ضمنی الیکشن میں اسد کو ٹگلہ بہترین امیدوار ہیں ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

ضمنی الیکشن میں اسد کو ٹگلہ بہترین امیدوار ہیں ۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

سیاستدان اپنے مفادات کو عوام پرترجیح دیتے آئے ہیں اور جس طرح کاہمارے ہاںنظام ہے اس میں تو اس کی مثالیں بہت موجودہیں۔ قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 65چوہدری پرویز الہی صاحب کے صوبائی اسمبلی میں جانے کے فیصلے کے بعد خالی تصور کیا جا رہا ہے۔ جس وقت تک حلف نہ اٹھا لئے جائیں کچھ کہنا قبل از وقت ہی ہو گا مگر آزاد ذرائع کے مطابق چوہدری صاحب نے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں کو چھوڑنے کافیصلہ کرلیا ہے۔ اگر یہ صورتحال بنتی ہے تو ق لیگ کے لئے بہت بڑا امتحان ہو گا۔ ق لیگ کوہمارے ضلع میں حافظ عمار یاسر صاحب نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ ان کی خدمات ہمارے علاقے کے لئے مثالی ہیں جن کاصلہ ان کو بلدیاتی انتخابات میں تلہ گنگ سے فتح اور اب صوبائی اسمبلی کی نشست میں کامیابی کی صورت میں عوام نے دیا ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست پر چوہدری صاحب کے مخالفین یہ نعرہ بہت لگاتے رہے ہیں کہ حلقے کے باہر کا نمائندہ نہیں ہو نا چاہیے۔ اور جس کاانہوںنے ماضی میں فائدہ بھی اٹھایا ۔ اس دفعہ پی ٹی آئی، سردار عباس گروپ، اور سردار ممتاز صاحب کی حمائت نے بھی چوہدری صاحب کو اس نعرے کی شدت سے محفوظ رکھابہر حال یہ نعرہ حلقے میں کافی مقبول بھی ہے۔ اب اگر چوہدری صاحب یہ نشست چھوڑتے ہیں تو اس دفعہ ق لیگ کے پاس حلقے میں سے ہی امیدوار لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا ورنہ ق لیگ حافظ صاحب کوبہت مشکل صورتحال میں ڈال دے گی اور شاید اس دفعہ مخالفین کا نعرہ کام کر جائے۔ ق لیگ کے ضلعی صدر ملک اسد کوٹ گلہ صاحب ق لیگ کا سرمایہ ہیں اور ہرمشکل دور میں انہوں نے ق لیگ کا پرچم بلند رکھا ہے۔ ان سے بہتر ق لیگ کے ٹکٹ کا شاید کوئی اور حق دار نہیں۔ ق لیگ کا یہ نوجوان رہنما نہ صرف اپنا ووٹ بنک رکھتا ہے بلکہ ایک وسیع برادری بھی حلقے میں موجود ہے۔ انتہائی اچھی شہرت ان کی اہلیت میں اضافہ کرتی ہے۔ ن لیگ کے لئے ملک شہر یار اعوان صاحب ایک بہت اچھی چوائس ہیں۔ مقابلہ کانٹے کا ہوسکتا ہے۔ اگر ق لیگ اس حلقے سے ٹکٹ باہر کے امیداور کو دیتی ہے تو اس دفعہ شاید سردارعباس صاحب کا گروپ، پی ٹی آئی اور سردارممتاز صاحب بھی کچھ نہ کر پائیں۔ مخالفین کے نعرے میں ویسے بھی اصولی طور پر جان ہے۔حالیہ انتخابات میں تمام جیتنے والے امیداروں کو بہت مبارکباد ۔ امید ہے کہ تمام نمائندے اپنے ذاتی مفادات اور مخالفتوں کو پس پشت ڈال کر علاقے کی خدمت کریں گے۔ تلہ گنگ کو پیرس بنتے کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں اب امید ہے کہ نئے پاکستان میںاچھا تلہ گنگ دیکھنے کو ملے ۔ جہاں عوام کوکم از کم بنیادی سہولتوں کے لئے ترسنا نہیں پڑے ۔ اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی وناصر ہوں۔آمین