پیار کی چاہت تم میں نہیں ہے …..درہم کی ہے یا دیناری  شاعرہ : حمیدہ کشش

پیار کی چاہت تم میں نہیں ہے …..درہم کی ہے یا دیناری شاعرہ : حمیدہ کشش

طویل غزل
(ایک طویل غزل)

شاعرہ
حمیدہ کشش
رنگِ ادب پبلی کیشنز
نگرانِ اشاعت
شاعر علی شاعر
0345-2610434
جملہ حقوق بحقِ ناشر محفوظ ہیں

شعری مجموعہ : طویل غزل
(طویل غزل)
شاعرہ : حمیدہ سحر
03
@gmail.com
اشاعت : جنوری2016ئ
کمپوزنگ : شیرازی شاعر
0300-2054154
ناشر : رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
0336-2085325
rangeadab@yahoo.com
پرنٹرز : انور ذکی پریس، کراچی
تعداد : 500
صفحات :
قیمت :
پبلی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی کے مطابق کتاب کی اشاعت کے لیے رابطہ کیجیے
رنگِ ادب پبلی کیشنز
5۔کتاب مارکیٹ ،اُردو بازار،کراچی

انتساب

٭
ذات ہے اس کی جان سے پیاری
وہ ہی کرتا ہے غفاری

اس سے ڈرنا ، ڈرتے رہنا
ظالم کو ہے وہ قہاری

میرا پردہ رکھے گا وہ
وہ ہی کرتا ہے ستاری

میرے دشمن یاد رکھیں گے
میرا مالک ہے جباری

ہم کو صورت دیتا ہے وہ
وہ ہے مصور ، وہ ہے باری
میرے پالن ہار تری بس
مانتے ہیں سب پالن ہاری

اپنے سر پر رکھی میں نے
نعلینِ نبی کی دستاری

دل کو راحت دینے والا
میرے لبوں پر ذکر ہے جاری

اُن کے صدقے جاﺅں گی میں
جن سے بندھی ہے آس ہماری

ان کے حکم پہ جاں دے دوں گی
اُن کی کروں کی تابع داری
جب سے ہوئی ہے تم سے یاری
دشمن ہو گئی دنیا ساری

خوف طبیبوں پر ہے طاری
کون کرنے گا زخم شماری

منزل تک میں کیسے جاتی
ہر ہر گام پہ تھی دشواری

قضا سے پہلے آ نہ سکے تم
ٹوٹ گئی تب آس ہماری

تم کو کیا کیا ہم بتلائیں
ہم نے کیسے عمر گزاری
دولت ، صحت ، پھر اُس نے بھی
چھوڑا مجھ کو باری باری

چھوڑ گئے رستے میں تم ہی
میں نے کب تھی ہمت ہاری

تجھ کو قسم ہے اک دن دلبر
سن لے میری آہ و زاری

مجھ سے بگڑ کر اک دن بولے
تم سے کب تھی رشتے داری

سنگِ انا کی بات نہ پوچھو
پتھر ہے یہ سب سے بھاری
کیسے دل کو کاٹ رہی ہے
کس کی زباں کی ہے یہ آری

تو ہی بتا دے کیسے بھولوں
تیری ادائیں پیاری پیاری

ہم ساحل پر ڈوبے ہیں اور
ناﺅ پہنچی پار تمھاری

کیا عزت اس پتھر کی ہے
جس کو سب نے ٹھوکر ماری

اب گلشن میں پھول کھلیں گے
گل سے ہو گئی اپنی یاری
کیسے کٹے گی رات یہ بھاری
کب تک ہو گی نجم شماری

لوٹ کے کھا گئے کاروباری
کر لی ہم نے دنیا داری

سر سے گزرا پانی سائیں
اب تو روکو ہتھیا چاری

یار ملن کو آتا ہو گا
خود کو پگلی تو مہکا ، ری

آج بنے گی اس کی سواری
آنے والی ہے وہ لاری
کرتے ہو کیوں کاروکاری
جرم نہیں ہے یہ ادباری

کوئی نہیں ہے جھوٹ سے عاری
سب نے اپنی بھانجی ماری

دیکھو بیوی ہارے گا کون
داﺅ لگا بیٹھے ہیں جواری

جب جب کرتی ہوں مے خواری
اور آ جاتی ہے ہشیاری

میرا رستا اونچا نیچا
تیری راہیں ہیں ہمواری
سیدھی سادی سچی ہوں میں
لیکن اس میں ہے پُرکاری

اس کی آنکھیں مے خانہ ہیں
ہوتی نہیں کیوں اس کو خماری

میری ضرورت بھول گئے تم
جب سے ہوئے ہو کاروباری

اس سے مل کر جان گئے ہم
اس کے فن میں ہے فن کاری

آدھی رات کو آنے لگی ہے
خواب نگر میں اس کی سواری
میں ہوں تیرا بستر دلبر
مجھ سے کیسی ہے بے زاری

تیرے ہاتھوں سے پیتی ہوں
لے ڈوبی مجھ کو یہ مے خواری

اپنے قبیلے کی بنجاری
دے دے مجھ کو تو سرداری

جیسے میرے ہونٹ رسیلے
ویسی میری ہے گفتاری

ایک ہے اس کا مرکز ، محور
یہ جو نقطہ ہے پرکاری
مجھ کو چھوڑ کے جا تو رہے ہو
یاد کرو گے میری یاری

سچ مچ تم پر مرتی ہوں میں
بات نہیں ہے یہ اخباری

بولنے والے چپ چپ کیوں ہیں
کیسی ہے یہ پُر اسراری

جب سے تم کو سوچا میں نے
تم ہی تم ہو ذہن پہ طاری

اب تو مشرق کی عورت بھی
شرم و حیا سے ہو گئی عاری
فاقہ زادہ نے بھیک نہ مانگی
اپنی اپنی ہے خود داری

تیری گلی سے ہو کر گزری
مجھ میں ایسی تھی جی داری

شوق سے مجھ کو پڑھتے ہیں لوگ
لکھتی ہوں میں سب معیاری

یار ہے گھر میں آنے والا
کیسے کروں گی خاطر داری

میں ہوں دیوی الفت کی اور
تو ہے میرا پریم پجاری
مجھ کو مفلس کہنے والے
خود بھی نہیں ہیں وہ زرداری

عزت سے جینے کا سلیقہ
اپنے رب سے مانگ بھکاری

تیری جدائی کے روزے کی
میرے ملن سے ہو افطاری

مجھ سے آگے آگے جانا
میرے بدن کی ہے عذاری

پیچھے مجھ سے عشق جتائے
میرے منہ پر ہے انکاری
تو جو میرے ساتھ چلے تو
لے آﺅں گی لال فراری

مجھ جیسے آہو کو کھو کر
روتا ہے اب آپ شکاری

میری زلف کی خوشبو پا کر
مہک رہی ہے بادِ بہاری

مجھ بن چین سے رہتے کب تھے
مجھ سے ہے کیوں اب بے زاری

میرے کمرے میں آ جاﺅ
تم سے کہتی ہے رہ داری
ہونے والی ہے ملت کو
خوابِ غفلت سے بیداری

عشق ہوا ہے ہمسائے سے
کام میں آئی ہے بے کاری

کرتی رہتی ہوں میں اس کے
سب ناز و نخرے برداری

مہر و وفا تجھ میں بھی نہیں ہے
تجھ میں بھی بھری ہے مکاری

کچی رہ گئی ہیں بنیادیں
کیسی تو نے کی معماری
تجھ سے بچھڑنے کا جو دن تھا
اس کی رات تھی سب سے بھاری

تن ، من ، دھن اور جان ہماری
تم پر صدقے ، تم پر واری

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
یار کہاوت ہے یہ پیاری

کتنا خوش قسمت تھا وہ شخص
جس نے میری زلف سنواری

پیار تماشا دیکھنے والا
کتنا بڑا تھا خود بھی مداری
افراتفری ، نفسا نفسی
کیوں ہے یہ سب مارا ماری

پیری سندیسہ دینے آئی
چلنے کی ہو اب تیاری

نازک پن نے ساتھ نہ چھوڑا
ساتھ ہے شیشے کی الماری

تم کیا جانو حرف کی ضربت
ضرب زباں کی سب سے کاری

شعر سفر کرتے ہیں میرے
قریہ قریہ میرے قاری
تیرے اک بوسے نے دلبر
رنگت میری خوب نکھاری

