اور وہ بچی دم توڑ گئی۔۔۔تحریر: نذر حسین چودھری تلہ گنگ

اور وہ بچی دم توڑ گئی۔۔۔تحریر: نذر حسین چودھری تلہ گنگ

بچی کی حالت دیکھ کر میں تین راتوں سے سو نہیں سکا۔ہسپتال عملہ کاایک کارکن چینجی گا¶ں کے جنگل سے ملنے والی تین چار روز کی بچی حالت بتاتے ہوئے تقریبا رو پڑا تھا۔نا معلوم ظالم باپ نے بچی کو جھاڑیوں میں پھینکا تھا۔جس کے باعث اُس کے جسم پر کانٹے چھبے ہوئے تھے۔اور وہ تکلیف میں تھی۔یہ کسی نے گناہ چھپانے کیلئے نہیں پھینکا تھا بلکہ بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہوئے اُس سے جان چھڑائی گئی تھی۔اگر یہ گناہ چھپانے کیلئے پھینکی گئی تھی تو وہ چند گھنٹو ں کی ہوتی۔ اور کیا ہر بار بیٹی ہی جنم لیتی۔گناہ گار کبھی تو کسی کچرے کے ڈھیر پربیٹا بھی پھینکتا۔یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بتدریج تیز ہوتی چلی جا رہی تھی۔بچی کی گردن دبانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔اُس کی گردن پر ناخن کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔شاید پوری طرح گلا دبانے کی ہمت نہ پڑی۔جب جنگل میں اُس کو پھینکا گیا تو اردگرد کتے اُس کو بھبھوڑنے کی کوشش میں تھے۔لیکن کچھ دوستوں کا ٹولہ وہاں پہنچ گیا جس نے بچی کو اُٹھایا اور ہسپتال پہنچایا۔بچی کی حالت بگڑنے پر اُس کو راولپنڈی شفٹ کیا گیا۔لیکن وہ اس معاشرے کے منہ پر طمانچہ مار کرشاید یہ کہتے ہوئے کہ میں اللہ کو سب بتا دونگی دم توڑ گئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون
ایسی ہی معصوم بچیوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے: ”جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟“
تو وہ یقیناًسب کچھ اپنے اللہ کو بتادینگی۔اور پھر وہ کیسا ہولناک دن اُن کیلئے ہو گا جو ان جرائم میں شریک رہے ہونگے۔
میرے اُس دوست کی آواز اب گلے میں گولا بن کر پھنسنے لگی تھی جبکہ میں سوچوں میں گم زمانہ جہالیت کے بہت سارے ایسے ہی واقعات سے موجودہ دور کا تقابل کرنے میں الجھتا جا رہا تھا۔
ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسلام قبول کرلیا۔ایک روز وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور سوال کیا: اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟
آپ ﷺنے فرمایا: اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
اس نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ میرا گناہ بہت بڑا ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا:وائے ہو تجھ پر، تیرا گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہواللہ کی بخشش سے تو بڑا نہیں؟
وہ کہنے لگا: زمانہ جاہلیت میں میں ایک دوردراز کے سفر پر گیا ہوا تھا ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی میں چار سال کے بعد گھر واپس لوٹا۔ میری بیوی نے میرا استقبال کیا میں گھر میں آیا تو مجھے ایک بچی نظر پڑی۔ میں نے پوچھا یہ کس کی لڑکی ہے؟ اس نے کہا:اس نے کہا ایک ہمسایہ کی لڑکی ہے۔ میں سوچا گھنٹہ بھر تک چلی جائے گی لیکن مجھے بڑا تعجب ہوا کہ وہ نہ گئی۔ مجھے علم نہ تھا کہ میری لڑکی ہے اور اس کی ماں حقیقت کو چھپا رہی ہے کہ کہیں یہ میرے ہاتھوں قتل نہ ہو جائے۔
اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: آخر کار میں نے بیوی سے کہا: سچ بتا¶ یہ کس کی لڑکی ہے؟
بیوی نے جواب دیا: جب تم سفر پر چلے گئے تھے تو میں امید سے تھی بعد میں یہ بیٹی پیدا ہوئی۔ یہ تمہاری ہی بیٹی ہے۔
اس شخص نے مزید کہا: میں نے وہ رات بڑی پریشانی کے عالم میں گزاری کبھی آنکھ لگ جاتی اور کبھی میں بیدار ہو جاتا۔ صبح قریب تھی۔ میں بستر سے اُٹھا۔ لڑکی کے بستر کے پاس گیا وہ اپنی ماں کے پاس سو رہی تھی۔ میں نے اسے بستر سے نکا لا۔ اسے جگایا۔ اس سے کہا: میرے ساتھ نخلستان کی طرف چلو۔وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی یہاں تک کہ ہم نخلستان میں پہنچ گئے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا وہ میری مدد کر رہی تھی میرے ساتھ مل کر مٹی باہر پھینک رہی تھی گڑھا مکمل ہو گیا۔ میں نے اسے بغل کے نیچے سے پکڑ کر اس گڑھے کے درمیان پھینکا
اتنا سننا تھا کہ رسول اللہﷺ کی آنکھیں مبارک بھر آئیں۔
اس نے مزیدبتا یا: میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔وہ باہر نہ نکل سکے دائیں ہاتھ سے میں اس پر مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت ہاتھ پاوں مارے، بڑی مظلومہ انداز میں فریادکرتے ہوئے وہ کہتی تھی ابو جان! آپ مجھ سے یہ سلوک کیوں کر رہے ہیں؟
اس نے بتا یا: میں اس پر مٹی ڈال رہا تھا کہ کچھ مٹی میری داڑھی پر آپڑی بیٹی نے ہاتھا بڑھا یا اور میرے چہرے سے مٹی صاف کی لیکن میں اسی بے رحمی اور سنگدلی سے اس کے منہ پر مٹی ڈالتا رہا یہاں تک کہ میرے نالہ و فریاد کی آخری آواز تہہ خاک دم توڑ گئی۔
رسول اللہ ﷺنے یہ داستان بڑے غم کے عالم میں سنی۔آقاﷺ بہت دکھی اور پریشان تھے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے جارہے تھے۔
آپ ﷺنے فرمایا: اگراللہ کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو ضروری تھا کہ جتنا جلدی ہوتا وہ تجھ سے انتقام لیتا۔
قیس بن عاصم بنی تمیم کے سرداروں میں سے تھا۔ظہور رسالت مآب کے بعد وہ اسلام لے آیا تھا اس کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک روز وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ چاہتا تھا کہ جو سنگین بوجھ وہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے پھر تا ہے اسے کچھ ہلکا کرے۔اس نے رسول اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کیا:گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھی تھے جنہوں نے جہالت کے باعث اپنی بے گناہ بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیا تھا میری بھی بارہ بیٹیاں ہوئیں میں نے سب کے ساتھ یہ گھناونا سلوک کیا۔ لیکن جب میرے ہاں تیر ہویں بیٹی ہوئی تو میری بیوی نے اسے مخفی طورپر جنم دیا اس نے یہ ظاہر کیا کیا کہ نو مود مردہ پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اسے چھپ چھپا کر اپنے قبیلوں والوں کے ہاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطمئن ہو گیا لیکن بعد میں مجھے اس ماجرا کا علم ہو گیا میں نے اسے حاصل کیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا۔
اس نے بہت آ ہ و زاری کی، میری منتیں کیں گر یہ و بکا کی مگرمیں نے پر وا ہ نہ کی اور اسے زندہ در گور کردیا۔
رسول اللہ ﷺنے یہ واقعہ سنا تو بہت ناراض ہو ئے۔ آپ ﷺکی آنکھوں سے آنسوجاری تھے کہ آپ ﷺنے فرمایا:
من لایرحم لایرحم
جو کسی پر رحم نہیں کھا تا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بعد آپ ﷺنے قیس کی طرف رخ کیا اور یوں گویا ہوئے:
تمہیں سخت دن در پیش ہے۔
قیس نے عرض کیا:
میں کیا عرض کروں اس گناہ کابوجھ میرے کندھے سے ہلکا ہو جائے؟
پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا:
تونے جتنی بیٹیوں کو قتل کیا ہے اتنے ہی غلام آزادکر (شاید تیرے گناہ کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔)
تو کیا موجودہ دور میں بچیوں کو بوجھ سمجھ کر قتل کرنے والے اور کرانے والے (اس میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز اور دائیاں بھی شامل ہیں) اُن کا حشر دور جہالیت کے اُنہیں ظالموں کے ساتھ نہیں ہو گاجوبچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔
اسی طرح صعصعہ بن ناجیہ نامی ایک صحابی تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ یارسول ﷺ مجھے زمانہ جاہلیت میں 360بچیوں کی جان بچانے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب عورت ولادت کے قریب ہوتی تو اسے ایک گڑھے کے اوپر بٹھادیا جاتا۔ اگر لڑکی پیدا ہوتی تو پیدا ہوتے ہی اس میں دفن کردی جاتی۔ لڑکی کی پیدائش کے وقت والد کا دل غم سے پھٹنے لگتا۔اوروہ شرم کے مارے چھپا پھرتا۔ اپنی معصوم لخت جگر کو زندہ درگور کرنے کی سازشیں اور تدبیریں سوچنے لگتا تھا۔ مجھے جب بھی اطلاع ملتی کہ فلاں کے گھر بچی پیدا ہوئی ہے اور وہ اسے زندہ درگور کرنا چاہتا ہے تو میں اس بچی کے عوض اس کو بھاری معاوضہ دے کر اس بچی کی جان بچالیتا تھا۔ کیا مجھے اس عمل پر کوئی ثواب اور فائدہ بھی ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صعصعہ! کیا یہ فائدہ کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمادی۔ نیکی کا صلہ اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے تاریک سینے کو ایمان کے نور سے منور فرمادے۔“
تونے بہت ہی بڑا کام انجام دیا ہے اور تیری جزا اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ کاش! آج بھی کوئی شخص حضرت صعصعہ بن ناجیہؓ کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ہمارے معاشرے سے یہ انتہائی فرسودہ اور انسانیت کش رسمیں ختم کرنے کی کوشش کرے۔ کوئی ایسی تدبیر کرے کہ ان معصوم اورنوخیز کلیوں کی جان بچالے اور اس قرآنی حکم ”جس نے کسی ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی“ کا مصداق ہوجائے۔