حجاب، بہترین محافظ…تحریر: مریم عارف

حجاب، بہترین محافظ…تحریر: مریم عارف

hijab

اسکول کی سابقہ نوجوان ٹیچر، کالج کے نوجوان ہم عمر طلبہ کو پہلے روز لیکچر دے کر آئی تو کہنے لگیں کہ آج خود کو کافی حد تک محفوظ محسوس (سیف فیل) کیا۔ ہم نے حیرت و شش و پنج میں ان سے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے، تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھی بہت ڈر لگا تھا تاہم میں مکمل پردہ کر کے گئی تھیں جس سے مجھے کسی بھی پریشانی کا سامنا نہیںکرنا پڑا۔ وہ مزید کہنے لگیں کہ شاید حجاب سے ہر لڑکی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ کوئی حجاب لینے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ مذکورہ ٹیچر کے الفاظ یقینا حقیقت سے قریب تر تھے۔ ان کی زندگی کا موجودہ تجربہ (پریکٹیکل لائف)کا مختصر سا یہ حال یقینا ہمیں ایک بہت اچھا پیغام دے رہا ہے۔ عام تصور کیا جاتا ہے کہ کالج کی زندگی بہت تفریحی اور کھیل کود کی ہوتی ہے۔ جس میں لڑکے زیادہ اور لڑکیاں اپنی جگہ تفریحی کرتے ہیں۔ تاہم اس دور میں جہاں سب سے بڑی پریشانی لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کو اٹھانی پڑتی ہے وہیں اس سے کہیں زیادہ پریشانی کا سامنا ایک نوجوان ہم عمر ٹیچر کو ہوتا ہے، تاہم اگر پردہ کرلیا جائے اور خود کو مکمل طور پر ڈھک لیا جائے تو گویا طلبہ کی ذہنی گندگی کو کافی حد تک صاف کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے طلبہ نہ صرف چانس مار رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنی ٹیچر کو ایک حد تک نیچا بھی دیکھا دیں۔ علاقے اور گھر کے ماحول سے بگڑے ان طلبہ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کالج پر اپنا مکمل اثر و رسوخ جما کر رکھیں تاہم ایک پردے میں لپٹی ٹیچر، لیکچرار سے وہ بہت محتاط رہتے ہیں۔ پردہ یا حجاب عورت کی بنیادی زینت میں شمار کیا جاتا ہے۔ اندر اور باہر، اپنے اور پرائے کے فرق کے ساتھ حجاب کو اسلامی ممالک اور مغرب میں اعلیٰ برتری حاصل ہے۔ پچھلے کئی سالوں اور مہینوں میں متعدد بار فضا اس ان جملوں سے گونجتی رہی کہ فلاں مسلم پسند ممالک نے حجاب پر پابندی عائد کردی۔ حجاب پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر اتنے ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ یونیورسٹیوں میں حجاب میں ڈھکی طالبہ کی انٹری بند ہوگی۔ پارلیمنٹ میں ان کو سیٹیں نہیں ملیں گی۔ کسی نے پابندی عائد کی تو کوئی اس پابندی کو چیلنج کرتا نظر آیا۔ پاکستان میں بھی مذہبی جماعتوں کے خواتین ونگ پابندی خلاف سراپا احتجاج نظر آئے۔ اس سے سب کے باوجود مغرب کی مسلم خواتین نے حجاب جیسی عظیم نعمت کو نہیں چھوڑا۔ ایک لمحہ کے لئے اگر سوچا جائے تو کہ آخر ایسا رکھا ہے اس حجاب میں کہ وہاں کی خواتین اس قدر روشن خیالی معاشرے میں رہتے ہوئے، ہر طرح کی آزادی کے باوجود وہ پردے کو خود کے لئے سب کچھ سمجھتی ہیں۔ وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ شاید عورت کا مطلب مخفی رہنا ہے پس وہ اسی کو اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ ایک غیر مصدقہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ مغربی ممالک کے کسی شاپنگ سینٹر میں ایک مسلم ملک کی روشن خیال لڑکی کاﺅنٹر پر کھڑی خریداروں کے سامان کو جانچ پڑتال کر رہی تھی۔ اتنے میں وہاں مکمل حجاب اوڑھے ایک خاتون نے آئیں اور خریداری کا سامان رکھتے ہوئے بل کا انتظار کرنے لگی۔ کاﺅنٹر پر موجود اس لڑکی نے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے روایتی انگلش میں کہا کہ ”تم جیسی انتہا پسند مسلم ممالک سے آئی ہوئی خواتین کی وجہ سے آج ہمیں یہاں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر اتنا ہی شوق ہے مذہب پر عمل کرنے کا تو اپنے ملک میں جا کر کریں“۔ اس کے جملے سن کر اس عورت نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا اور کہا میں تو یہیں کی مقامی ہوں آپ جیسی مسلم ممالک سے آنے والی مغربی سوچ کی لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لہذا آپ اپنے ملک تشریف لے جائیں۔ کس قدر شرم کا مقام ہے ایسی لڑکیوں اور خواتین پر جو خود کو مسلم کہلوانے کے باوجود مسلم نظر نہیں آتیں۔ جس سے بھی حجاب کی بات کی جائے تو اسے فوراً مغربی کلچر ،وہاں کی اعلیٰ تعلیم، روشن خیالی اور جرائم سے پاک ملک یاد آجاتا ہے۔ حالانکہ صد قابل ترس ہے وہاں کہ کلچر کہ جہاں 18 سال تک لڑکی اپنے والدین کی بات کی پابند ہوتی ہے اس کے بعد نہ باپ بیٹی کو کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ماں کو ۔ کون کس سے مل رہا ہے اور کیوں مل رہا کسی کو قانونی طور پر اجازت نہیں دی جاتی۔ ایک باپ اور ایک ماں جب بوڑھے ہوتے ہیں تو تب انہیں یہ اندازا لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ ان سے بہتر حیوان ہیں یا وہ ۔ ہم مسلم ہیں اور مسلمانوں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں ان کے چہرے سے کلمہ طیبہ کا نور جھلکتا ہے۔ اس کلمہ طیبہ کی لاج رکھتے ہوئے سیرت صحابیات کو آئیڈیل بناتے ہوئے ہمیں خود کی اپنی شناخت کو قائم رکھنا ہوگا۔ ہمیں مغربی کلچر اور ان کے جیسا بن کر اپنی شناخت نہیں مٹانی چاہیے۔ حجاب ہمارا زیور اور ہمارا مان ہے۔ اسی میں ہی ہماری حفاظت ہے۔ جن کو یہ بات درست نہیں لگتی وہ ایک بار یہ ضرور سوچیں کہ آخر اتنی پابندیوں کے باوجود مغربی مسلم دوشیزائیں کیوں اس حجاب کو نہیں چھوڑتیں۔ ایک مرتبہ سوچئے گا ضرور۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.