ق لیگ اور پی ٹی آ ئی اتحاد پر تحریک انصاف کی مقامی قیادت سخت نالاں ،مشترکہ امیدوار کو نقصان اٹھا نا پڑ سکتا ہے ۔

ق لیگ اور پی ٹی آ ئی اتحاد پر تحریک انصاف کی مقامی قیادت سخت نالاں ،مشترکہ امیدوار کو نقصان اٹھا نا پڑ سکتا ہے ۔

تلہ گنگ (نما ئندہ بول تلہ گنگ ) حلقہ این اے 65کیلئے بارہ جبکہ پی پی 24کیلئے پندرہ امیدواروں نے کا غذات نامزدگی داخل کرا دئیے ہیں ، ن لیگ اور تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کے درمیان کا نٹے دار مقابلہ متوقع ،سیاسی بیٹھکیں سج گئیں برادری ازم اور دھڑ ابندی سسٹم ہی کامیاب ہو گا ،سیاسی مبصرین ۔تفصیلا ت کے مطابق 2018کے عام انتخابات کیلئے حلقہ این اے 65کیلئے ق لیگ کے چوہدری پرویز الہی اور حافظ عماریاسر ،ن لیگ کے سردار ممتاز خان ٹمن ،تحریک انصاف کے سر دار منصور حیات ٹمن اور یاسر پتوالی ،پیپلز پا رٹی کے ملک ہاشم خان ،متحدہ مجلس عمل کے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ،تحریک لیبک پا کستان کے میجر (ر) محمد یعقوب سیفی ،تحریک تحفظ پا کستان کے جہا نگیر ملک ،جبکہ سر دار فیض ٹمن ،ملک اسد علی ڈھیر مونڈ اور ڈاکٹر قاضی عامر پیڑہ فتحال نے آ زاد حیثیت سے کا غذات نامزد گی جمع کروائے دئیے ہیں ۔حلقہ پی پی 24کیلئے ن لیگ کے شہریار اعوان ،ملک خوشحال خان ایڈووکیٹ ،پی ٹی آ ئی کے کرنل (ر) سلطان سر خرو ، حکیم نثار ،ملک عابد حیات ،ملک محمد اقبال ،سید فیصل شاہ ہمدانی اور یاسر پتوالی شامل ہیں ۔تحریک لبیک پاکستان کے عبدالغفور،متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ،برادری اتحاد کی جانب سے ملک اسد علی خان ڈھیر مونڈ،ملک اسد محمود کوٹگلہ اور سردار امجد الیاس نے کاغذات نامزدگی جمع کراے -پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک ہاشم خان اور پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے حافظ عمار یاسر نے کاغذات جمع کرا دئیے ہیں ۔امیدواروں نے اپنے اپنے سیاسی ڈیرے آ باد کر دئیے ہیں اور بڑے شہر چھوڑ کر آ بائی علاقوں میں پہنچ گئے ہیں ۔عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے نامزدا میدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے ،ن لیگ کے امیدواروں نے کارکر دگی کی بنیاد پر الیکشن کے میدان میں اترنے کیلئے کمر کس لی ہےں جبکہ اپوزیشن امیدواروں نے ن لیگ کی پانچ سالوں کی کمی کوتاہیوں کو مدنظر رکھتے ہو ئے اپنی الیکشن مہم کا آ غاز کر دیا ہے تا حال ماہ رمضان کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں عروج تک نہ پہنچ سکی ہیں ،توقع کی جا رہی ہے کہ عید الفطر کے بعد امیدواران اپنی اپنی سیاسی سر گرمیوں کو تیز کریں گے اور ووٹروں ،سپورٹروں کا خون گرمائے گے ،سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں بھی برادری ازم اور دھڑا بندی کی سیاست ہی کامیاب ہو گی جو امیدوار مضبوط دھڑے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا تو اسکی کامیابی یقینی ہو گی دوسری طرف تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان مقامی سطح پر نوک جھوک کا سلسلہ جاری ہے ،پی ٹی آ ئی کی قیادت نے چوہدری پرویز الہی کی سپورٹ کرنے کا اعلان کررکھا ہے لیکن مقامی قائدین اس فیصلے کو تسلیم کرنے کیلئے رضامند نہیںہیں ،اگر یہی صورتحال رہی تو تحریک انصاف کے امیدوار آ زاد حیثیت سے الیکشن کے میدان میں چھلانگ لگائیں گے جو اتحاد ی امیدوار کو نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