نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نئی مردم شماری کےمطابق ایک گھر میں تقریبا 6 افراد رہائش پذیر ہیں۔ مردم شماری اور خانہ شماری کی معلومات سے استفادہ حاصل کرکے مقامی حکومتیں بھی اپنی منصوبہ سازی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اکثر منصوبے ضروری معلومات اور امکانیت کوجانچے بغیرشروع کردئیے جاتے ہیں۔جس سے کروڑوں روپے ضائع ہو جاتے ہیں ۔ پورے ملک کی طرح تلہ گنگ میں ابھی ایسے منصوبوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جو مختلف ادوار میں لگائے گئے۔ بنیادی وجہ معلومات (ڈیٹا) کا نہ ہو نا ہے۔ جو کہ سرکاری افسران اور اہلکاروں کی سستی اور نااہلی کی وجہ سے کبھی اداروں میں موجود ہی نہیں ہوتا۔ تلہ گنگ میں کتنی گلیاں،کتنی نالیاں، کتنی دکانیں اور پھر محتلف دکانوں کی قسمیں، کتنی دومنزلہ یا اس سے زیادہ بلند گھر یا عمارتیں موجود ہیں، کوئی نہیں جانتا ہو گا۔ بس اندازے سے کام چلایا جا تا ہے۔ جب معلومات نہیں ہونگیں تو کون سی منصوبہ سازی یا قانون سازی۔ اب جبکہ آبادی اور گھروں کااندازہ مردم شماری سے ہو چکا ہے تو منصوبہ سازوں کو بہتر منصوبہ سازی کر نی چاہیئے ۔ موجودہ سرکاری مشینری ، سرکاری ذرائع اور اہلکاروںکی مدد سے تمام ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ بس چاہیئے تو ذرا سی توجہ اور درست سمت میں محنت۔ کام زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مگر اس سب سے پہلے ڈیٹا کی موجودگی کی اہمیت کا پتا ہو نا بھی ضروری ہے ۔ بہت سے افسران اور ادارے ابھی تک اس کی اہمیت سے آگاہ بھی نہیں ہیں۔ایک اور ضروری مسئلہ کاتذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ آج کل تلہ گنگ میں بلند عمارتوں کی تعمیر کا ایک سلسلہ شروع ہے۔ شہرمیں موجود بلند عمارتوں میںحفاظتی تدابیر کو لیکر کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا۔جس کی وجہ سے اکثر عمارتیں غیر محفوظ ہیں۔اب ان نئی عمارتوں کے نقشوں کی منظوری میں ان باتوں کو خصوصی اہمیت دینی ہوگی جو کہ قانون میں بہرحال در ج ہے۔ بس متعلقہ محکموں کو قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے نقشوں کی منظوری دینی چاہئے ۔ افسران اور اہلکاروں کوشہر کو محفوظ بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ ماضی میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی عمارتوں کی منظوری قانون پر عمل کرنے کے بجائے جیب کو گرم کر کے دی گئی ہے۔ بہت دلچسپ واقعات ہیں آئندہ کسی کالم میں تذکرہ ہو گا۔ اﷲتعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں ا ور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین