نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

سردارغلام عباس صاحب نے ن لیگ کو خیر آباد کہہ ہی دیا۔کہا تو گیا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب کے حالیہ بیان کے بعد انہوں نے راہیں جدا کی ہیں مگر باخبر لوگ جانتے ہیں کہ اصل وجہ کیا تھی۔ ن لیگ میں توڑ پھوڑ تو متوقع تھی جس کا تذکرہ میں بھی کئی تحریروں میں کر چکا تھااور میرے علاوہ بھی کافی احباب لکھ رہے تھے۔ ن لیگ کا اصل مسئلہ ابھی شروع ہو گا۔ سردار صاحب اپنے مضبوط دھڑے کے ساتھ ساتھ ن لیگ کے بھی کئی اہم مقامی رہنماﺅںکے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔خاص کر پچھلے دو ضمنی انتخابات میں ان تعلقات میں بے پناہ اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ان میں سے کون کون سردار صاحب کے ساتھ جاتا ہے۔ اگر نہیں بھی جاتا تو بھی ن لیگ کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ آپسی رسہ کشی تو ان کے اقتدار میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی سردار ممتاز صاحب اور ذوالفقار دلہہ صاحب کسی حد تک ایک کشتی میں سوار ہیں مگر ملک سلیم اقبال صاحب اور شہر یار اعوان صاحب الگ ہیں۔ ضلعی چیئر مین کے انتخاب کے وقت چکوال کے ن لیگی بھی تقسیم ہوچکے ہیں۔ اگر سردار عباس صاحب ن لیگ میں رہتے اور باقی اکابرین بھی آپسی رسہ کشی سے کنارہ کشی کر لیتے تو بے شک ن لیگ ضلع میں فیورٹ تصور ہوتی۔جیسے گزشتہ سے پیوستہ تحریر میں عرض کیا تھا کہ ن لیگ کے مخالفین کے پاس اس دفعہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے تمام پرانی شکستوں کا بدلہ لے لیں۔ جیسے ق لیگ نے میونسپل کمیٹی میں فتح حاصل کر کے لیاہے۔خیر دوسری طرف بھی معاملات اتنے سیدھے نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی اور ق لیگ میں بھی ایڈجسٹمنٹ کیسے ہوگی ٹکٹ کس کس کوملیں گے۔ اس دفعہ انتخابات میں کافی تبدیلیاں آنے کے آثار ہیں۔ سردار غلام عباس صاحب کولیکر پچھلے کچھ عرصے میںکافی اخباری بیانات بھی سامنے آئے جس سے بھی ن لیگیوں میں کافی تلخی پیدا ہوئی اور جس میں اب بڑھنے کے امکانات بھی ہیں۔ سردار صاحب پی ٹی آئی میں جاتے ہیں، اپنا گروپ تشکیل دیتے ہیں یا پھر پیپلز پارٹی میں لوٹتے ہیں۔اس کا فیصلہ چند روز میں ہوجائے گا ۔