان کشمیر کے لیے مصائب کا جو طوفان لے کر آےا اس کی دلگداز روداد کے ذکر سے پہلے ہندﺅ سامراج کی ذہنےت کو سمجھنا ضروری ہے۔ہندوﺅں کی مشہور کی مشہور کتاب ارتھ شاسترمیں ہندو سےاست کی حکمت عملی کا بنےادی اصول ےہ بےان کیا گےا ہے کہ جب تم اپنے دشمن کو مارنا چاہو تو اسکے ساتھ دوستی پیدا کرو ۔پھر جب تم اسے مارنے لگو تو اسے گلے لگاﺅ اور جب مار چکو تو اسکی لاش پر آنسو بہاﺅ۔اس کتاب میں مذید کہا گےا ہے کہ صلح و امن کے معاہدے میں جو فریق بھی جو فریق بھی دوسرے سے ذےادہ طاقت رو رہے اسے معاہدہ توڑنے کا حق ہے ۔ارتھ شاستر کی انسانےت سوز تعلیمات کے مطابق ےوں تو ہندوﺅں کی پوری تاریخ مکرو فریب اور دھوکہ دیہی کے لاتعداد واقعات سے عبارت دکھائی دیتی ہے ۔لیکن 70برس پہلے1947ءمیں کالی دیوی کے ان پجارےوں نے مسلمانان جموں و کشمیر کے خون مقدس سے ہولی کھیلنے کے لیے جس عےاری و مکاری اور سفاکی سے کام لیا اس کی مثال خود انکی اپنی تاریخ میں بھی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ۔ اس اعتبار سے ےہ روح فرسا واقع ہندﺅ فسطاےت کی تاریخ میں سےاہ باب کی حیثےت اختےار کر جا تا ہے ۔تقسیم برصغیر کا بنےادی تصور ےہ تھا جس کے مطابق پالستان اور بھارت معرض وجود میں آئے تھے کہ مسلمان ہندوﺅن سے الگ ایک جداگانہ قوم ہیں جن کا دین ،تہذیب ،معاشرت ،ثقافت ،طرز بود و باش ،عبادات ، قومی ہیروز و مشاہیر غرض ہر چیز جدا ہے ۔اس لیے انھیں انکے اکثرےتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسا وطن چاہیے جہاں وہ اپنے مذہب دین، تہذیب و تمدن ،رواےات ، اسلامی تعلیمات اور نظام حےات کے مطابق زند گی گزار سکیں ۔اس اصول کے مطابق طے پاےا تھا کہ مسلم اکثرےت کے ملحقہ علاقے پاکستان میں شامل ہونگے۔اور ہندو اکثرےت کے ملحقہ علاقے بھارت میں رےاست جموں و کشمیر کو غالب مسلم اکثرےت کا ملحقہ علاقہ ہونے کی وجہ سے تقسیم بر صغیر کے اصولوں کے مطابق لاذمی طور پر پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا ۔لیکن رےاست کا ڈوگرا مہاراجہ ہری سنگھ پہلے ہی نیشنل کانفرنس کے ہندو لیڈروں کے ساتھ مل کر مسلمان رےاست کے اس فیصلے کے خلاف ایک مذموم سازش تےار کر چکا تھا۔ اس سازش کے مطابق مہاراجہ نے قےام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان معاہدہ قائم کرکے رےاستی مسلمانوں کو اس مغالطہ میں رکھنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی جگہ ےہ سمجھتے رہیں کہ مہا راجہ رےاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرناچاہتا ہے اور دوسری طرف اس نے کانگریسی لیڈروں کے ایماءپر انتہا پسند ہندوﺅںاور سکھ تنظیموں سے رابطے میں رہا ۔تاکہ مسلمانوں کے قتل عام کا وہ خونی ڈرامہ جو قبل ازیں ان مقامات پر کھیلا جا چکا تھا ۔اب کشمیر میں بھی دہراےا جائے ۔اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے جموں سے جہاں مسلمان پہلے ہی اقلےت میں تھے ذےادہ کونسی جگہ موزوں ہوسکتی تھی ۔چنانچہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے مطابق انتہا پسند ہندﺅ اور سکھ تنظیموں کے مسلحہ غنڈوں کو مشترقی پنجاب سے بلاےا گےا اور جموں اور اس کے مضافات میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی 5,00,000 کے لگ بھگ تھی ۔