شہریار اعوان حلقے کا مسیحا۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

شہریار اعوان حلقے کا مسیحا۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

الیکشن کی آمد آمد ہے، تمام سیاسی جماعتیںاور ان کے امیدوار اپنی اپنی جیت کے دعوے کرر ہے ہیں۔ ضلع کی تمام نشستوں پرہی کانٹے دار مقابلوں کی توقع کیجارہی ہے۔ ن لیگ ،پی ٹی آئی اور ق لیگ ابھی تک اپنی اپنی اندرونی توڑ پھوڑ کا شکار نظر آتی ہیں مگر جلدہی ان مسائل پر قابو پائے جانے کی توقع ہے۔ کیونکہ ہرجماعت انتخابات میں اپنی پوری طاقت سے جانے کی کوشش کرے گی اور ان کی مرکزی قیادت ان مسائل کو جلد سے جلد حل کرنے کی متمنی ہوگی۔ ن لیگ کی پوری مدت حکومت میں سب سے بڑی کامیابی شہر یار اعوان صاحب کی شکل میں عوام کے سامنے آئےگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہریار صاحب نے تھوڑے سے عرصے میں کافی محنت کی ہے اور حلقے میں ڈھیر وں ترقیاتی کاموں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ن لیگ کے دوسرے صوبائی ممبرصاحب نے ن لیگ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ ممبرقومی اسمبلی نے ایک دو بارضلع بنوانے کے نام نہاد نوٹیفیکیشنز سے عوام کو بہلانے کی کو شش کی مگر اس کے علاوہ ان کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سامنے نہ آیا۔ ق لیگ کے چوہدری پرویز الہی صاحب تو حلقے میں نظر نہ آئے مگر ان کے دست راست حافظ عمار یاسر صاحب کا فی سرگرم رہے۔ حافظ صاحب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان سے رابطہ آسان نہیں ہے۔ بہت قسمت والے کے فون کاجواب ملتا ہے ویسے ان کا ڈیرہ ہرکسی کے لئے کھلا ملتا ہے۔ اب چونکہ وہ ایک عرصے سے حکومت میں نہیں ہیں اسلئے وہ اپنی پرانی کار کردگی کا ہی تذکرہ کرتے نظر آتے ہیںجبکہ ق لیگ کی موجودہ میونسپل کمیٹی میں کارکردگی کوئی خاص اطمینان بخش نہیں رہی۔ سردار منصور ٹمن صاحب اپنے ٹکٹ کے حصول کے لئے کوشاں ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کا اتحاد کیسے ہو پاتا ہے اور کون متفقہ امیداوار ہو گا۔ پرویز الہی صاحب کے پاس بھی اس سے موزوں کوئی اور حلقہ نہیں ہے۔ اس دفعہ حافظ عمار یاسر صاحب کو بھی انتخابات میں قسمت آزماتے ہوئے دیکھا جائے گا مگر انکے مقابلے میں شہریار اعوان علاقے میں بہت اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ کر نل سرخرو صاحب اگر پی ٹی آئی ٹکٹ سے محروم رہتے ہیں تو کیا وہ عمار یاسر صاحب کے متفقہ امیداوار بننے پر راضی رہیں گے؟ اس کا فیصلہ بھی وقت کرے گا۔ اصل میں یہ لوگ کئی جماعتوں میں رہ چکے ہیں اور یہ کہنا کہ ان کی پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی وابستگی ہے تو یہ کہنا درست نہ ہو گا۔اسلئے عین ممکن ہے کہ آنیوالے وقت میں سردار منصور ٹمن صاحب اور کرنل سرخرو صاحب کو کسی اور گروپ میں دیکھا جائے۔سردار گروپ کا ایک بار پھر تحریک انصاف میں شمولیت سے فائدے کے ساتھ ساتھ نظریاتی کارکنوں اورپرانے انصافیوں میں بے چینی بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ایک بات بڑی واضع ہے کہ اس دفعہ ضلع چکوال کے تما م حلقوں میں ن لیگ کو شدید ترین مشکلات کا سامنا رہے گا ۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین