نقطعہ نظر۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نقطعہ نظر۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

آنیوالے عام انتخابات میں تلہ گنگ اور گرد و نواح میں برادریوں کے اکٹھ اور اتحادبننے کا عمل شروع ہو چکاہے۔ جو کہ کسی بھی طرح جمہوریت کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ ہمارے جیسے علاقوں میں ایسا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت ان سب چیزوں کومدنظر رکھ کرفیصلہ کر تی ہیں۔ برادریوںکااکٹھ اور اتحاد مفاد عامہ کے کاموںاور فلاحی منصوبوں میںتو بہت اچھا ہے مگر انتخابات میں دھڑے بندیوں کی وجہ سے اکثر میرٹ پر فیصلہ نہیں ہو پا تا۔ اور ہمیں اس حوالے سے چیزیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ میں کئی دفعہ تحریر کر چکاہوں کہ ہمارا ووٹ دینے کا فیصلہ خالصتا میرٹ پر ہو نا چاہیئے۔ اب موجودہ انتخابی نظام میں وہ ہی پندرہ بیس الیکٹیبلز (جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے) افراد ہیں جنہوںنے مختلف جماعتوں کی طرف سے الیکشن لڑنا ہے اور ان میں سے ہی کسی نے جیتنا بھی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ہم ان افراد میں سے بہتر کو انتخاب کرکے اپنے مسائل کے حل کی کوشش کر سکتے ہیں اور آہستہ آہستہ ہی تبدیلی آئے گی۔ لیکن تبدیلی کے لئے اس سمت میں سفر کا آغاز تو کرنا پڑے گا ناں۔ یہ برادریوں کے اکٹھ انتخابات میں اچھے فیصلوں کے لئے اچھا شگون ثابت نہیں ہونگے۔
رمضان کی آمدآمد ہے اور گراں فروشی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ عجیب بات ہے ہمارے ہاں رمضان کی قریب آتے ہی اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ خیر آجکل تو عام دنوں میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ ہر گلی محلے کی دکانوں کا اپنا نرخ ہے اور مرکزی بازار کا اپنا۔ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا کہ ہر دکاندار کا اپنا ایک نرخ نامہ ہے۔ سبزی فروٹ سے لیکر جوتے کپڑے تک کسی بھی چیز کا نرخ متعلقہ دکاندار خود ہی مقرر کرتا ہے اور اپنے آپ کواس کا مجاز بھی سمجھتا ہے۔ میری ان باتوں سے کافی احباب شاید برابھی منائیں مگرایسا ہورہا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ ہمیں بھی اپنے رویوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ا س سلسلے میں قوانین بھی موجود ہیں مگر ان کا اطلاق نہیں کیا جاتا جس کے پیچھے سرکاری اہلکاروں کی سستی یا پھر اکثر کی بد عنوانی شامل ہو تی ہے۔ گراں گروشی کا سدباب قوانین کا سختی سے اطلاق اور عوام کی مدد کے بغیر نہ ہوسکے گا۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین