جعلی عامل اک بڑا ناسور۔۔۔تحریر :نمرہ ملک

جعلی عامل اک بڑا ناسور۔۔۔تحریر :نمرہ ملک

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بے روزگاری ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بالخصوص اور بزرگ بالعموم مختلف قسم کے شارٹ کٹ کے رستوں کواپنانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔سماج دشمن عناصر مجبور اور سادہ لوح لوگوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ہتھکنڈے اپناتے ہیں اور نوجوانوں خاص طور پہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے سبز باغ دکھاکر لوٹ لیتے ہیں۔ان لوٹنے والوں میں سر فہرست جعلی پیر و عامل حضرات ہیں۔ان جعلی دینداروں نے ایسے ایسے ہتھکنڈے اپنا رکھے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ ان کے جال میں آ جاتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی لٹا بیٹھتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ آﺅ گے تو کیا لاﺅ گے؟ہم آئیں گے تو کیا دو گے؟ ہدیے اور نذرانوں پہ پلتے یہ لوگ کیسے مسیحا ہو سکتے ہیں!جگہ جگہ پہ کھلے یہ جعلی عاملوں کے اڈے جہاںبظاہر شرافت اور دینداری کا لبادہ اوڑھے بیٹھے حضرات عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے اور پھر بھی انہیں خوش بختی کی سند دیتے ہیں۔کوئی اخبار اٹھا لیں،کسی دیوار پہ دیکھ لیں،کہیں بھی بڑی اور کمرشل جگہ پہ دیکھیں تو سب سے زیادہ بزنس کمانے والے جعلی پیر و عامل ہیں۔ان لوگوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے جس کے تحت وہ مختلف علاقوں میں تعویزات کا کام کرتے ہیں۔المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مسجد کے ایک مستحق مولوی کو جو امام ہے اور جس کے زمہ معاشرے کی ساری دینی رسمیں ہیں ،کو صرف پانچ سے دس ہزار تنخواہ تک محدود کر رکھا ہے،چندے اور مخیر حضرات کے ”صدقے“ تک رکھا ہوا ہے جب کہ ان جعلی لوگوں کو دھرلے سے اپنی حلال آمدنی کا بڑا حصہ دیتے ہیں۔مولوی صاحبان پہ سب سے زیادہ رولا رپا ڈالتے ہیں جو دین کی تبلیغ و ترویج اور بچوں کی دینی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں مگر جو لوگ اس کارخیر میں رکاوٹ ڈالتے اور معاشرتی برائیوں کا سرچشمہ ہیں انہیں بھر پور انداز میں پروٹیکشن دیتے ہیں۔جعلی عاملوں کا دائرہ کار انتہائی وسیع اور نازک سطح پہ ہے۔یہ لوگ گھروں میں وظائف و عملیات کا جھانسا دیتے ہیں اور گھر کے گھر اجاڑ دیتے ہیں۔حال ہی میں ”شیشیاں والی سرکار“اس کی زندہ مثال ہے جس نے شیشے کے کاروبار کی آڑ میں ترنول اسلام آباد میں وسیع دھندہ شروع کر رکھا تھا۔گرفتار ہونے کے بعد ضمانت پہ رہا ہوا اور پھر ایک اور جگہ آستانہ ”گاڑھ“ لیا۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم پھر بھی ایسے لوگوں کی حفاظت میں دین و دنیا تباہ کیے بیٹھے ہیں۔جعلی عامل اور پیر بنے بیٹھے حضرات سادہ لوح لوگوں کو اس صفائی سے زک پہنچاتے ہیں کہ ان بے چاروں کو لٹنا بھی خوش نصیبی لگنے لگتا ہے۔اکثر جگہ پہ دیکھا گیا ہے کہ کسی ان پڑھ یا سادہ دل خاتون کو وہم میں مبتلا کیا جاتا ہے کہ تمہارے گھر میں جادو ہے جس کی وجہ سے تمہارے بعض معاملات سیدھے نہیں ہو رہے۔اب بھلے وہ عورت معاشی خوشحالی میں تارے توڑ سکتی ہو مگر حضرت جی کی باتوں میں آکر اپنے ہی گھر میں تباہی لانے کا سبب بن جاتی ہے۔یہ لوگ اس قدر بے شرمی سے خواتین کو ان کے گھروالوں اور رشتے داروں سے متنفر کرتے ہیں کہ وہ جان سے پیارے رشتوں پہ بھی شک کرنے لگتی ہیں۔ان سے بدلے لینے کی کوشش کرتی ہیں اور شوہر اور باپ بھائیوں کی حق حلال کی کمائی ان جعلی عاملوں پہ لٹانے لگتی ہیں۔اس وقت تک ان کی برین واشنگ اس قدر ہائی لیول پہ ہو چکی ہوتی ہے کہ خون کے رشتے بھی دغاباز لگتے ہیں اور وہی لوگ جو ان کی خاطر جان تک قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے، سب سے بڑے دشمن لگنے لگتے ہیں۔کاغذ کے چھوٹے سے فسادی ٹکڑوں کے زریعے گھر میں حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھول جاتی ہیں کہ ان گھر والوں کی چھایا ہی سب سے بڑی نعمت ہے جن کے لیے وہ دشمن کا روپ دھار رہی ہیں۔جب کالا جادو اور نوری عمل کرنے والے توڑ کی مد میں عزت سمیت بہت کچھ لوٹ چکے ہوتے ہیں تو پھر دوسری طرف اپنا سکہ جما لیتے ہیں اور ایک ہی گھر میں حکومت اور حزب اختلاف کی تقسیم کر دیتے ہیں۔گھر تو تباہ ہوتا ہی ہے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی برائیوں کی راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے جن میں جھوٹ،غیبت اور چوری کے ساتھ ساتھ زنا کے واقعات بھی عام ہیں۔سوشل میڈیا پہ ایسے ہزاروں پیروں کے جعلی کارنامے بکھرے پڑے ہیں جو دوست بن کر عزت و دولت لوٹ کر نو دوگیارہ ہو جاتے ہیں۔یہ نوسر باز ہر بار ایک نئے طریقے سے عوامی نفسیات سے کھیلتے ہیں ۔کبھی کاروبار کے لیے تعویزات اور عمل کا جھانسا،کبھی کالے عمل کا ڈراوا دے کر خود ہی اسکا توڑ کرنے کی آفر تو کبھی مکان اور من پسند رشتے میں کامیابی کی ضمانت دینے میں ماہر ہوتے ہیں۔باقاعدہ آستانہ بنا کے بیٹھے یہ دین کے کاروباری ٹھیکیدار بری طرح معاشرے کی تنزلی کا باعث بنتے ہیں۔کسی نہ کسی مزار پہ اپنا کاروبار بنا کر بیٹھے یہ جعلی پیر عام آدمی کو مختلف انداز میں لوٹتے اور ان کی نفسیات سے کھیلتے ہیں۔درگاہ کے یہ بلے منشیات فروشی،دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان سے لے کر ریپ اور ڈکیتی تک کی وارداتوں کے سر خیل ہوتے ہیں۔تمام سماجی برائیاں ان کے آستانوں سے ہو کر نکلتی ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ان کی جعلی پیری سے متاثر بڑے بڑے عہدے پہ بیٹھے توہم پرست لوگ بھی ہوتے ہیں جو چڑھاوے کے نام پہ بکرے چھترے جمع کرواتے اور دعائیں لیتے ہیں ۔یہ بے وقوف نہیں سمجھتے کہ انہیں باقاعدہ پلاننگ سے مریدی میں لیا جاتا ہے تا کہ ان جعلی پیروں کا ٹھیہ بچا رہے بلکہ کسی نہ کسی بڑے عہدے دار اور سیاسی طور پہ مضبوط شخصیت کی آشیر باد بھی حاصل رہے۔انہی بڑے بڑے لوگوں کی ہلہ شیری پہ یہ جعلی عامل بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیتے اور ملکی ترقی و معاشرتی بہبود میں روڑے اٹکاتے ہیں۔غیر اخلاقی اور آبرو باختہ حرکات ان کے لیے باعث شرم نہیں ہوتیں بلکہ یہ اپنے مریدوں کو بھی ان کے لیے مجبور کرتے ہیں کہ یہ بھی عمل کا حصہ ہیں اور اس طرح کرنا کر ثواب ہے۔کئی لوگ تو باقاعدہ ریکٹ چلا رہے ہیں جو اسی گھناﺅنے کاروبار میں ملوث ہیں اور انسان و سماج دشمن عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں۔عوامی جگہ پہ کئی ایسے واقعات جو دلخراش داستانیں جنم دیتے ہیں،ان کے ڈانڈے بھی یہاں سے ہی ملتے ہیں۔کئی جعلی عامل رشتے،کاروبار،مکان اور محبت پانے کے چکر والوں کو ایسا چکر دیتے ہیں کہ انسانیت لرز اٹھتی ہے۔کئی بار بچوں کے ساتھ گندے عمل کے بعد ان کو غائب کرنے کی خبریں منظر عام پہ آچکی ہیں۔مزارات،آستانے اور پیری ڈیرے ایسے گندے کاموں کے اڈے بنے ہوئے ہیں جو غیر اخلاقی حرکات و جرائم میں ملوث ہیں جبکہ انہی مقامات پہ دین کامذاق اڑاتی ایسی کئی کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں جو بین الاقوامی طور پہ پاکستان کی رسوائی کا باعث بنتی ہیں۔کچھ ماہ پہلے سرگودھا میں جعلی پیر کا مریدوں کو کلہاڑی سے مار کے دوبارہ زندہ کرنے کی شیخی اسی سلسلے کی اک مثال ہے۔حیرت یہ ہے کہ اس پڑھے لکھے اور روشنی کے دور میں بھی لوگ اس جاہل کی باتوں پہ ایمان لائے اور ابھی تک اسی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ملک دشمن عناصر جن میں خاص طور پہ بھارتی ایجنسیاں قابل زکر ہیں ،اپنے ٹارگٹ کے لیے زیادہ تر جعلی پیروں کا روپ دھار کر پاکستان کی عوام میں انتشار پھیلاتی ہیں۔درگاہیں چونکہ عقیدت کی جگہ ہے اس لیے اکثر مقامات پہ یہاں سے منسلک مجاوروں تک کو عزت دی جاتی ہے اور چیکنگ میں سختی نہیں کی جاتی۔کئی بار راءکے ایجنٹ کالے جادو کے ماہر وں کے روپ میں پکڑے گئے جب کہ اس دوران وہ کثیر تعداد میں لوگوں کی زندگیوں سے بھی کھیل چکے تھے۔اب ایک اور طریقہ کار نکلا ہے جس میں بھکاریوں کے روپ میں بدعات و خرافات کی نئی نئی تباہ کاریاں متعارف ہو رہی ہیں۔عوامی سطح پہ ایسے تربیتی سیمینارز ہونے چاہئیں جن میں یہ شعور دیا جائے کہ دین اور دنیا کو تباہ کرنے والے ایسے سماج دشمن عناصر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ایسے عناصرکی بیخ کنی اس لیے بھی ضروری ہے کہ معاشرے میں پھیلتی اس وبا کی روک تھام سے معاشرتی جرائم میں بڑی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔دین کے حقیقی پاسبانوں کو بدنام ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔کالا علم،نوری وظائف اور تعویزات سے اگر مشکلات حل ہوسکتیں تو ساری دنیا میں صرف یہ ہی کام ہوتے،اللہ اور اس کے رسولﷺ اس کا حکم دیتے جب کہ سورة الناس میں تعویز گنڈوں اور گرہوں پہ پھونک مار کر عمل کرنے والوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔عجیب بات ہے کہ ہم قرآن جیسے بڑے نوری مصحف کو چھوڑ کر بے دین اور لاعلم بلکہ جاہل لوگوں کی بات کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔یقین جانیے جعلی پیر و عامل اس معاشرے کا وہ ناسور ہیں کہ جن سے بچنا ہی سب سے بڑا تعویز ہے جس سے دین اور دنیا سنور سکتی ہے۔مجھے اس موقع پہ پیر نصیر الدین نصیرؒ کی بات یاد آرہی ہے کہ”اللہ ،اس کے رسولﷺ کے احکامات کی پیروی کرو،حقوق العباد میں ڈنڈی نہ مارو اور خود کو جنتی سمجھو“اللہ نے مکمل ضابطہ حیات قرآن و سنت میں سمو دیا ہے پھر ایسی کیا کامیابی ہے جو صرف تعویز ہی کر سکتے ہیں۔دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اللہ کو ”ہی“ ماننا شروع کر دیں تو اللہ ”بھی“ کا مسئلہ آپوں آپ ختم ہو جائے گا۔جعلی پیر جو ”بابا گھن ککڑ تے دے پتر“ کی بانگ پہ حرکت کرتے ہیں اگر اتنے ہی ولی کامل ہوتے تو یقینا خود بھی کسی نہ کسی شاہی ریاست میں سربراہی کر رہے ہوتے۔سوچئیے کہ جو اپنا آپ نہیں سنوار سکتے وہ کسی کو کیسے مصائب سے نکال کر بگڑی بنانے کا دعوٰی کر سکتے ہیں؟یہ جعلی پیری مریدی کے ٹھیکدار دو طرح سے حملہ آور ہیں،ایک تو معاشرے میں بدامنی اور جاہلیت پھیلا رہے ہیں دوسری طرف اسلام کو اک مکروہ مذہب کی صورت دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔مغربی اقوام قرآنی سائنس کو دیکھتے ہوئے ترقی کی منازل چڑھ رہی ہیں اور ہم توہم پرستی کے جال میں پھنسے تعویز گنڈوں سے اپنی قسمت کی فال نکالنے کی باتیں کرتے ہیں!!!۔۔