بلدیاتی انتخاب کے شیڈول میں بار بار تبدیلی کے باعث امیدوار تذبذب کا شکار

بلدیاتی انتخاب کے شیڈول میں بار بار تبدیلی کے باعث امیدوار تذبذب کا شکار

تلہ گنگ:بلدیاتی انتخاب کے شیڈول میں بار بار تبدیلی کے باعث امیدواراب بھی تذبذب کا شکار ہیں جبکہ شہریوں میں انتخابات ہونے یا نہ ہونے پر شرطیں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول میں تبدیلوں کی وجہ سے یونین کونسل کی سطح پر انتخاب میں حصہ لینے والے چیئر مین، وائس چیئر مین اور کونسلرز کے امیدوار تذبذب کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ووٹر بھی کسی بھی دھڑے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے جبکہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہرین بھی ”دیکھو اور انتظار کرو “کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کے جاری حالیہ شیڈول کے بعد بلدیاتی انتخابات کے متوقع امیدواروں نے اپنی الیکشن مہم شروع تو کر دی ہے اور لوگوں کی خوشی غمی میں شرکت کرنے لگے ہیں۔اس دوڑ میں شامل سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہنما بھی گروپ بندی میں جت گئے ہیں مگر ایک بار پھر شیڈول میں تبدیلی کے خدشے کے باعث ابھی تک امیدواروں کی مہم میں روایتی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ضلع چکوال کی 71یونین کونسلوں اور چھ میونسپل کمیٹیوں کے وارڈز میں بلدیاتی انتخابات میں 31اکتوبر کو ہونگے۔ الیکشن کمیشن نے ضلع چکوال کو پہلے مرحلے میں رکھا ہے اور اس کیلئے ابتدائی شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے اور ا سکے مطابق سات ستمبر سے گیارہ ستمبر تک کاغذات نامزدگی داخل کرایے جائیں گے جبکہ کاغذات کی جانچ پڑتال اور اپیلوں کا مکمل ہونے کے بعد یکم اکتوبر کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔ جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات 19نومبر اور تین دسمبر تک مکمل کیے جائیں گے۔ ضلع چکوال میں مقابلہ مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف اور سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس گروپ کے درمیان ہے۔ دیگر تمام بڑی سیاسی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، پاکستان عوامی تحریک اور دیگر مقامی گروپ ان تینوں بڑی جماعتوں اور گروپ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرین گے۔ پیپلز پارٹی سردار غلام عباس کی حمایت کر سکتی ہے جبکہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ جائے گی۔جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ بھی اپنے امیدوار میدان میں اتار رہی ہے جبکہ دیگر ہم خیال سیاسی گروپوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ اور بات چیت کی جا رہی ہے ، پاکستان عوامی تحریک بھی سردار غلام عباس گروپ یا پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کے امکانات ہیں، بہرحال جماعتی بنیادوں پر پہلی دفعہ انتخابات ہو رہے ہیں لہٰذا سیاسی جماعتوں کو صف بندی کا موقع مل گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.