ان کے قتل عام کا سلسلہ شروع کیا اور انتہاپسند ہندﺅ اور سکھ تنظیموں کے مسلحہ غنڈوں نے جموں شہر و گردونوا کے شہروں اور دیہاتوں سے نہتے اور بے بس مسلمانوں کا مکمل طور پر صفاےا کر دےا ۔جبکہ کچھ لوگ جن کی تعداد بہت تھوڑی تھی بچ بچا کر انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں سےالکوٹ پہنچے۔اس سلسلہ میں اکتوبر 1047میں دو برطانوی صحافےوں نے ان علاقوں کا دورا کر کے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ۔جس میں کہا گےا کہ سانمبہ کے مقام پر وہاں کے 14000مسلمانوں کو چاروں طرف سے محاصرہ میں لے لیا ۔محاصرے کے دوران ہندوﺅں نے مسلمانوں کی خوراک اور پانی بند کر دےا اور وہاں پر کربلا کا منظر پینا کر دےا اور بالآخر مسلمانو ں کا قتل عام شروع کر دےا جس کے نتیجے میں 14000مسلمانوں کی آبادی میں سے صرف 15افرد بچ بچا کر سےالکوٹ پہنچنے میں کامےاب ہوگئے۔ایک اور جگہ لکھا کہ جموں اور ملحقہ دیہات سے 15000مسلمانوں کی آبادی کو اکھنور کے پل پر پاکستان بھجوانے کی غرض سے جمع کیا گےا اور جب تمام مسلمان محاصرے میں آگئے تو ہندوﺅں اور سکھوں نے انکا قتل عام شروع کر دےا اور صرف 40 افراد زندہ بچ سکے ۔بھارت کے مظالم 1947 سے شروع ہوئے اور آج 71 برس تک جاری ہیں۔بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک جانور کی ہلاکت پر واویلا کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں و این جی اوز آج تک کشمیرےوں کی سفاکانہ اور ظالمانہ تشدد اور شہادتوں پر ابھی تک خاموش کےوں ہیں ۔علمی برادری کا کردار بھی افسوس ناک ہے حالانکہ بھارت 1948میں ےہ قرارداد اقوام متحدہ میں لے کر گےا تھا کہ کشمیرےوں کو حق خود ارادےت دےا جائے گا ۔تاکہ وہ اپنی مرضی سے الحاق کا فیصلہ کر یں کہ وہ پاکستان ےا بھارت کا حصی بننا چاہتے ہیں ۔لیکن وہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ میں شامل تمام ممالک کا منہ چڑھا رہی ہے ،پاکستان نے بار ہا بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات پر مذاکرات کی دعوت دی لیکن بھارت ہر بار ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوہئے بات چیت کے عمل سے پھر جاتاہے۔اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں 7,00,000 بھارتی قابض فوجہ نہتے کشمیری مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔لیکن ان میں آزادی کی تحریک کا جذبہ مذید مظبوط اور نکھر کر سامنے آرہا ہے ۔1992 میں بھارت نے بابری مسجد کو شہید کر دےا اور کہا گےا کہ ےہ جگہ مندر کی تھی جہاں مسلمانوں نے ناجائز طور پر مسجد تعمیر کی ہے ۔لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ جھوٹ تھا اور اسی ہندوستان کی عدالت نے فیصلہ دےا کہ اس جگہ پر کوئی مندر نہیں تھا ۔اس موقع پر بھی اقوام عالم کی خاموشی باعث حیرت تھی ۔
حکومت پاکستان نے جس طرح کشمیرےوں پے ڈھائے جانے والے مظالم کو دنےا کے سامنے بے نقاب کیا وہ قابل ستائش ہے ۔ےہی وجہ ہے کہ دنےا کے بیشتر ممالک نے پاکستان کے کشمیر پر موقف کی حماےت کی اور بھارت سے اپنی افواج واپس بلانے اور مسئلہ کشمیر کو ہنگامی بنےادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر ذور دےا انشاءاللہ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر بھارتی مظالم سے آزاد ہوگا ۔اور کشمیرےوں کا اچھا وقت آنے والا ہے ۔
طویل شب فراق سے گھبرا نا اے جگر
ایسی بھی کوئی رات کہ جس کی سحر نہ ہو