بوچھال کلاں چوکی انچارج رحمت اللہ سنگھا منہ زور نکلا ،مخالف فریق سے بھاری رشوت لے کر آ ٹھ شریف شہریوں کو حوالا ت میںبند کر دیا ۔

بوچھال کلاں چوکی انچارج رحمت اللہ سنگھا منہ زور نکلا ،مخالف فریق سے بھاری رشوت لے کر آ ٹھ شریف شہریوں کو حوالا ت میںبند کر دیا ۔

چکوال(نما ئندہ بول تلہ گنگ)تھانہ کلرکہار پولیس چوکی بوچھال کلاں میں پولیس گردی کے ریکارڈ توڑ ڈالے ۔ مخالف فریق سے بھاری رشوت لے کر آٹھ شریف شہریوں کو حوالات میں بند کر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ شریف شہری ناکردہ جرم کی پاداش میں چوبیس گھنٹے سے زائد حوالات میں بند رہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر متاثرین کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چکوال سے طبی معائنہ ،ڈی ایس پی صدر سرکل نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔گفانوالہ کے رہائشی نثار احمد، اسد نثار ،فرخ محمود وغیرہ کو پولیس چوکی بوچھال کلاں کے انچارج رحمت اللہ سنگھا نے تھانے طلب کیا ،تینوں افراد دیگر پانچ حمایتوں کے ہمراہ بوچھال کلاں چوکی پہنچے جہاں پررحمت اللہ سنگھا نے مخالف فریق ابراہیم جان کی موجودگی میں محرر عدیل احمد اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ مل کر انہیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس سے تین افراد کے دانت ٹوٹ گئے اور منہ اور سر پر زخم آئے جبکہ حکیم خان کا پاﺅں شدید زخمی ہو گیا۔بعد ازاں پولیس چوکی کے عملے نے حوالات میں بند کر دیا۔ رحمت اللہ سنگھا نے پولیس گردی کے بعد متاثرہ فریق سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مخالف فریق ابراہیم جان کوجائیداد لکھ کر دے جس کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ انکار پر ڈنڈوں اور بندوق کے بٹوں سے زدوکوب کیا۔ معززین کی مداخلت پر جان چھوٹی ۔متاثرین نثار احمد،محمد اسد اور فرخ محمود نے جوڈیشل مجسٹریٹ تھانہ کلرکہار کو اس بابت درخواست گزاری، جوڈیشل مجسٹریٹ نے میڈیکل کرانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جبکہ متاثرہ فریق کی درخواست پر ڈی ایس پی صدر نے بھی انکوائری شروع کر دی ہے۔