تجاوزات آ پر یشن ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

تجاوزات آ پر یشن ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

چندسال پہلے تلہ گنگ میں پختہ تجاوزات کے خلاف ایک صاحب بہادر کی طرف سے آپریشن کیا گیا۔ جس کے طریقہ کار سے میں نے اس وقت اپنی تحریروں میں کھل کر اختلاف کیا ۔میرا اختلاف طریقہ کار کے خلاف تھا مگر اصولی طورپر تجاوزات کے خلاف سب ہی ہیں چاہے وہ پختہ ہوں یا عارضی بنیادوں پر۔ تجاوزات کاجن ہمیشہ ہی بوتل سے باہر پایا جاتا ہے جس کی وجہ مناسب منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔ ہم عمومی طورپر اپنی ملکیتی زمین ،جائیداد کا ایک انچ بھی کسی کے قبضے میں نہیں جانے دیتے اور اس کے حصول کے لئے لڑائی جھگڑے سے لیکر قانونی کاروائی تک سب کرتے ہیں تو جناب یہ شہر بھی ہمارا ہے اور جیسے ہم اپنے گھر، جائیداد وغیرہ کی رکھوالی کرتے ہیں تو اپنے شہر کی بھی کرنی چاہیئے۔مقامی انتظامیہ کبھی کبھار تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتی ہے مگر ان کاروائیوں کادورانیہ چندگھنٹوں پر ہی محیط ہو تا ہے۔ اس کے بعد دھول بیٹھ جاتی ہے اور کاروبار زندگی دوبارہ پہلے کی طرح شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو جیسے میںنے عرض کیاکہ ہمیں اپنے شہر کو اپنا گھر تصور کرتے ہوئے اسکی رکھوالی کر نی چاہیئے اور مقامی انتظامیہ کو بھی روزانہ کی بنیادوں پرتجاوزات کے خلاف کاروائی کر نی چاہیئے اگر ایسا ایک مہینہ لگاتار کیاجائے اور اس کے بعد ہفتہ وار یا ہفتہ میں دوباراسکی نگرانی کیجائے تو صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ پختہ تجاوزات کے خلاف بھی ایک موثرحکمت عملی بنا کر آغاز کیا جا سکتا ہے۔ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں پر بااثر لوگوں نے فٹ پاتھ کو باقاعدہ اپنی جائیداد کاحصہ بنا لیا ہے بلکہ اسکی تزئین و آرائش بھی اپنی مرضی سے کررکھی ہے۔ دونوں قسم کی تجاوزات کے خاتمے کی حکومتی سطح پر کوششیں ضروری ہیں مگر ساتھ ساتھ ریڑھیوں والوں، سٹال والوں کے لئے کوئی متبادل جگہوں کا بندوبست بھی کرنا ہو گا تا کہ وہ لوگ اپنا کاروبار کرسکیں۔اس سلسلے میں منصبوبہ بندی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم کا چلانا بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ میںکئی دفعہ عرض کرچکا ہوں کہ کمیٹیاں اور کونسلز وغیرہ بنا کر عوام کو ان فیصلہ سازی کے مراحل میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ مقامی غیرسرکاری تنظیموں کی خدمات بھی حاصل کیجاسکتی ہیں۔ تا کہ ایسا ماحول بنانے میںمددملے کہ لوگ خود ہی تجاوزات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔شاید یہ کام اتناآسان نہ ہو جتنا لکھنے میںلگ رہا ہے اور شاید اس کے اثرات جلد نہ مل سکیں مگر ایسا ہوناممکن ہے اور دیر پا اثرات کا حامل ہے۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین