نقطعہ نظر۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

نقطعہ نظر۔۔۔تحریر: شفاعت ملک

مسلم لیگ ن میں انتخابات سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت اختلافات کی پیشن گوئی ہرکوئی کر رہا تھا۔ جس کی کئی وجوہات تھیں اور ابھی بھی موجود ہیں۔ پچھلے دنوں ملک فیروز دودیال صاحب کی طرف سے ایک دھواں دھار بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں جناب نے جنرل (ر) سنیٹر ملک عبدالقیوم صاحب کو آڑھے ہاتھوں لیا ۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ فیروز صاحب ن لیگ کے قومی رہنما کو اپنی ذاتی حثیت میں ایسی باتیں سنائیں ۔ ان کو ملک صاحب اور سردار صاحب کی آشیر باد ضرور حاصل ہو گی۔ ن لیگ میں دھڑا بندی ایک عرصے سے صاف دکھائی دے رہی ہے۔جس کا تذکرہ کئی تحریروں میں کر چکاہوں۔ اب اس کے مقابلے میں ق لیگ کو کئی بڑے نام چھوڑ چکے ہیں۔ اور برادری اتحاد کے بعد تو حالات کافی خراب نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی ابھی تک پرانے مسائل کا شکار ہے اور اپنے ووٹ بینک کو صحیح طرح استعمال کر نے میں ناکام ہے۔ ن لیگ کو انتخابات کی سائنس کا علم اپنے حریفوں سے زیادہ اچھاآتا ہے۔ مگرکیا ن لیگ کی اندرونی توڑ پھوڑ کا فائدہ اس کے حریف اٹھا پائیں گے؟۔ ق لیگ اور پی ٹی آئی کے پاس اس دفعہ شاید سب سے بڑا موقعہ ہے جب وہ ن لیگ کو پورے ضلع میں مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں تلہ گنگ میں ق لیگ کی جیت میں بنیادی کردار ن لیگ کے اندرونی اختلافات کا تھا۔ ن لیگ نے اس شکست سے کچھ سکیھا نہیں ہے۔ اب ق لیگ اور پی ٹی آئی اگر اپنے سیاسی کارڈز درست کھیلیں تو ن لیگ کو بہت پریشان کرسکتے ہیں۔خیر ابھی کافی وقت ہے۔ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ ملکی سیاست میں تیزی سے بدلتی صورتحال ہمارے علاقے پر بھی اثر انداز ہوگی۔ اگر ن لیگ اپنے ندرونی مسائل سے نمٹنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کی پوزیشن کافی مستحکم نظر آتی ہے۔
جیساگزشتہ سے پیوستہ کالم میں عرض کیا تھاکہ ہمارے ہاں وہ ہی بیس تیس الیکٹیبلز ہیں جنہوں نے مختلف جما عتوں سے ا نتخاب میں حصہ لینا ہے۔سیاسی جماعتوںنے بھی ٹکٹ دیتے وقت ا میدوار کی قابلیت یا جماعت کے ساتھ وابستگی کو نہیں دیکھنا بس یہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ جیتنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ اگرچہ یہ بد قسمتی کی بات ہے مگر حقیقت ہے۔ اس صورتحا ل میں ہمیں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے وقت اپنی آنکھیں کھول کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین