نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

نقطعہ نظر۔۔۔۔تحریر : شفاعت ملک

معاشرے میں بڑھتے ہوئے ہیجان کو دور کر نے کے لئے ہمیں تلہ گنگ میں کم ازکم دو لائبرریوں اور دو بڑے کھیل کے میدانوں کی اشد ضرورت ہے۔ جناح لائبریری کی بحالی کی خبریں تو آرہی ہیں جوکہ حوصلہ افزاءہیں۔ مقامی حکومت کے پاس فنڈز کی کمی ہو گی اور ان کے دائرہ اختیار میں شاید یہ کام نہ ہوں مگر پھر بھی ان کاموںکو مقامی حکومت سر انجام دیکر معاشرے کی بھلائی میںایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں حکومتی فنڈز کے بجائے کاروباری افراد ، ملٹی نیشنل کمپنیاں، اور مقامی مخیر خضرات اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں مگر ان تمام کو مقا می حکومت اس طرف راغب کر نے میں اہم کردار اداکر سکتی ہے۔ بد قسمتی سے ہماری ساری توجہ نالیوں گلیوں ، سڑکوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ مگر معاشروں میں ترقی صرف ان چیزوں سے نہیں ہوتی ۔ میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کرچکاہوںکہ میں لندن کی تنگ سڑکوں پر چلتے ہوئے کئی دفعہ سوچا کرتا تھا کہ یہ لوگ تنگ سڑکیں ہو نے کے باوجود ترقی کی کتنی منزلیں طے کر گئے ہیں ۔ مگر ہمارے ہاںترقی کے لئے جو معیا ر مقررکر دئیے گئے ہیں ان میں صرف یہ ہی چیزیں ضروری ہیں۔ تعلیم اور صحت کے بعد میدانوں اور لائبرریوں کی بدولت ہی ایک صحت مندانہ معاشرہ بنایا جاسکتا ہے اور صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی منازل طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے آج تک میں نے اپنے کسی بھی سیاسی رہنما سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں سنی ہے اور نہ کسی منصوبے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں صرف سیاسی رہنماﺅں کی غلطی بھی شاید نہیں ہے۔ ہمیں بھی اسکا ادراک کرنا چاہیئے۔ ہمیں بھی اس سلسلے میں اپنی آواز اٹھانی چاہیئے جوکہ آج تک نہیں اٹھائی گئی۔ہماری طرف سے جب بھی مطالبے کئے گئے ہیں وہ بھی نالیوں، گلیوں، سڑکوں وغیرہ کے تھے۔ شاید ہی کبھی سنا گیا ہو کہ کسی نے سکولوں اور کالجوں میںاساتذہ کی کمی، صحت کی سہولتوں کی ناگفتہ بہ حالت کے مسائل کے حل کے لئے پرزور مطالبہ کیا ہو۔ ہمیں بھی اپنے آنے والے کل کو بہتر بنانے کے لئے کچھ حرکت کرنی ہو گی۔ حکومت کے پاس ہمیشہ ہی فنڈز کی کمی کا رونا موجود ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے ہاں پیسے کی کمی نہیں۔ مقامی حکومت خودنہیں تو کاروباری حلقوں کو ان مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کاکہہ سکتی ہے۔ ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے۔ اور اس سے ان کے کاروبارکو بہت فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ تلہ گنگ میںکئی پروفیشنلز ایسے موجود ہیں جو ایک بہترین قسم کا منصوبہ تیار کر سکتے ہیں۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے؟۔ کیا مقامی ، صوبائی اور قومی سیاسی رہنماﺅں کو ایسے کاموں میں کوئی دلچسپی ہے؟۔ تو جواب تو بہت مایوس کن ہے۔ اب تک نہ ایسا ہوا اور نہ کسی نے کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن اب ایسا کر نا پڑے گا۔ اور جو سیاسی جماعتیں موجودہ وقت کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھالیں گی ان کا سیاسی مستقبل شاید ان کی توقع کے مطابق نہ ہو سکے۔ وقت بدل رہا ہے۔ لوگوں میں شعور و آگاہی بڑھ رہی ہے۔ تو سیاسی رہنماﺅں کی سوچ کو بھی بدلنا ہو گا۔ اور ہمیں بھی ایک ذمہ دار شہری کی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنے مطالبات پر زور دینا ہو گا۔اﷲ تعالی ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین۔