الجھاو ہے زمیں سے جھگڑاہے آسماں سے۔۔۔تحر یر :پر وفیسر رفعت مظہر

الجھاو ہے زمیں سے جھگڑاہے آسماں سے۔۔۔تحر یر :پر وفیسر رفعت مظہر

    ہمارے کچھ سیاستدان اورلکھاری ہرکام میںکیڑے نکالنے کے موذی مرض میںمبتلاءہیں ۔یہ لوگ مخالفت برائے مخالفت کے ذریعے اپناقد اونچا کرنے کے لیے کوشاںرہتے ہیں ۔انتہائے خودپسندی کے شکار اِن لوگوںکو ملک سے کوئی غرض نہ قوم سے ،اُنہیںتو بس ایک ہی خبط کہ اُنہی کالکھااور کہاہی حرفِ آخر ۔ایسے ہی ایک لکھاری کے کالم ہمارے بھی زیرِ مطالعہ رہتے ہیں ۔ یوں تووہ اپنے آپ کوعاجز ،فقیر اورمزدورلکھتے ہیںلیکن اُن کے کالموںکو پڑھ کریوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے وہی ارسطوئے دَوراںہوں ۔ارسطونے ایک دفعہ کہا”میں دنیاکا سب سے زیادہ عقلمند انسان ہوں“۔ لوگوںنے پوچھا ”وہ کیسے؟ “۔ ارسطونے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”کیونکہ میںاپنے آپ کوعقلمند نہیںسمجھتا“۔لیکن لکھاری موصوف تواپنے آپ کونہ صرف عقلمند سمجھتے ہیںبلکہ اپنے کالموںکے ذریعے اِس کابَرملا اظہاربھی کرتے رہتے ہیں۔ پس ثابت ہواکہ وہ ارسطوسے بھی بڑے داناوحکیم ۔اُن کی ایک صفت یہ کہ اُن کی نگاہوںمیں کوئی جچتاہی نہیں۔ اُنہیںتقریباََ تمام سیاسی جماعتوںسے اللہ واسطے کابَیر ہے۔ وجہ شایدیہ کہ وہ اکابرینِ سیاست کی موجودہ ساری ”کھیپ“ کواحمق اورفاترالعقل سمجھتے ہیں ۔اُن کادوسرا نشانہ اقتصادی راہداری ،جس پرہر دوسرے دِن وہ ”گوہرافشانی“ کرتے رہتے ہیں اورتان ہمیشہ اِس پرٹوٹتی ہے کہ میاںنواز شریف کی بلائی گئی ہر اے پی سی دھوکااور ڈرامہ ہوتی ہے ۔ 19 جنوری کولکھاری موصوف نے ایک دفعہ پھر وزیرِاعظم صاحب کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیزکانفرنس کونشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ میاںبرادران کومبارک ہوکہ وہ جیت گئے اورپاکستان ہارگیا ۔اُنہوںنے لکھا ”مولانافضل الرحمٰن کواُنہوںنے منالیا ،سراج الحق کو خاموش کردیا ،پرویز خٹک کولاجواب کردیا ،شاہ محمودقریشی کوہمنوا بنالیا ،محمودخاں اچکزئی کوآنکھ مارلی ،حاصل بزنجوکو اشارہ کرلیا ،اعتزازاحسن سے اپنے حق میںتقریر کروائی ،افراسیاب خٹک کومصلحت پسندی کاشکاربنا لیا ۔۔۔۔ میرااصرار ہے کہ وزیرِاعظم کی گزشتہ اے پی سی کی طرح موجودہ اے پی سی بھی دھوکااور ڈرامہ ہے“۔ہم تومیاںنواز شریف صاحب کوبھولابھالا اورسیدھاسادا سیاستدان سمجھتے تھے لیکن وہ توبڑے ”کائیاں“ اورجلیبی کی طرح سیدھے نکلے۔ یہاںیہ سوال بھی اٹھتاہے کہ کیاہماری ساری سیاسی قیادت ”بدھو“ ہے جسے میاںنواز شریف صاحب نے بڑی آسانی سے دھوکا دے دیا ۔موجودہ اے پی سی میں تو وزیرِاعظم صاحب نے تمام سیاسی قائدین کے سوالوںکے خودتشفی آمیزجواب دیئے اورہر سیاسی لیڈراپنے تئیںمطم¿ن ہوکر باہر آیا ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیایہ تمام سیاسی دماغ مِل کربھی محترم لکھاری کے ایک دماغ جیسی اہلیت نہیںرکھتے؟۔ اگرواقعی ایساہی ہے توپھر اِس ”قحط الدماغ“ میںجب ہمیں ایک ”اعلیٰ دماغ“ نصیب ہوہی گیا ہے جس کے بارے میںکہاجا سکتاہے کہ”بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میںدیدہ ور پیدا“ تواُس کی قدرکرتے ہوئے اُسے فوراََ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پرفائز کردینا چاہیے تاکہ ملک وقوم کابھلاہو۔اگر امریکہ کوپتہ چل گیاتو شدیدخطرہ ہے کہ کہیںوہ ہمارے اِس ”انمول ہیرے“ پرقابض نہ ہوجائے اورہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔
     موصوف کواِس بات کابھی شکوہ ہے کہ اُنہوںنے تقریباََتمام سیاسی جماعتوںکا دَر کھٹکٹایا لیکن کسی نے بھی اُنہیںگھاس تک نہیںڈالی اِس لیے اُنہوںنے انتہائی کرب کے عالم میںلکھا ”میاںصاحبان اوراحسن اقبال صاحب کو جیت مبارک ہو ۔پختونخوا والوںکو تبدیلی کے نام پردائمی رسوائی اوربلوچستان والوںکو قوم پرست انقلاب کے نام پردائمی پسماندگی مبارک ہو “۔ہمیںیوںتو لکھاری موصوف سے دلی ہمدردی ہے کہ اُن کے رونے پیٹنے اورچیخنے چلانے کوسیاسی قائدین نے سِرے سے اہمیت ہی نہیںدی ،ہونا تویہ چاہیے تھاکہ کوئی ہاتھ تواُن کی اشک شوئی کے لیے اُٹھتالیکن ہوایہ کہ سبھی نے اقتصادی راہداری کے معاملے میںکہہ دیا ”قدم بڑھاو¿ نوازشریف ! ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔ میاںنواز شریف مطم¿ن ہوکر جنرل راحیل شریف کے ہمراہ سعودی عرب اورایران کے مابین اختلافات دورکرنے کے مبارک ”امن مِشن“ پر سعودی عرب اورایران کے دَورے پر روانہ ہوئے اورنوحہ خوانی کے لیے لکھاری موصوف کو”روتاکُرلاتا“ چھوڑگئے ۔
    اقتصادی راہداری کے بارے میں سبھی جانتے ہیںکہ اِس کی حیثیت ”گیم چینجر“ کی سی ہے اورقدرت نے پاکستان کوجو جغرافیائی حیثیت عطاکی اُس کا 68 سال بعدپہلی دفعہ درست سمت میںسفر کاآغاز ہونے جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے پڑوسی بھارت کے پیٹ میں مروڑاُٹھ رہے ہیںاور وہ قدم قدم پراقتصادی راہداری کی راہ میںرکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ وہ دفاعی لحاظ سے مضبوط ایٹمی پاکستان کومعاشی لحاظ سے مضبوط ہوتانہیں دیکھ سکتا ۔اگر ایساہو گیا(انشاءاللہ ایساہی ہوگا) توبھارتی چودھراہٹ کے سارے خواب چکناچور ہوجائیں گے۔ اُدھر امریکہ بہادربھی مشوش کہ پاکستان طوقِ غلامی گلے سے اتارکر نہ صرف چین کے قریب ترہوتا جارہا ہے بلکہ روس سے بھی رابطے میںہے ۔مس¿لہ یہاںبھی چودھراہٹ کا ،دُنیا کی واحدسُپرپاور بڑاچودھری (امریکہ) اِس تشویش میںمبتلاءکہ اُس کے خلاف کہیںایسا بلاک نہ بن جائے جوکَل کلاں اُس کی آنکھوںمیںآنکھیںڈال کربات کرنے کے قابل ہوجائے لیکن ہمارے لکھاری موصوف کی تشویش ذرا مختلف ۔اُنہیںیہ تشویش کہ اقتصادی راہداری کاپنجاب سے گزرنے والا”مشرقی روٹ“ کیوں؟۔ دراصل لکھاری موصوف کوصرف میاںبرادران ہی نہیں، پنجاب سے بھی نفرت ہے جس کاوہ گاہے بگاہے اپنے کالموںمیں اظہارکرتے رہتے ہیںالبتہ اندازیہ کہ جیسے وہ سب کچھ پنجاب کی حمایت میںلکھ رہے ہیں ۔اب جبکہ تمام سیاسی قیادت ایک صفحے پر، یہ طے ہوچکاکہ مغربی روٹ سب سے پہلے تیارہوگا ،اِس روٹ کی سڑک کوچار رویہ کی بجائے چھ رویہ کرنے کاعندیہ بھی اِس شرط کے ساتھ دیاجا چکا کہ چھ رویہ کرنے کے لیے زمین خیبرپختونخوا حکومت فراہم کرے گی البتہ رقم کی فراہمی مرکزی حکومت کے ذمہ ہوگی ،یہ بھی طے پاچکا کہ مشرقی روٹ، مغربی روٹ کے بعدبنے گاجس کی تکمیل میںتین ،چارسال کاعرصہ درکارہوگا ۔اِس کے علاوہ تمام صنعتی زونز صوبوںکی باہمی مشاورت سے بنائے جانے کافیصلہ بھی ہوچکا ۔پھر پتہ نہیںکیوں لکھاری موصوف ہر دوسرے ،تیسرے دِن اقتصادی راہداری پرموشگافیاں کرتے رہتے ہیں۔    

10 comments

  1. Thanks for the post dear, I love your website.

  2. Thanks for this amazing Post dear, I love your website.

Leave a Reply

Your email address will not be published.