جو لکھنا ہے لکھتے نہیں وہ
ویسے تو ہیں سب ہی لکھاری

پہلے سید سید تھے سب
اب ہیں لاشاری و لغاری

دلبر کی ہمت ہے یارو!
کرنے آیا ہے غم خواری

بیوی ہوں بیوی تو سمجھو
عورت کب ہوں میں بازاری
میرا قبیلہ عام نہیں ہے
لوگ ہمارے با کرداری

جب جب میں نے ساری پہنی
سب نے میری نظر اتاری

مجھ کو مٹانی ہیں جو رسمیں
ایک ہے ان میں کاروکاری

ہاتھ میں آئی جس کے مصری
کیوں بن بیٹھا وہ پنساری

کیسے کروں منہ زور بدن کی
کپڑوں سے میں پہرے داری
دید کو تیری ترس رہی ہوں
مجھ کو بنا دے تو درباری

تجھ کو سونپو خود کو جاناں
پوری کرو گے ذمے داری؟

عید ملی اوروں سے تم نے
کب آئے گی میری باری

میرے لہو کی فصل تو دیکھو
پھول کھلے ہیں کیاری کیاری

ہم ملتے ہیں اب بھی چھت پر
کھیل محبت کا ہے جاری
پیارے سے سب ہی رام ہوئے ہیں
چنگیزی ہو ، یا تاتاری

مجھ کو صدمے مت دینا تم
مر جاﺅں گی مار کٹاری

فاقہ زدہ تھی ، خود کو بیچا
کرتی بھی کیا وہ بے چاری

مردہ بدن پر گدھ بن بیٹھے
پیرِ مغاں اور اس کے ہاری

تم بھی چکھو اک دن اپنے
اشک سدا ہوتے ہیں کھاری
مجھ کو پتا ہے غم دے کر تم
کرنے آﺅ گے غم خواری

تم سے مل کر مجھ کو ہوئی جو
دیکھی نہیں تم نے سرشاری

اب تک مجھ کو بھولی نہیں ہے
تیرے بوسوں کی بوچھاری

توڑا سب نے مجھ سے تعلق
کون یہاں پر یار ہے غاری

نور نہیں میں ، نار نہیں میں
کیوں کہتے ہیں مجھ کو ناری
عشق نگر کی باسی ہوں میں
تم کرتے ہو دنیا داری

کہیں نہیں تھا میرا ساجن
گلی گلی میں نام پکاری

ملنے کیسے جاﺅں اس سے
بڑھتی جاتی ہے لاچاری

تیری خاطر چُھوٹے ہیں دوست
چھوڑ دے پیچھا اے ناداری

کیسے ہو گا اپنا ملن پھر
میں ہوں داسی تو اوتاری
مجھ میں بسی ہے اس کی خوشبو
میرا پڑوسی ہے عطاری

مجھ کو پیچ و خم میں ڈالے
اس کی باتوں کی تہ داری

تم بھی خاکی ، میں بھی خاکی
آﺅ کھیلیں گارا گاری

آ جا ساجن تجھ بن میری
سونی چھت ہے ، خالی اٹاری

دل پر ماروں نین کٹاری
ایسی ظالم ہوں میں ناری
روپ بدل کر آﺅں ملنے
میں ہوں ناگن اِچھّا دھاری

دونوں طرف سے کاٹے دل کو
میرے جلوے ہیں دو دھاری

تم بھی نبھاﺅ ، میں بھی نبھاﺅں
جو بھی رسمیں ہیں سنساری

ہوٹل اور تم یاد آتے ہو
کھاتی ہوں میں جب بھی نہاری

جانے کیا کیا یاد آتا ہے
لکھتی ہوں جب یاد نگاری
پوچھ رہا ہے آئینہ بھی
اب تک کیوں ہیں آپ کنواری

