مولانا قاری سعید احمد شہیدؒکی یاد میں ۔۔۔۔تحر یر :مو لا نا محمد انور

مولانا قاری سعید احمد شہیدؒکی یاد میں ۔۔۔۔تحر یر :مو لا نا محمد انور

ایک جامع الکمالات شخصیت
حمد و ثناءرب لم یذل کے واسطے جس نے کائنات کو بنایا ، درود و سلام سید کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور جنہوں نے کائنات و عالم کو سنوارا
” زیادہ دن نہیں گذرے یہاں کچھ لوگ رہتے تھے
    جو دل محسوس کرتا تھا علی الاعلان کہتے تھے
گریباں چاک دیوانوں میں ہوتا تھا شمار ان کا
    قضا سے کھیل کھیلتے تھے وقت کے الزام سہتے تھے“
ملک پاکستان کے عظیم رہنما علمی دینی شخصیت ،اسلاف کا چلتا پھرتا نمونہ تواضع و انکساری کے پیکر، باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر حال میں کلمہ حق کہنے والے نڈر مجاہد کی دینی، ملی، علمی اور جہادی خدمات کو قلم بند کرنے سے پہلے میں سوچ رہا تھا
”بیاں بھی ہو سکے گا تم سے حسن یار کا
عالم تو دیکھ اپنے دل بے قرار کا “
حقیقت یہ ہے کہ حضرت قاری شہید ؒ کا ذکر کرتے ہوئے دل ڈرتا ہے ایک ذرہ آفتاب کے بارے میں کیا لکھے گا اور ٹمٹماتا ہوا چراغ سورج کا سامنا کیسے کرے گا۔آپ حضرات نے علماءسے سنا ہوگا۔
ترجمہ: ”ولی ولی کو پہچانتا ہے“ہم جیسے عامیوں کا یہ قلم اس شہید ناموس صحابہ ؓ و اہلبیت ؓ کے مقام و مرتبہ پر کیا لکھ سکے گا پس اسی امید سے کہ شہیدؒ کے نام لیواﺅں میں نام تو ضرور شمار ہوگا۔
ولادت:
نام سعید احمد ولد محمد دین قوم آرائیں    جائے پیدائش گاﺅں دھولر تحصیل تلہ گنگ
تاریخ پیدائش 1973 ءہے
علمی سفر: آپ نے عصری تعلیم اپنے آبائی گاﺅں سے حاصل کی ۔ حفظ حضرت مولانا قاری نور محمد صاحب دامت برکاتہ و قاری الطاف الرحمن صاحب دامت برکاتہ سے کیا اور تجوید جامع ترتیل القرآن راولپنڈی قاری اکبر شاہ صاحب سے کی حضرت قاری صاحبؒ کو اللہ رب العزت نے انتہائی خوبصورت آواز سے نوازا تھا جب تلاوت کرتے تو لوگوں پرسکتہ کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اس کی زندہ مثال رمضان المبارک میں نماز تراویح پڑھانے سے ملتی تھی کہ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر شہر اور دیہاتوں سے امنڈ پڑتا اور حضرت کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتا ۔آ پ نے علمی سفر کو مزید جاری رکھتے ہوئے”صرف و نحو کی ابتدائی دینی تعلیم پنڈ سلطانی ،اٹک ،جنڈ اور قائد آباد کے مدارس دینیہ سے حاصل کی ابھی تشنگی باقی تھی تو علمی پیاس بجھانے کے لیے جامعہ اشرفیہ مانکوٹ کبیر والا کا سفر کیا مشکوة شریف تک کے اسباق وہاں سے پڑھے پھر ملک پاکستان کی عظیم نامور یونیورسٹی جامعہ خیرالمدارس ملتان سے دورہ حدیث اور سند فراغت حاصل کی۔
اخلاق و کردار:     آپ میں بردباری ، سخاوت، شفقت، ہمدردی، خیر خواہی بھری ہوئی تھی جو ایک بار آپ سے ملتا دوبارہ ملنے کی خواہش ضرور کرتا آپ صبر و حلم کے کوہ گراں تھے ایک مرتبہ ایک صاحب آپ سے الجھ پڑے اور آپ کا گریبان پکڑ لیا کچھ دن قطع کلامی رہی ایک دن وہ شخص سامنے گلی میں آرہا تھا یہ حلم و صبر کا پہاڑ خود ہی اس سے جاملا اور کہا زندگی کا پتہ نہیں آپ مجھ سے ناراض ہیں موصوف اپنوں کے ساتھ انتہائی مشفق، رحم دل تھے برادری والوں کا کوئی بھی تنازعہ ہوتا تو آپ ہی ان کو سلجھاتے کئی خاندان جو ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے حضرت کی کاوش سے آپس میں شیر شکر بن گئے جہاں آپ عوام الناس کے محبوب النظر تے وہاں محبوب العلماءبھی تھے بڑے بڑے اکابرینِ امت کو آپ سے والہانہ محبت تھی ایک مرتبہ امام اہلسنت قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا علی شیر حیدری شہیدؒ جو اسلام آباد میں تھے۔حضرت نے قاری صاحبؒ کو فون کیا کہ میں آپ کے پاس آرہا ہوں قاری صاحب ؒنے پر جوش استقبال سے آپ کو وصول کیا اور یہاں پہنچنے پر حیدری صاحب شہیدؒ کی ٹانگیں کافی دیر دباتے رہے ۔ناشتہ کے بعد حضرت نے اجازت چاہی حضرت قاری شہیدؒاپنے کارکنان کے ساتھ فاران ہوٹل تک ساتھ رہے ۔قائد اہلسنت جب قاری صاحب ؒسے جدا ہونے لگے والہانہ انداز میں بار بار حضرت قاری صاحبؒکی پیشانی کو بوسہ دیتے رہے اور محو سفر ہو گئے یہ فرشتہ صفت انسان جہاں دیگر خوبیوں کے مالک تھے وہاں انسانی ہمدردی بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔جب بھی کسی نے کتنے ہی مشکل مسئلہ میں مدد چاہی یہ انسانیت کا غم خوار فوراً لبیک کہتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے صرف تلہ گنگ ہی نہیں بلکہ ضلع ملتان اور دوردراز کے علاقوں کے لوگ اپنی حاجتیں لے کر آتے توآپ بغیر کسی طمع و لالچ کے ان کے ساتھ مسئلہ کے حل کے لیے بھر پور معاونت کرتے اپنے تو اپنے رہے غیر بھی آپ کے پاس اپنی ضروریات لے آتے اور یہ حلیم صفت انسان ان کا دست و بازو بن جاتے۔
خطابت:    اکلیم خطابت کے شہسوار سید عطا ءاللہ شاہ بخاریؒ سے کسی نے پوچھا شاہ جی خطابت کیا ہے موقع شب برات کا تھا آ پ نے جو اب دیا آتش بازی احباب ہنسنے لگے شاہ جی ؒ نے فرمایا ہنستے کیوں ہو خطابت آتش بازی نہیں تو اور کیا ہے اس میں پٹاخے، ہوائیاںاور انار پھل جڑیاں سب شامل ہیں خطیب وہی کامیاب ہوتا ہے جو عوام کو ان کی سطح سے اٹھا کر اپنی سطح پر لائے خداداد صلاحیتوں کے ساتھ جب آپ نے میدان خطابت میں قدم رکھا تو اپنے انداز بیاں کے بانی کہلائے پہلے جامعہ مسجد ابو بکر صدیقؓ تلہ گنگ غرب ، پھر جامعہ حنفیہ محمدیہ تلہ گنگ مکہ مسجد تلہ گنگ اور تحصیل تلہ گنگ چکوال کے علاوہ صوبہ پنجاب، پھر ملک پاکستان میں اپنے جادو بیاں کے بلند و بالا جھنڈے گاڑھ دیے جہاں جاتے اپنے انداز گفتگو سے لوگوں کے دلوں میں مقام بنا لیتے آپ کو قدرت نے ایسی خوبیوں سے نوازا تھا آپ بجا طور ہر دل عزیز شخصیت بن گئے اتنا فعال و متحرک عالم دین بہت کم لوگوں نے دیکھا ہوگا اکثر اوقات چار چار پانچ پانچ جلسوں میں خطاب اور ہنگامی حالات میں یہ تعداددس تک ہو جاتی مقدر کے اتنے بادشاہ تھے جس میدان میں قدم رکھتے چھا جاتے۔
دفاع صحابہؓ: شیخ حاجی یوسف شہید ؒ آف جھاٹلہ کی شہادت کے بعدایک نہ پُر ہونیوالا خلا پیدا ہوا حضرت شہیدؒ نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے دفاع ناموس صحابہؓ و اہلبیت ؓ کے مقدس مشن کے لیے میدان عمل میں اترے حضرت قاری صاحبؒ کی ذات میں اللہ رب العزت نے ایسی بے بہا اور شاندار صلاحیتیں جمع فرما دی تھیں۔ وسیع النظر عالم، روشن دماغ، روشن ضمیررہنما ، ہمت و استقامت کے کوہ گراں، جراّ ت و شجاعت کے سد آہنی جب کسی مسئلہ حقہ پر ڈت جاتے پرائے تو کیا اپنوں نے بھی اگر اختلاف رائے ظاہر کیا تو آپ کی دیانت و استقامت کو ذرا بھی جنبش نہ ہوئی اور وہ گردو پیش سے متاثر ہوئے بغیر اپنا سفر جاری رکھتے نیز” لا یخافون لو مت لا ئم“ ترجمہ: نہیں ڈرتے ملامت کرنیوالے کی ملامت سے “کی عملی تصویر تھے۔