عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے۔مقر رین کا خطاب

عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے۔مقر رین کا خطاب

تلہ گنگ(نما ئندہ بول تلہ گنگ) تلہ گنگ کے موضع پچنند میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان چھٹی سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد۔ تاریخ ساز،، ختم نبوت کا نفرنس ،،میں ہزاروں فرزندان اسلام کی شرکت۔کانفرنس میں شریک شمع رسالت کے پروانوں کا تحفظ ختم نبوت کے لئے تن من دھن قربان کرنے کا عزم ،پچنند کی فضاءنعرہ تکبیر اللہ اکبر اورختم نبوت زندہ بادکے نعروں سے گونج اٹھی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماءختم نبوت مولانا اللہ وسایا،مولانا عبیدالر حمن انور ,مولانا شبیر احمد عثمانی، سابق قادیانی شمس الدین,مفتی اسد محمود اور دیگر مقررین نے،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور وحدت امت مسلمہ کی بنیاد ہے عقیدہ ختم نبوت کو اسلام میں وہی مقام حاصل ہے جو بدن میں روح کو حاصل ہے عقیدہ ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان کے بغیر تمام اعمال ،سعی لاحاصل ہیں تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺکے بعد جو بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب اور دجال ہے یہ امت محمدیہ کا اجتماعی عقیدہ ہے اور عقیدے کے بارہ میں کسی قسم کی مفاہمت، اور سودے بازی نہیں ہوسکتی۔جس کا ختم نبوت پر ایمان نہیں ہمارے نزدیک اس کا اسلام اور مسلمانوں سے دینی و مذہبی، کوئی بھی تعلق نہیں وہ ہم وطن، ہم قوم، ہم نسل تو ہوسکتا ہے، ہم مذہب نہیں۔یہ تاریخی کانفرنس انشاء اللہ عقیدہ ختم نبوت کی فکری اساس کو مضبوط کرنے کا باعث بنے گی۔ مقررین نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے اس کا خمیر انگریز کی کاسہ لیسی سے اٹھایا گیا ہے۔قادیانیت کا وجود اسلام کی نفی ہے قادیانیت امت مسلمہ کے تشخص کو برباد کرنے کی انگریزی سازش ہے قادیانیت کا وجود امت امسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی اغیار کی مکروہ چال ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے سچے نبیﷺ کے امتی ہونے کے ناطے سچ کے اظہار اور قادیانیوں کے مکروہ عزائم کے خلاف میدان عمل میں نئے ولولے سے اتریں ہر مسلمان قادیانیت کا سماجی بائیکاٹ کرے۔مقررین نے کہا کہ اس کانفرنس میں شمع رسالت کے ہزاروں پروانے متحد ہو کر حکمرانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حکمران کسی غلط فہمی میں نہ رہیں غلامان مصطفےٰ پچنند میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ارتدادی سرگرمیوں اور آئینی خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔حکومتی سطح پر ان سرگرمیوں کا تدارک کیا جائے ورنہ غلامان محمد ﷺاپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہیں عظمت مصطفیﷺ کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں۔