ہماری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ ہماری امیدیں اللہ سے نہیں لوگوں سے وابستہ ہیں۔مولانا محمود الحسن غضنفر

ہماری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ ہماری امیدیں اللہ سے نہیں لوگوں سے وابستہ ہیں۔مولانا محمود الحسن غضنفر

چکوال(نما ئندہ بول تلہ گنگ) ہماری گمراہی کا سبب یہ ہے کہ ہماری امیدیں اللہ سے نہیں لوگوں سے وابستہ ہیں۔جس سے اُمید ہوتی ہے بندہ اطاعت بھی اسی کی کرتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری حیثیت کیا ہے اور ہم کر کیا رہے ہیں ۔ہم پریشان اس لیے ہیں کہ ہم نے غیر اللہ سے اپنی اُمیدیں وابستہ کر لیں ہیں،ان خیالات کا ظہار جمیعت اہلحدیث چکوال کے مرکزی راہنما مولانا محمود الحسن غضنفر نے جامع مسجد اہلحدیث میں جمعہ کے اجتماع سے دوران خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ پون صدی میں کوئی کام ہم سے سیدھا نہ ہو سکا سارا کچھ وہی ہے جو انگریز نے دیا ۔اس کی وجہ کیا ہے کیوں انگریز کے جانے کے بعد بھی وطن عزیز میں تبدیلی نہ آسکی ۔نعرہ تو یہی تھا کہ “پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ” ہم نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ وفانہیں کیا جس نعرہ کی بنیاد پر ہم نے اس وطن عزیز کو آزاد کرایا تھا ہم اس وعدہ سے مکر گئے اور اللہ کو چھوڑ کر لوگوں کو اپنی امیدیں کو محور بنا لیا ،انہوںنے مزید کہا کہ آمدہ عشرے میں طاق راتوں میں اللہ نے ہمیں وہ رات دی ہے جو کہ ہزار مہینے سے بہتر ہے ہمیں اس رات کو تلاش کرنے کےلیے مجاہدے سکام لینا چاہیے اور ہر طاق رات میں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے کیا انہوں نے کہا کہ ہم دین سے بھاگے ہوئے لوگوں کو اقتدار میں لاتے ہیں پھر کہتے ہیں ہمیں انصاف نہیں دیتے اس بے انصافی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔اگر معاشرے اسلامی ہوں تو دھشت گرد جیسی پریشانیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں۔زندگی آخرت کو دیکھ کر گزارنی چاہیے اور سب سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے ۔