بلد یاتی اداروں کو فنگشنل ہو ئے پا نچ ماہ مکمل ،حکومت پنجاب بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دینا بھول گئی،ممبران میں مایوسی کی لہردوڑ گئی ۔

بلد یاتی اداروں کو فنگشنل ہو ئے پا نچ ماہ مکمل ،حکومت پنجاب بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دینا بھول گئی،ممبران میں مایوسی کی لہردوڑ گئی ۔

چکوال(نما ئندہ بول تلہ گنگ) بلدیاتی اداروں کو فنکشنل ہوئے پانچ ماہ کا عرصہ مکمل ہوگیا ہے۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ یہ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل حل کرنے میں قطعی طو رپر ناکام ہوگئے ہیں اور ابھی تک کوئی قابل ذکر کارکردگی ان بلدیاتی اداروں کی سامنے نہیں آسکی ہے۔ ضلع کونسل چکوال نے اپنے گزشتہ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی جس میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے یکم جنوری2017سے بلدیاتی سسٹم بحال کر دیا اور ایک چٹھی کے ذریعے تمام سابقہ ڈی سی اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ تمام عمارتیں جو کہ ڈسٹرکٹ کونسل چکوال کی ملکیت ہیں اور انتظامی طور پر انتظامیہ نے قبضہ میں لے رکھی ہیں وہ31اگست2016تک خالی کروا کر ضلع کونسل چکوال اور دیگر میونسپل کمیٹیوں کے حوالے کریں۔ بعد ازاں اس ڈیڈ لائن میں 31دسمبر 2016 تک اضافہ کر دیا گیا۔ قرارداد کے مطابق اس وقت ضلع کونسل کے دو ریسٹ ہاﺅس آشیاں اور نشیمن بمقام کلر کہار ریسٹ ہاﺅس چوآسیدنشاہ ڈپٹی کمشنر چکوال کے قبضے میں ہیں۔ ریسٹ ہاﺅس آرام گاہ تلہ گنگ نادرا آفس تلہ گنگ کے قبضے میں ہے جبکہ دو عدد دکانیں جھیل روڈ کلر کہا رمیں نادرا آفس کے زیر قبضہ ہیں۔ جبکہ تحصیل چوک چکوال میں ایک رہائش زیر قبضہ محکمہ انٹی کرپشن چکوال ہے۔ قرارداد کے مطابق اس ضمن میں ضلعی حکومت چکوال کو باقاعدہ تحریری طو رپر آگاہ کیا گیا ہے مگر ابھی تک یہ عمارتیں ضلع کونسل چکوال کے حوالے نہیں کی گئیں قرارداد کے مطابق ڈسٹرکٹ کونسل چکوال نے اپنے اخراجات پر یہ عمارات تعمیر کی تھیں اور وہاں پر تعینات عملے کی تنخواہ اوربجلی کے بل بھی ڈسٹرکٹ کونسل چکوال ادا کر رہا ہے مگر اس کے باوجود ان عمارات کاقبضہ ڈسٹرکٹ کونسل چکوال کو واپس نہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر یہ عمارتیں واپس ضلع کونسل کو دی جائیں اور اس عرصے کے دوران جتنا بجلی کا بل اور ملازمین کی تنخواہیں ہیں وہ بھی فوری طور پر ادا کی جائیں۔ ادھر میونسپل کمیٹی چکوال میں بھی جنرل مشرف کے دور میں میونسپل کمیٹی چکوال کے سکول ، لائبریری اور دیگر عمارتیں جو دیگر محکموں کے حوالے کی گئی تھیں ابھی تک واپس نہیں کی گئی ہیں۔ دیگر میونسپل کمیٹیوں چوآسیدنشاہ، کلر کہار اور تلہ گنگ میں بھی اسی قسم کی صورتحال ہے، بے اختیار بلدیاتی ادارے ابھی تک عوام کوکچھ نہیں دے سکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے اور عوام میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