لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج چوہدری محمود اختر نامعلوم افراد کی فائر نگ سے جاں بحق ،قاتل موقع سے فرار ۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج چوہدری محمود اختر نامعلوم افراد کی فائر نگ سے جاں بحق ،قاتل موقع سے فرار ۔

چکوال( نما ئندہ بول تلہ گنگ)لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چوہدری محمود اختر کو منگل کی سہ پہر بے دردی کیساتھ قتل کردیا گیا۔ چوہدری محمود اختر اپنے آبائی قصبہ ترکوال سے واپس چکوال آرہے تھے کہ تقریباً چار بجے شام ترکوال موڑ تھانہ جاتلی پہنچے تو وہاںپر پہلے سے منصوبہ بندی کر کے تاک میں بیٹھے موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے کلاشنکوف کا برسٹ مار کر چوہدری محمود اختر کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا۔ جبکہ ان کیساتھ بیٹھی ہوئی ان کی بھیتجی ساجدہ زوجہ طارق شدید زخمی ہوگئی۔ قاتل موٹر سائیکل پرفرار ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ چوہدری محمود اختر کا گاﺅں میں زمین کا تنازعہ تھا اور پہلے بھی فریقین کا ایک ایک شخص قتل ہوچکا تھا۔ 65سالہ چوہدری محمود اختر کا شمار ضلع چکوال کے نامور اور مصروف ترین وکلاءمیں ہوتا تھا۔وہ تین بار صدر ڈسٹرکٹ بار چکوال بھی منتخب ہوئے۔ چوہدری محمود اختر کے قتل پر وکلاءبرادری اور پورے ضلع چکوال میں ہلچل مچ گئی۔قتل کا شاخسانہ اراضی کے پرانے مقدمے میں ان کے مخالف کچھ افراد کی ہلاکت کا بدلہ بتایا جا رہا ہے۔ ریسکیو1122نے موقع پر پہنچ کر چوہدری محمود کی میت اور ساجدہ زوجہ طارق عمر45سال کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو1122 نے بتایا کہ تین بج کر54منٹ پر انہیں کال موصول ہوئی۔چوہدری محمود کے صاحبزادے تیمور علی خان نے بتایا کہ ان کے والد ترکوال گاﺅں میں نماز جنازہ پڑھنے کے بعد واپس چکوال آرہے تھے اور ترکوال موڑ پر کسی موٹر سائیکل سوار نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو1122نے چوہدری محمود اختر کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجر خان جبکہ ان کی بھتیجی ساجدہ طارق کوڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال منتقل کر دیا ۔