کب آئے گا دلبر ملنے
مجھ کو بتا دے بادِ بہاری

وقت پر کچھ بھی ملتا نہیں ہے
کیسے نبھاﺅں میں گھرداری

کیسے جاﺅ گے تم سوچو
ہونے لگی ہے ژالہ باری

آﺅ سوچیں اپنے ملن میں
ہونے لگی ہے کیوں دشواری
دیکھو میرے سب شعروں میں
تم کو ملے گی تازہ کاری

مجھ کو پاس بٹھا کے ساجن
جلدی سے تو کھینچ حصاری

عشق نہ پوچھے ذات کسی کی
کون ہے چیمہ ، کون مزاری

کیسے آﺅں پاس تمھارے
جاگ رہی ہے خلقت ساری

کیسے عشق نبھے گا مجھ سے
تو مردھن میں راج کماری
تجھ کو اپنے رنگ میں رنگ دوں
رنگوں بھری ہوں میں پچکاری

ناممکن ہے لکھنا تجھ کو
میں سمجھی تھی سہل نگاری

آتش جذبوں میں بھڑکائے
یہ عشق ہے ایسی چنگاری

شیطانی سوچیں لاتی ہیں
ذہنِ انساں میں بے کاری

پورے چمن میں ہو گئی کیسی
میرے لہو سے لالہ زاری
زخم رفو ہوتے ہیں لیکن
کیسے سیوں میں روح فگاری

اس کی ترقی کا کیا کہنا
جس نے لاٹھی چاند پہ ماری

رات پڑی ہے ، اک دوجے کو
آﺅ چومیں باری باری

میرے بدن پر ہونٹوں سے وہ
چاہے بنانا نقش نگاری

حدت آئی اس کے بدن میں
چھو کر میرا جسم انگاری
دل بھی تجھ کو دان کیا تھا
جان بھی اپنی تجھ پر واری

جانے کیا قسمت کو سوجھی
بوجھ مجھی پر لادا بھاری

تم کیا جانو قربانی کو
تم کیا سمجھو گے ایثاری

جس کو اپنا جانا ہم نے
اس نے ہی تو کھال اتاری

میرے بدن کو چھونے آئی
قوسِ قزح کی رنگیں دھاری
چاروں طرف لٹ گئی ہوں میں
مجھ پہ ہوئی ہے یوں یلغاری

تجھ سے بچھڑ کر زندہ ہوں میں
جاتی نہیں ہے سینہ فگاری

تو مشرق کی عورت ہو کر
مغرب سے کیوں ہے دوچاری

کیسے اپنی دیکھوں سوتن
بینا ہوں میں ، میں ابصاری

تاریکی ہی تاریکی سے
اور ہوئی ہے ہیبت طاری
عشق و محبت ، مہر و وفا سے
ہو گئی ساری دنیا عاری

شعر و سخن کے لشکر کی سب
دینے آئے ہیں سالاری

آ جا تیرے جذبوں کی میں
دور کروں گی ناہمواری

میری غزل اب ہو گی لوگو!
اک دو صد یا ، تین ہزاری

وہ مجھ سے ملنے کے بہانے
لے کے آیا ہے تہواری
حال تجھے لکھتی ہوں خط میں
کرتی ہوں یوں وقت گزاری

دلبر تیرے صدقے جاﺅں
تو ہی کرتا ہے دل داری

تیری فرقت میں روتا ہے
چاند کی سن لے نالہ زاری

انگلیاں چاٹتی رہ جاتی ہوں
تو جو پکاتا ہے ترکاری

کیسے چھٹی لے کر آﺅں
میں تو نوکر ہوں سرکاری
تیری توجہ کھینچ رہی ہے
میرے کپڑوں کی گلکاری

اس کی تقریریں تو سنو تم
جیسے کوئی شعلہ زاری

چال ہرن کے جیسی میری
میرے پیچھے آئے شکاری

دشمن ظالم ہے بچوں پر
کر کے گیا ہے جو بم باری

کاروبارِ الفت میں اب
کون کرے سرمایہ داری
برف کی صورت گھلتا ہوں میں
دیکھ لے آ کے حالِ زاری

پیارے شوہر دھیان سے برتو
چیز نہیں ہوں میں بازاری

کیسی مسیحائی کی تو نے
بڑھتی جاتی ہے بیماری

غم دینے والوں نے پوچھا
کیوں کرتے ہو بادہ خواری

میں مالی کی پیاری بیٹی
پاس ہے میرے بادِ بہاری
روپ سلونا دیکھ کے اس کا
میری طبیعت مت للچا ، ری

قبر میں تنہا لیٹا کیوں ہے
کہاں گئے وہ تیرے حواری

جانے کب تک تم آﺅ گے
ہونے لگی ہے اب تو خواری

کیسا زمانہ آیا دیکھو
بھائی کرتے ہیں غداری

میری ادائیں دل کو بھائیں
میری ادائیں پیاری پیاری
ایسی جگہ کو کیوں گھر کہہ دوں
جس میں نہیں ہے چو دیواری

تو نے مقید دل میں رکھا
جیسے قید میں ہو درباری

جس پہ بھروسا ہو دکھ دے گا
رسمیں ہیں یہ سب سنساری

دینے آیا تھا وہ سہارا
مجھ کو سمجھا تھا بے چاری

تیری سخاوت کے قرباں میں
تو نے بخشی ہے دیداری
پوری کروں گی ہر خواہش کو
کہتی ہے کیوں یہ ملواری

شیشے جیسا چمک رہا ہے
تیل بدن پر مت ملوا ، ری

لفظِ فرقت سن کر لوگو!
ہونے لگی ہے کیوں خوں باری

تو بھی برستی دیکھ لے آ کر
آنکھوں سے یہ اشک پھواری

تیرا پتا بتلائے مجھ کو
تیری زلف کی خوشبو داری
فخر و تکبر اچھا نہیں ہے
لہجہ مت کر استکباری

میرے لب و رخسار میں دلبر
پھولوں سی ہے تازہ کاری

دیکھ خزاﺅں میں ہوتی ہے
کیسی کیسی برگ و باری

موقع ملے تو تیرے بدن کو
چوموں گی میں باری باری

اس دنیا میں کام آتی ہے
اک دوجے سے واقف کاری
حیرت سے منہ تکتے ہیں سب
دیکھ کے میری ہر فن کاری

مجھ کو تازہ رکھتی ہے بس
میرے دل کی زندہ داری

میرے جوبن نے تجھ کو بھی
دیکھ بنایا ہے حد پاری

تیرے بدن کو چوم رہی ہے
خوش قسمت ہے ژالہ باری

تیرے من کو مہکاتی ہے
میرے بدن کی یہ گلزاری
آ جا طے کرتے ہیں ملنا
باری باری ، ہفتہ واری

مجھ کو گردش میں رکھتی ہے
میری قسمت کی سیّاری

مجھ میں کتنی گہرائی ہے
تجھ میں کتنی پُراسراری

مجبوراً آئی ہوں ملنے
لہجہ تیرا تھا اصراری

مہک رہی ہے میری خوشبو
گل ہوں میں بھی اک گلزاری
میرے ہر ہر شعرِ غزل میں
دیکھ روایت کی آثاری

میں نے اپنا لی ہے اب تو
دنیا کی جدت افکاری

دیکھ وراثت کا بٹوارہ
آنگن میں ہے دو دیواری

شیشے میں دیکھو چڑیا کی
اپنے آپ سے ہے پیکاری

بھول گئے غیروں سے شکوہ
دیکھ کے اپنوں کی اغیاری
بات بات پر ساجن تم کیوں
کرنے لگو ہو استفساری

آﺅ تخمِ خواہش بو لیں
موسم آیا ہے اشجاری

خود کو چھپاﺅں پردوں میں کیوں
کر کے رہو گے تم دیداری

اپنے بچوں کی خاطر میں
دیکھ کے دشمن کو للکاری

اس سے ملنے جاتی ہوں میں
باندی! گاڑی کو چمکا ، ری
طور طریقے دیکھ کے میرے
وہ بھی اپنائے اطواری

شعروں کو برباد کرے ہے
زائد لفظوں کی بھرماری

آنکھیں روشن کرتا ہے وہ
سرمہ بہتر ہے انواری

اپنے بدن کو جھکنے مت دے
شاخیں تیری ہیں اثماری

اس کی پیاس بڑھاتی کیوں ہے
میرے کپڑوں کی تہ داری
زخم نہیں بھرتے ہیں اس کے
تیغ زباں کی ہے دو دھاری

خدا نہیں ہوں ، انساں ہوں میں
کیسے خطائیں بخشوں ساری

جا کے مجھ کو بھول گیا ہے
نام ہے اس کا دنیا داری

سب کچھ اجڑا اجڑا سا ہے
آ کے سنبھالو تم گھر داری

ہفتہ واری آتے ہو تم
تم کو کہوں گی میں اتواری
پیار کی چاہت تم میں نہیں ہے
درہم کی ہے یا دیناری

میں ہوں سیدھی سادی انساں
تجھ میں بھری ہے دنیا داری

دلبر مجھ سے دور ہوا ہے
کون کرے گا اب دل داری

میری غزلیں سادہ سادہ
تیری باتیں ہیں شہ کاری

نام ترا اتنا لیتی ہوں
یار پکارے ہیں اذکاری
میری مسافت ختم نہ ہو گی
جاری رہے گی یہ رہواری

عشق کسی کی ذات نہ پوچھے
تم ہو تغلق یا شنواری

کھیل محبت کا تم کھیلو
اس میں ہو گی دل آزاری

اس نے مجھ کو چھوڑ دیا ہے
ہونا تھا یہ آخر کاری

بن کے مہماں آیا ساجن
تھمنا مت اے ژالہ باری
ملنا ہو تو مل لیتے ہیں
کیسی رکاوٹ ، کیا دشواری

مہکاتی ہیں سانسیں تیری
میرے بدن کی یہ پھلواری

میں ہوں شجر کی صورت سائیں
تم پر کروں گی سایہ داری

روٹھنے والے اتنا تو سوچ
تجھ سے بچپن کی ہے یاری

اب تو میرا بن جا ساجن
چھوڑی میں نے دنیا ساری
میرے بدن پر چمک رہی ہے
تیرے ہونٹوں کی گلکاری

کیسے دیکھوں گی اب تجھ کو
چلی گئی ہے تیری لاری

میرا سارا روپ سلونا
کھا گئی غربت اور ناداری

سارے بندھن توڑے تم نے
بھول گئے تم رشتے داری

میرے قدموں کی برکت سے
باغ میں مہکی ہے پھلواری
گھر کی باتیں گھر میں ہوگی
لہجہ مت کر یوں بازاری

میں نے اپنا خون بہا کر
اس دلبر کی نظر اتاری

کیسے جاﺅں اس سے ملنے
کرتے ہیں سب پہرے داری

میری خوشی سے مجھ کو پانا
تیری ہے اب ذمے داری

تم سے بچھڑنے کا سنتے ہی
اشک ہوئے ہیں آنکھ سے جاری
تیری بات نہ مانوں تو پھر
میرے سینے مار کٹاری

میں ہوں ندیا مجھ سے پی لو
آب سمندر کا ہے کھاری

میری جھیل سے پانی پی کر
اس کی بڑھتی ہے سرشاری

تجھ کو جلا کر راکھ بنا دوں
آگ ہے مجھ میں ، میں ہوں ناری

کیا کیا خطائیں کی ہیں تم نے
کیوں ہے تم پر لرزا طاری
یاد میں تیری لیٹے لیٹے
کرتی ہوں میں نجم شماری

تجھ کو کھو بھی سکتی نہیں میں
عشق میں کیسی ہے دشواری

چال ہے میری ناگن جیسی
تم بیٹھے ہو کھول پٹاری

خار چنے پلکوں سے میں نے
یوں بھی تیری راہ سنواری

الفت کے اس کھیل میں ساجن
جیت گئے تم میں ہوں ہاری
چپکے چپکے روتی ہوں میں
کرتی نہیں ہوں آہ و زاری

غم کا صدمہ پربت جیسا
کیسے اٹھاﺅں بوجھ یہ بھاری

دل کو اندر تک چیرے ہے
اس کی نظر ہے جیسے آری

دن بھر مجھ کو تکتی ہیں بس
اس کی آنکھیں پیاری پیاری

ہار کے تم تو روٹھ گئے ہو
راس نہ آئی جیت ہماری
تیری ایک جھلک کی خاطر
پھرتی ہوں میں ماری ماری

پکے رنگ ہیں اپنے ساجن
کچی نہیں ہے اپنی یاری

تم جیسی میں بن گئی ساجن
سیکھ لی میں نے دنیا داری

پیار کے بدلے پیار ہی لوں گی
ہو گئی میں بھی کاروباری

دنیا کے ہر کوچے میں اب
ہونے لگی ہے ہتھیا چاری
ڈھونڈ کے لاﺅ میرا مسیحا
بڑھتی جاتی ہے بیماری

گلشن میں ، میں تنہا کیوں ہوں
پوچھ رہی ہے مجھ سے کیاری

مجھ پر طاری غم تھا جس کا
دیکھو آئی اس کی سواری

دلبر میرا آتا ہوگا
کنگن ، جھومر ، چوٹی ، لا ، ری

تیری جدائی کیسے سہہ لوں
آ ہو جائیں کاروکاری
مل کر کھیلیں آنکھ مچولی
چل اے باندی تو بھی آ ، ری

میری آنکھوں سے پیتے تھے
کرنے لگے کیوں اب مے خواری

بھولی بھالی بن کر میں نے
دیکھو سیکھی ہے ہشیاری

اس پہ قیامت ڈھاتی ہے روز
میرے بدن کی ناہمواری

دل کو چرانے کی ظالم نے
سیکھی کہاں سے ہے فن کاری
بیٹھے بیٹھے کھو جاتی ہوں
خواب نگر میں بلہاری

ساون کی بارش میں سکھیاں
گانے لگی ہیںخ سب ملہاری

تیرا رستہ تکتے تکتے
ہونے لگی ہے نیند خماری

تیری عزت بن کر ساجن
کرنے لگی ہوں میں سرداری

اس پہ یقیں میں کیسے کر لوں
اس کی باتیں ہیں اخباری
عز و شرف پایا ہے میں نے
مجھ میں رہتی ہے خودداری

اس کی پیاس بجھانا ہوگی
کرنا ہوگی خاطر داری

سمجھ رہا ہے بت وہ مجھ کو
اس کو سمجھا میرے پجاری

پاس نہیں ہے جن کے الفت
ایسے دیکھے ہیں زرداری

کیسے دے دوں بھیک میں ان کو
بیٹھے ہیں جو روپ بھکاری
دل سے اپنے کردوں گی دور
کرنا مت مجھ سے غداری

انکار نہ کرنا وعدوں سے
بات کروں گی ورنہ کراری

الجھ الجھ کر میری زلف سے
جال میں آیا آپ شکاری

چٹک رہی ہیں مجھ میں کلیاں
پا کر تیری باد بہاری

دیکھو بلائے خالی کمرا
پار کریں آ یہ رہ داری
اس کو خواب دکھاتی ہوگی
میرے بدن کی یہ بےداری

رات تو میرے نام ہے ساجن
چھوڑ دے کرنا اب مکاری

مجھ پر جوبن تیرا کرم ہے
لائق تیری ہے معماری

تو نے عورت مجھ کو بنایا
تیرے صدقے ، تیرے واری

ننھی منی سی چڑیا ہے
کیسے اٹھاتی بوجھ ہے بھاری
شام کے سائے آ گئے سر پر
پیا ملن کی ہو تیاری

دان میں جس کو لائی تھی میں
کام نہ آئی وہ الماری

لکھنے لگی ہوں سچ میں جب سے
بن گئے میرے لاکھوں قاری

پیار کی پہلی بارش نے تو
میری رنگت خوب نکھاری

جس کی خاطر سلجھی تھی یہ
اس نے الجھی زلف سنواری

عشق کی مے نے میری حالت
خوب نکھاری ، خوب سنواری

میں نے قلم کو بیچا نہیں ہے
سمجھ نہ مجھ کو ایسا لکھاری

جس نے مجھ کو غم میں دھکیلا
اس کی کرنا ہے غم خواری

یاد میں اس کی کیسی حمیدہ
کر لی تو نے نظم نگاری

شاعرہ : حمیدہ کشش
حمیدہ کشش پاکستانی شاعرات میں پہلی شاعرہ ہیں جنہوں نے 300 اشعار پر مبنی ایک طویل غزل کہی ہے۔