چوہدری سالک حسین کو ایڈوانس مبارک باد۔تحریر : شفاعت ملک

چوہدری سالک حسین کو ایڈوانس مبارک باد۔تحریر : شفاعت ملک

ہمارے ہاں ٹی وی ٹاک شوز معلومات یا آگاہی سے زیادہ انٹرٹینمنٹ کے لئے دیکھے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت ان شوز کی ریٹنگ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اکثر اینکرز کااپنا ایک نقطعہ نظر ہوتا ہے جو کہ ہونا بھی چاہیئے مگر مہمانوں کو بھی اکثر اوقات اس ہی رائے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ ان کے لئے مشکل پڑجاتی ہے۔ اصل میں ہمارے معاشرے میں کسی دوسری رائے سننے کا ذرا حوصلہ کم ہے۔ اگر مجھے اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے تو یہ ہی حق دوسرے کو بھی ہے۔ جیسے ن لیگ کے چاہنے والے پی ٹی آئی والوں کی کوئی دلیل ماننے کو تیار نہیں ہوتے اسی طرح پی ٹی آئی والوں پربھی ن لیگ والوں کی کوئی دلیل کام نہیں آتی کیونکہ ہم کوئی دوسری رائے ماننا تو درکنار سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس رویے کوبدلنے کی ضرورت ہے مگر یہ کوئی آسان تبدیلی نہیں ہے۔ اس حوالے سے آگاہی اور تربیت کا سلسلہ شروع ہونا چاہیئے۔
خیر سیاست پر آتے ہیں۔فیض ٹمن صاحب کے ضمنی انتخاب سے دستبرداری کے بعدگجرات کے چوہدریوں کی تلہ گنگ کی قومی اسمبلی کی نشست تقریبا پکی ہی ہوچکی ہے۔ ن لیگ بری طرح ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے۔جس کا خدشہ بھی تھا۔ ن لیگ چونکہ ایک شخصیت کے گرد گھومتی تھی اور اب جب ن لیگ پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں ناکام رہی تو لیگی قیادت کی پارٹی کو متحد رکھنے کی رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہو گئی۔ ن لیگ کاضلعی صدر کون ہے، جنرل سیکرٹری کون ہے۔ کوئی نہیں جانتا کیونکہ ان کی تقرری کی ہی نہیں گئی ہے۔ ن لیگ چونکہ ہمیشہ سے ہی الیکٹیبلز کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اس لئے پارٹی کی تنظیم وغیرہ ان کے لئے کبھی بھی اہم چیز نہیں رہی۔ مگر اس دفعہ الیکٹیبلز کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہو گیا۔ تو یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ حکومت ہردور میں الیکٹیبلز کی ہی ہوتی ہے۔ الیکٹیبل ہوناکوئی آسان بات نہیں ہوتی۔ یہ رہنما عوام کی نبض کو بہت اچھی طرح جانتے ہوتے ہیں اور ان کے کام بھی آتے ہیں۔ تھانے اور پٹواری کے اس نظام میں عوام کوان کی ضرورت رہتی ہے ۔چوہدریوں کےلئے تلہ گنگ میں اب راستہ صاف ہے۔ حافظ عمار یاسر صاحب کی محنت آخر کار رنگ لے آئی ہے اور ق لیگ کو تلہ گنگ میں خاطر خواہ کامیابی مل رہی ہے۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین