عورت ۔۔۔۔تحر یر :ام آ رش

عورت ۔۔۔۔تحر یر :ام آ رش

 معزز قارئین کرام :
ائسلام علیکم ایک بار پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں میرا آج کا موزوں ہے ”عورت“ میں آج اپنی پیاری بہنوں ،بیٹیوں کو بہت اہم اور ضروری تلقین کرنا چاہتی ہوں کیوں کہ آج کے دور میں ہم لوگ جدھر چل پڑے ہیں وہ راہ ہمیں دنیا میں بھی تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور آخرت میں بھی ہر صنف میں عورت کا کردار نمایا ں نظر آتا ہے ۔اس کی وفا شعاری،ایثار،قربانی،نیکی،مکاری،حیلہ سازی کو مختلف کہانیوں کا حصہ بنا یا گیا ۔ مگر یہ حوا کی بیٹی کب بھٹک گئی کدھر چل پڑی یہ پذیرائی کسی نے نہ کہی۔مجبوری تو کہیں عیاشی لیکن مطلب دونوں کا تباہی ۔ہمارے اسلام میں عورت کو آواز نیچی رکھنے کا حکم ملا ہے کے کوئی نا محرم تمہاری آواز نہ سن لے آج یہ حوا کی بیٹی آواز نیچی تو رکھتی ہے مگر اپنے ماں باپ کے سن لینے کے ڈر سے بہن بھائیوں کے پکڑے جانے کے ڈر سے آواز سناتی ہے تو کسے اس نامحرم کو جسے میرے رب نے منع کیا ہے ۔یہ خرابی آج سے نہیں مگر آج کچھ زیادہ ہے ۔کیونکہ ماں باپ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھائیوں کی عزت سے کھیلنے کے لئے ان حوا کی بیٹیوں کے ہاتھ کھلونا جو لگ گیا اس خطر ناک کھلونے کا نام موبائل فون ہے جس کی ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت ہو گئی ہے اس کے فوائد دیکھے جائیں تو ئی مہینوں کا کام ہفتوں ،ہفتوں کے کام دنوں ،گھنٹوں اور منٹوں میں ہونے لگے ہیں ،مگر آج کی نوجوان نسل نے اور تو اور شادی شدہ لوگوں نے اپنے لئے اسے وقت گزاری کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔
حدیث مبارکہ ہے کہ ”وہ عورت جو اپنے شوہر کے گھر کے جانے کے بعد اس کے کام کرتی ہے ،اس کے بچوں کی پرورش کرتی ہے تو سارا دن وہ عبادت میں رہتی ہے “
تو میری پیاری بہنوں کدھر چل پڑی اس راہ پر جس پہ بربادی کے سوا کچھ نہیں ۔براہ مہربانی اپنے قدم ڈگمگانے سے روک لو اپنے رب کو راضی کر لو ورنہ کل آپ کی بیٹی ۔بہن بھی وہی کرے گی جو غلطی آپ کر رہی ہیں، جو مرد عورت کو کھلونا سمجھ کر کھیل کر دل بہلاتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا کوئی اپنا بھی کسی کا کھلونا تو نہیں بنا ہوا ۔اے ابن آدم تو یہ بھول گیا کہ اللہ نے اسے کس لئے بھیجا اور وہ کن چکروں میں پڑ گیا ۔میں مانتی ہوں کہ میرے قلم سے سخت الفاظ نکلے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے ۔آﺅ اپنا احتساب کریں خود کو ٹھیک کریں ۔میری بہنوں سے گزارش ہے کہ عورت عزت کے بغیر اس پھول کی طرح ہے جو خوشبو کے بغیر مزاروں اور قبروں پہ پڑے ہوتے ہیں ۔
ہم خود تراشتے ہیں منازل پہ سنگ راہ
    ہم وہ نہیں جنہیں زمانہ بنا گیا
 میرے کالم کا خلاصہ کہ اپنے بچوں اور بیچوں کو اس ناسور (موبائل) سے دور رکھیں اور ان معصوم ذہینوں اور آنے والی نسلوں کو بھٹکنے سے بچائیں
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published.