ضلعی چیئر مینی کے ٹکٹ کیلئے مسلم لیگیو ں کی نظر یں رائے ونڈ کی طرف لگ گئیں ۔

ضلعی چیئر مینی کے ٹکٹ کیلئے مسلم لیگیو ں کی نظر یں رائے ونڈ کی طرف لگ گئیں ۔

چکوال(نما ئند ہ بول تلہ گنگ)ضلع کونسل چکوال میں مخصوص نشستوں پر انتخاب متناسب نمائندگی پر ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ضلع چکوال میں ضلع کونسل کے موجودہ71 رکنی ایوان میںمسلم لیگ کو چالیس سے زائد نشستیں حاصل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس ضلع کونسل میں ستر فیصد نمائندگی ہے۔ لہٰذا مسلم لیگ ن ضلع کونسل کی 15خواتین نشستوں میں سے دس نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اس طرح یہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد ضلع کونسل میں اس کی تعداد 50سے زائد ہو جائے گی ، چار ٹیکنو کریٹ نشستوں میں سے بھی تین مسلم لیگ ن کو ملیں گی۔ لیبر اور کسان میںبھی صورتحال اسی طرح کی ہے۔ جبکہ اقلیتی نشستوں پر بھی چار میں سے تین مسلم لیگ ن کو ملیں گی۔ بہرحال ضلع کونسل چکوال میں مسلم لیگ ن کا چیئرمین اور وائس چیئرمین یقینی ہے۔ صرف اب ضلع چکوال کے15لاکھ عوام کی دلچسپی صرف اتنی ہے کہ یہ چیئرمینی چکوال میں رہے گی یا تحصیل تلہ گنگ یا لاوہ والے بازی لے جائیں گے۔ تحصیل تلہ گنگ میں اس وقت مسلم لیگ ن کے خلاف شدید رد عمل ہے۔ پورا تلہ گنگ شہر کھنڈر بنا دیا گیا ہے ، لوگوںکے کاروبار تباہ کر دیے گئے ہیں اور یہ سارا ملبہ مسلم لیگ ن کے عوامی نمائندوں کے اوپر ہے۔ 31اکتوبر کے بلدیاتی انتخابات میں بھی شدید رد عمل مسلم لیگ ن کے خلاف ہی آیا ہے۔ بے شک ٹکٹوں کی بندر بانٹ اپنی جگہ پر اور اراکین اسمبلی کے اختلافات بھی ایک طرف مگر تلہ گنگ کے عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ اس ملک کا سربراہ میاں نواز شریف اس نے پانچ مئی2013کو تلہ گنگ کے جلسہ عام میں تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا اعلان کر ہے چوہدری پرویز الہٰی کی یقینی فتح کوشکست میں بدل دیا تھا اب مرکز میں وزیراعظم نواز شریف ہیں ، صوبہ پنجاب میں شہباز شریف کے اشارے کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا، لہٰذا تلہ گنگ کے عوام شریف برادران اور اپنے عوامی نمائندوں سے یہ بات پوچھنے میں حق بجانب ہیںکہ تلہ گنگ کو ضلع بناننے میں اب کیا رکاوٹ ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے شریف برادران کو اگر اپنا وعدہ یاد آگیا تو پھر اس حوالے سے ضلع کونسل کی چیئرمینی تلہ گنگ کی طرف جانے کے امکانات روشن ہیں۔ جبکہ ادھر زمینی حقائق رکن قومی اسمبلی میجر طاہر اقبال کے بھائی ملک نعیم اصغر اعوان کے حق میں ہیں۔ بزرگ مسلم لیگی رہنما ملک اسلم سیتھی بھی اب کوئی زیادہ زور لگاتے دکھائی نہیں دے رہے۔سوا چھ کروڑ روپے کے جعلی چیک نے سیتھی ہاﺅس کے جوش و جذبے کو کافی سرد کر دیا ہے۔ بہرحال یہ بات یقینی ہے کہ رائے ونڈ سے جو ٹکٹ آئے گا کامیابی اس کا مقد ر ہوگی اور اگر وزیراعظم نواز شریف اپنے اس قول کے پابند ہیں کہ کسی ایم این اے ایم پی اے کے قریبی رشتہ دار کو ٹکٹ نہیںدیا جائے گا اور شہبا زشریف سہگل آباد میں جلسہ عام میں یہ کہہ گئے ہیںکہ ہم عوام کے خادم سامنے لائیں گے تو اس حوالے سے اس بات کا امکان ہے کہ کوئی عام سا مسلم لیگی کارکن ضلع کونسل چکوال کی چیئرمین سنبھال سکتا ہے۔ دوسری طرف سردار گروپ بلدیاتی ترمیمی آرڈیننس سامنے آجانے سے مزید دفاعی پوزیشن میں چلا گیا ہے ، پی ٹی آئی بھی اپنے اندرونی اختلافات کا شکار ہے ، مسلم لیگ ق کے پانچ اراکین پہلے ہی جنرل مجید ملک کے ساتھے الحاق کر چکے ہیں۔ لہٰذا عجیب صورتحال ہے۔ اپوزیشن بھی مکمل طور پر تقسیم ہے البتہ سردار گروپ ضلع کونسل میں اپنا حصہ لینے میں اب کامیاب ہوگا اور مخصوص نشستوں پر ضلع کونسل میں ان کی تین خواتین، ایک ٹیکنو کریٹ اور ایک اقلیتی کے کامیاب ہونے کے امکانات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.