واپڈاسرکاری افسران کیساتھ نارواسلوک کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔سابق رکن صوبا ئی اسمبلی شہریار اعوان

واپڈاسرکاری افسران کیساتھ نارواسلوک کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔سابق رکن صوبا ئی اسمبلی شہریار اعوان

تلہ گنگ (نما ئندہ بول تلہ گنگ )میرٹ کی باربار رٹ لگانے والوں نے سرکاری افسران کے تبادلے شروع کر دئیے ،جن افسران کیساتھ نا انصافیاں کی جا رہی ہیں ہم انکے ساتھ کھڑے ہیں ،سابق پنجاب حکومت نے تحصیل ہیلتھ کونسل کے تحت سرکاری ہسپتالوں کیلئے سالانہ بجٹ مختص کیے تھے جسکا فائد ہ عام آ دمی کو پہنچااور ہیلتھ کونسل کا بجٹ روکنا موجود حکومت کی عوام دشمن پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار سابق رکن پنجاب اسمبلی شہریار اعوان نے ایک بیان میں کیا ۔انہو ں نے کہا کہ واپڈا میں من پسند افسران کو لانے کیلئے پہلے تعینات سرکاری افسران کیساتھ موجودہ حکومت انتقامی کاروائیوں پر اتر آ ئی ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جا ئے اتنی کم ہے ، واپڈا افسران اور اہلکاروں کو خواہ مخواہ خوف زدہ کر کے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو دھم دم مست قلندر ہو گا ۔شہریار اعوان نے مزید کہا کہ سابق پنجاب حکومت نے تحصیل ہیلتھ کونسل کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں سالانہ بجٹ دے رکھا تھا ،ہسپتالو ں میں میڈیسن کی دستیابی وافر مقدار میں تھی ، سٹی ہسپتال کیلئے60لاکھ ،ٹی ایچ کیو 60لاکھ ،آ ر ایچ سیز 6لاکھ اور بی ایچ یوز میں تین تین لاکھ روپے کا بجٹ دیا جا تا رہا ۔تحصیل ہیلتھ کونسل کے بجٹ کے تحت سٹی ہسپتال میں تقریبا 40اور ٹی ایچ کیو ہسپتال میں 25کے لگ بھگ ڈیلی ویجز پر ملازمین بھرتی کیے گئے تھے اور ہسپتالوں کی دیگر ضروریات کو بھی پورا کیاجا تا رہا اور ہسپتالوں کی اوپی ڈی پہلے سے دو گناہ بڑھ گئی تھی۔سابق رکن صوبا ئی اسمبلی شہریار اعوان نے مزید کہا کہ سابق پنجاب حکومت کے ہیلتھ کونسل کا اقدام نہا یت ہی موثر رہا اور عام آ دمی کو فائدہ پہنچ رہا تھا ،موجود حکومت کی عوام دشمنی پالیسی کے تحت ہیلتھ کونسل کے فنڈز روک دئیے گئے ہیں اور ہسپتالوں میں ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور ڈیلی ویجز والے ملازمین تنخواہوں کیلئے بھٹک رہے ہیں ۔حلقے کی عوام کیلئے پہلے بھی آ واز بلند کی ہے اور آ ئندہ بھی خاموش نہیں بیٹھوں گا ،میرا ڈیرہ اسلام آ باد نہیں کوٹقاضی ہے اور میرے دروازے چوبیس گھنٹے عوام کیلئے کھلے ہیں اور انشا اللہ عوام کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونے دیں گے ۔