ٹریفک مسائل ۔۔۔تجاوزات مافیہ ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

ٹریفک مسائل ۔۔۔تجاوزات مافیہ ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

ٹریفک کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی نفری میں کمی ایک بڑی وجہ کہی جا سکتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ غلط پارکنگ ،تجاوزات اور سڑک کے اطراف میںتعمیراتی سامان کے ڈھیر بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تلہ گنگ میں اکثر جگہوں پر تعمیراتی سامان کے ڈھیر ہفتوں تک موجود رہتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیاں اور پیدل چلنے والے مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں جہاں متعلقہ اداروں کی کوتاہی یا چشم پوشی قصور وار ہے وہاں ہمارا اپنا رویہ بھی درست نہیں ہے۔ اب ملک بھر میں پختہ تجاوزات گرانے کاسلسلہ شروع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تجاوزات کو گرایا جائے تو اس کے بعد کی صورتحال کو درست کرنے کے لئے یا بحالی کے لئے بھی منصبوبہ بندی ہونی چاہیئے کیونکہ ہم ماضی بھی کھنڈرات کے مناظر دیکھ چکے ہیں۔ یہاں پر ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب بھی یہ تجاوزات کئے گئے تھے تو اس وقت کے متعلقہ اداروں کے افسران بھی اتنے ہی قصوروار ہیں جنہوں نے ایسے کاموں کی اجازت دی ہو گی ان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے تا کہ آئندہ کو ئی بھی افسر ایسا کام کرتے وقت ہزار با ر سوچے اور اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل نکل سکے۔ڈینگی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔ اس دفعہ مناسب وقت پر احتیاطی تدابیر نہ ہو نے کے برابر اختیار کی گئیں جس کی وجہ سے ہمارے علاقے میں ایک کافی بڑی تعداد اس بخار میں مبتلا ہورہی ہے۔ ن لیگ کی حکومت نے اس مسئلے کو کافی سنجیدگی سے لیاتھا جس کی وجہ سے گزشتہ سالوں میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں محکمے خود سے کام کرنے عادت چھوڑ چکے ہیں اورجب تک ان کو حکومت کی طرف سے سخت ہدایات نہ آئیں وہ بھی سوئے رہتے ہیں۔ اور چونکہ نئی حکومت “دیگر معاملات” میں مصروف ہے تو اس طرف مناسب توجہ نہ ہونے کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جہاں ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں وہاں زیادہ تر کام حکومت کے کرنے کے بھی ہیں۔ جس میں اس دفعہ کوتاہی دیکھنے میں آئی ہے۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین