تجاوزات کیخلاف آ پر یشن بری طرح فلاپ ،ضلعی وتحصیل انتظامیہ لینڈ مافیا کے مقابلے میں ناکا م ۔

تجاوزات کیخلاف آ پر یشن بری طرح فلاپ ،ضلعی وتحصیل انتظامیہ لینڈ مافیا کے مقابلے میں ناکا م ۔

تلہ گنگ (نما ئندہ بول تلہ گنگ) تلہ گنگ شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بری طرح فلاپ ہوگیا، ضلعی اور تحصیل انتظامیہ قبضہ گروپوں اور لینڈ مافیا کے مقابلے میں ناکام، آپریشن محض دکانوں کے شیڈ اتارنے اور چند ایک ٹھیے اٹھانے تک ہی محدودہوکررہ گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے وژن اور وزیراعلی پنجاب کے حکم کے باوجود تلہ گنگ میں تجاوزات آپریشن سیاسی ایماپر زیرالتوارہا، اس دوران ضمنی الیکشن بھی نئی حکومت کے آڑے آیا رہا، اور جب آپریشن شروع کیاگیاتو ایک جانب تو پنجاب بھر میں تجاوزات اور لینڈ مافیا کے قبضہ سے سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے آپریشن کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے رہے ، اگرچہ متعدد چھوٹے چھوٹے آپریشن کئے گئے ،لیکن تلہ گنگ شہر میں ابھی تک صحیح معنوں میں قبضہ گروپوں اور لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن شروع ہی نہیں کیا جاسکا ۔جب کہ حقیقت میں ضلعی وتحصیل انتظامیہ بخوبی جانتی ہے کہ تلہ گنگ شہر کی مرکزی شاہراہ کے اطراف سمیت ، پنڈی روڈ، کچہری تاادلکہ روڈ، چوک صدیق آباد تا عمر مسجد چوک اوردیگر محلوں میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر یا تو بااثر قبضہ گروپوں نے اپنے قبضے جما رکھے ہیں یا لینڈ مافیا نے گزشتہ ادوار میں برسر اقتدار سیاسی شخصیات کی آشیرباد سے سرکاری زمینیں اشٹاموں پر اونے پونے داموں فروخت کر رکھی ہیں۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت محکمہ مال کا ریکارڈ ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ضلع بھر میں قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی شروع نہ ہونے کا از خود نوٹس لیکر تلہ گنگ اورچکوال میں بھی آپریشن شروع کرائیں تاکہ یہاں بھی سرکاری اراضی کو قبضہ گروپوں اور لینڈ مافیا سے واگزار کروایا جاسکے۔