ڈر اور خوف کا ان کے قریب سے بھی گزر نہیں تھا جسے حق سمجھتے اسے برملا کہہ دیتے نیز ببانگ دہل کہتے باطل کو للکارنے کے لیے چلتے تو راستے کے بڑے بڑے پہاڑ بھی گردوراہ بن جاتے اہل باطل کی غرور قوت سے پر ، کھوپڑیوں کا سکون چھین لیتے ان کی آنکھوں سے نیند سکون سلب کر لیتے حضرت شہیدؒ بڑے بڑے جابر سلطانوں کے گریبانوں کو اپنی قوت گفتار سے تار تار کر دیتے۔ حضرت موصوف اہل حق کے لیے ابریشم اور اہل باطل کے لیے فولاد تھے جب بھی کبھی باطل پرستوں نے عقیدہ ختم نبوت ﷺ یا اصحاب ؓرسولﷺ پر طعن کیا تو حضرت شہید ؒ قانون کے دامن کو مضبوطی سے تھامے ہوئے علماءاو ر عوام الناس کو ساتھ ملائے اس فتنہ کی بھر پور سرکوبی کی۔
وفات:    حضرت شہید ؒ نے مکمل زندگی دفاع اصحاب ؓ رسول ﷺو اہلبیت ؓ میں گزاری تاحیات صحابہ ؓ کے ترانے گاتے رہے۔ اس راہ میں بڑی سے بڑی مصیبت کو بھی سینے لگایا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں طرح طرح کے الزامات سہے ،جیلیں کاٹیں،ماریں کھائیںمگر مشن جھنگوی ؒ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اور صحابہ ؓ کے گیت دہر کے سینے پر ثبت کرتے رہے بدقسمتی سے بدھ کی وہ شام آن پہنچی کہ راقم بعد نماز مغرب کنز الدقائق کے مطالعہ میں محو تھے اور دوسری جانب گلشن شہید ؒ میں سیرت امام المجاہدین کانفرنس کی تیاری میں مصروف کارکنا ن حضرت شہید ؒ کا شدت سے انتظار کر رہے تھے اور بار بار فون پر رابطہ ہو رہا تھا آخری بار فون پہ رابطہ ہوا تو حضرت نے فرمایا کہ بس دو منٹ میں پہنچا کسی کو کیا پتہ کہ دو منٹ کا انتظار نہیں بلکہ تا قیامت داغ فراق دینے والے ہیں اسی دوران مدرسہ کے صحن سے آواز گونجی کہ قاری صاحب پر حملہ ہو گیاکارکنان یہاں سے بھاگے وہاں پہنچے دو منٹ کا وقت دینے والا یہ علم و عمل کا درخشندہ ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پشت زمین سے بطن زمین کی طرف رحلت فرما گئے۔ اور امت مسلمہ ایک بہت بڑے عالم دین سے محروم ہو گئی۔ حضرت کی شہادت کی خبر برق کی طرح ملک پاکستان میں پھیل گئی۔انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حزن و غم کی حالت میں جمع ہوتا شروع ہو گیا۔جمعرات 23جنوری تقریباً 10بجے عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے پڑھائی۔ قبل العصر مولانا فضل احمد صاحب ؒ کے قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ حضرت قاری شہیدؒ کو اللہ رب العزت کے حوالے کر دیا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے حضرت قاری شہیدؒ کی تمام دینی کاوشوں کو قبول فرما کر ان لیے اجر کا باعث بنائے۔ جس مشن و کاز پر کام کر رہے تھے اس کو اور خصوصاً آپ کا لگایا ہوا گلشن جامعہ علویہ حیدریہ تا قیامت جاری و ساری رکھے ۔ آمین
حضرت مولانا قاری سعید احمد شہیدؒ
کہتے ہیں انداز بیاں اچھا تھا
کوئی کہتا ہے وہ انسان اچھا تھا
میدان جہاد میں بھی وہ سینہ سپر رہا
 کہتے ہیں وہ حافظ قرآن اچھا تھا
علماءحق کے سروں کا تاج تھا وہ شخص
ہر مشکل میں ان کا سائبان اچھا تھا
اللہ کرے علویہؓ حیدریہؓ پھلتا پھولتا رہے
اس چمن کا وہ باغبان اچھا تھا
نہ جھکا نہ بکا وہ کٹ گیا انور
کیا تھا اس نے جو عہدو پیماں اچھا تھا
چلتا رہا وہ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا
سعیدؒ تیرا مشن اور کاررواں اچھا تھا
انتخاب
مولانا محمد انور
مدرس جامعہ علویہ ؓحیدریہؓ

Leave a Reply

Your email address will not be published.